اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے، اور یہ خبر اب شہریوں کے لیے حیران کن نہیں رہی بلکہ مایوسی کی ایک اور قسط بن چکی ہے۔ تازہ اعلان میں حکومت نے مقامی حکومت کے قانون میں ترامیم، نئے نظام اور وارڈز کی ازسرِنو ترتیب کو جواز بنایا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی اصلاحات ہیں یا پھر اپنی ہی بدانتظامی کو چھپانے کا ایک نیا بہانہ؟
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا التوا کوئی نئی بات نہیں۔ 2022 میں انتخابات کا اعلان ہوا مگر مردم شماری کو جواز بنا کر روک دیا گیا۔ اس کے بعد کبھی قانون میں تبدیلی، کبھی حد بندیوں اور کبھی انتظامی تیاریوں کی کمی کو وجہ بنایا گیا۔ 2023 اور 2024 میں بھی یہی سلسلہ چلتا رہا۔ ہر بار کہا گیا کہ اب تاخیر نہیں ہوگی، مگر ہر بار نئی تاریخ کے ساتھ نیا عذر سامنے آ گیا۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسئلہ انتخابات کرانے کا نہیں بلکہ انتخابات سے بچنے کا ہے۔
اس بار سب سے بڑا بہانہ وارڈز کی تعداد میں اضافہ اور نئی حد بندیاں ہیں۔ پہلے ہی ہر یونین کونسل میں 9 وارڈز موجود تھے جو انتظامی طور پر کافی سمجھے جاتے تھے۔ اب اچانک وارڈز بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جس کا نہ عوام نے مطالبہ کیا اور نہ ہی کوئی واضح ضرورت سامنے آئی۔ اس فیصلے نے اصلاح کے بجائے مزید الجھن پیدا کر دی ہے اور انتخابی عمل کو ایک بار پھر غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنا دیا ہے۔
بدانتظامی کی انتہا یہ ہے کہ پہلے سے موجود وارڈز میں بھی شدید بے ترتیبی پائی جاتی ہے۔ کچھ وارڈز آبادی اور رقبے کے لحاظ سے حد سے زیادہ بڑے ہیں جبکہ کچھ انتہائی چھوٹے۔ کہیں ہزاروں ووٹرز ایک ہی وارڈ میں ڈال دیے گئے ہیں تو کہیں چند سو ووٹرز پر پورا وارڈ قائم کر دیا گیا ہے۔ اس سے نمائندگی کا اصول بری طرح متاثر ہو رہا ہے اور عوام خود کو غیر منصفانہ تقسیم کا شکار محسوس کر رہے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال ووٹر لسٹوں کی ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں کے ووٹ ان کے اپنے وارڈ کے بجائے کسی اور وارڈ یا یونین کونسل میں درج ہیں۔ ایک ہی گلی کے لوگ مختلف وارڈز میں بکھرے ہوئے ہیں، کہیں والد کا ووٹ ایک وارڈ میں ہے تو بیٹے کا دوسرے میں۔ اس بدنظمی نے عوام کو شدید کنفیوژن میں ڈال دیا ہے اور انتخابی شفافیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکومت اگر واقعی نچلی سطح پر جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اس بدانتظامی کو تسلیم کرے۔ وارڈز کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ وارڈز کو منطقی، آبادی کے لحاظ سے متوازن اور عوام کی سہولت کے مطابق بنانا چاہیے تھا۔ نئی حد بندیوں کے نام پر وقت ضائع کرنے کے بجائے پہلے سے طے شدہ نظام کے تحت انتخابات کرا کے بعد میں اصلاحات لانا زیادہ دانشمندانہ قدم ہوتا۔
اسلام آباد کے شہری ٹیکس دیتے ہیں، ریاستی قوانین پر عمل کرتے ہیں اور ملک کے دارالحکومت میں رہتے ہوئے بھی بنیادی جمہوری حق سے محروم ہیں۔ بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے گلی، محلے، صفائی، پانی اور سڑکوں جیسے مسائل مکمل طور پر افسر شاہی کے رحم و کرم پر ہیں، جن کا کوئی براہِ راست عوامی احتساب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہری مسائل جوں کے توں ہیں اور شکایات فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندہ نہ ہونے کا فائدہ ہمیشہ طاقتور حلقوں کو ہوتا ہے، عام شہری کو نہیں۔ منتخب نمائندہ سوال کرتا ہے، فنڈز مانگتا ہے اور عوام کی آواز بنتا ہے، اور شاید یہی بات کچھ لوگوں کو ناگوار گزرتی ہے۔ اسی لیے بلدیاتی انتخابات کو کبھی قانون، کبھی نقشوں اور کبھی اصلاحات کے نام پر مؤخر کر دیا جاتا ہے۔
اسلام آباد جیسے پڑھے لکھے اور باشعور شہر میں بلدیاتی انتخابات کا بار بار التوا صرف بدانتظامی نہیں بلکہ جمہوری ناکامی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت بہانوں سے نکلے، وارڈز اور ووٹر لسٹوں کی بدنظمی درست کرے اور صاف و شفاف طریقے سے بلدیاتی انتخابات کرائے۔ عوام مزید وعدوں کے نہیں، عملی اقدام کے منتظر ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو سوال صرف یہ نہیں رہے گا کہ انتخابات کب ہوں گے، بلکہ یہ ہو گا کہ کیا واقعی عوام کو ان کا حق دینے کا کوئی ارادہ بھی ہے یا نہیں۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ