تھانہ کہوٹہ کے علاقہ گرڈ اسٹیشن میں 11 سالہ معصوم بچی کے جنسی استحصال کے افسوس ناک واقعہ پر پولیس متحرک ہوگئی۔ ایس پی صدر ڈویژن انعم شیر نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تھانہ کہوٹہ کا ہنگامی دورہ کیا اور ایس ڈی پی او کہوٹہ اور ایس ایچ او عامر خان سے کیس کی اب تک کی پیش رفت پر تفصیلی رپورٹ طلب کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کیس کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے اور سائنسی و ٹھوس شواہد کی بنیاد پر تمام ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
ایس پی صدر نے ہدایت کی کہ متاثرہ بچی کے والد اور والدہ کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس معاملے میں کسی بھی سطح پر ہونے والی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔انعم شیر کا کہنا تھا کہ راولپنڈی پولیس خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر “زیرو ٹالرنس” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ایسے درندے جو معصوم جانوں کو نشانہ بناتے ہیں، وہ معاشرے کا ناسور ہیں اور انہیں قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔