معروف ادیب Javed Akhtar اور اسلامی اسکالر Mufti Shamail Nadvi کے درمیان خدا کے وجود سے متعلق گفتگو ہوئی، جس میں اسلامی مؤقف کو نہ صرف پیش کیا گیا بلکہ عقلی اور فطری دلائل سے ثابت بھی کیا گیا۔
مفتی شمائل ندوی نے کائنات کے منظم نظام کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ زمین، سورج، چاند اور ستاروں کا ایک مقررہ قانون کے تحت چلنا محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ نظام خودبخود ہوتا تو اس میں بے ترتیبی نظر آتی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں ہر شے اپنے متعین دائرے میں کام کر رہی ہے، جو ایک قادر اور حکیم خالق کے وجود کا ثبوت ہے۔
انہوں نے انسانی جسم کی مثال دے کر اپنے مؤقف کو مزید مضبوط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دل کی دھڑکن، سانس کا نظام، دماغ کی کارکردگی اور آنکھ کی بناوٹ اس درجے کی پیچیدگی رکھتی ہے کہ اسے محض اتفاق یا قدرتی عمل قرار دینا عقلاً درست نہیں۔ یہ سب ایک اعلیٰ تخلیق کار کی کاریگری کو ظاہر کرتا ہے۔
اخلاقیات کے حوالے سے مفتی شمائل ندوی نے یہ ثابت کیا کہ ہر انسان کے اندر ضمیر موجود ہے جو اسے اچھائی اور برائی میں فرق سکھاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اخلاقی شعور کسی انسانی قانون نے نہیں دیا بلکہ یہ فطری طور پر انسان کے اندر رکھا گیا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کی علامت ہے۔
سائنس کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائنس کائنات کے قوانین دریافت کرتی ہے، مگر ان قوانین کو بنانے والے کی نفی نہیں کرتی۔ بلکہ یہ قوانین خود اس بات کا ثبوت بنتے ہیں کہ کوئی عظیم خالق موجود ہے جس نے یہ سب نظام قائم کیا۔
مجموعی طور پر مفتی شمائل ندوی نے اپنے دلائل کو مثالوں، مشاہدے اور عقلی نکات کے ذریعے ثابت کیا، جس سے خدا کے وجود پر اسلامی مؤقف مضبوط اور واضح ہو کر سامنے آیا۔