تھانہ کہوٹہ2 کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمہ کو ہائی پروفائل قراردے دیا گیا

راولپنڈی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی میاں عمران رحیم نے تھانہ کہوٹہ کے علاقے میں 2 کم سن بچوں سے جنسی زیادتی کے مقدمہ کو ہائی پروفائل قرار دیتے ہوئے تفتیشی افسر کو ہدایت کی ہے کہ قانون کے مطابق لائن آف انکوائری جاری رکھتے ہوئے تفتیش کو مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تاکہ ذمہ دار ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے یہ ہدایات انہوں نے تھانہ کہوٹہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 376(3), 375A ,371 A/B اور ٹریفکنگ اِن پرسنز (ترمیمی) ایکٹ 2025 کے تحت درج مقدمہ

میں جاری کیں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ کے وژن کا بنیادی مقصد کمزور، مظلوم اور بالخصوص بچوں کو بروقت اور مؤثر انصاف کی فراہمی ہے ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی نے تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لینے اور قانونی خطوط پر تفتیش کو آگے بڑھانے کے لئے تفتیشی افسر کو مکمل ریکارڈ سمیت طلب کیا تفتیشی افسر نے ریکارڈ کے ہمراہ پیش ہو کر اب تک کی تفتیشی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی بریفنگ کے بعد ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر راولپنڈی

نے تفتیشی افسر کو قانون کے تقاضوں کے مطابق لائن آف انکوائری جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تفتیش کو مکمل طور پر میرٹ، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ منطقی انجام تک پہنچایا جائے، تاکہ ذمہ دار ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دلوائی جا سکے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بچوں کے خلاف جرائم میں کسی بھی قسم کی غفلت، لاپرواہی یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ریاست ہر حال میں مظلوم اور بے سہارا بچوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تھانہ کہوٹہ پولیس

نے حالیہ سال 26 دسمبر کو متاثرہ بچی کے بیان پر iii-376 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس کے مطابق 11 سالہ نور فاطمہ اور اس کے 9 سالہ بھائی حیدر کو ان کی والدہ فوزیہ نامی عورت کے پاس چھوڑ کر غائب ہوگئی جہاں فوزیہ نے بچوں کو لاوارث دیکھتے ہوئے حرام کاری اور بدکاری کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔
۔