انجینئر بخت سید یوسفزئی –
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
یہ واقعہ دل دہلا دینے والی اور ہر باشعور پاکستانی کے لیے باعثِ شرم ہے کہ کراچی ایئرپورٹ پر بیرونِ ملک جانے والے ایک نوجوان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا گیا۔ ایک ایئرلائن کے عملے نے اس کا پاسپورٹ پھاڑ دیا، حالانکہ وہ نوجوان اپنی محنت کی کمائی سے ویزا اور ٹکٹ حاصل کرکے بہتر مستقبل کی امید لیے سفر کے لیے تیار تھا۔ ایسے واقعات صرف ایک فرد کو نہیں توڑتے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔
متاثرہ نوجوان کے مطابق اس نے تقریباً دس لاکھ روپے دے کر ویزا حاصل کیا تھا اور پچاسی ہزار روپے کا ٹکٹ خریدا تھا۔ یہ رقم کسی امیرزادے کے لیے شاید معمولی ہو، مگر ایک عام پاکستانی نوجوان کے لیے یہ اس کی زندگی کی جمع پونجی ہوتی ہے۔ وہ برسوں محنت کرکے، قرض لے کر یا زمین زیور بیچ کر یہ خواب پورا کرتا ہے کہ شاید بیرونِ ملک جا کر اپنے خاندان کی حالت بدل سکے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی نوجوان اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لیے بیرونِ ملک جانا چاہتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ کیا یہ جرم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم، اپنے والدین کو بہتر علاج اور اپنے گھر کو باعزت زندگی دینا چاہتا ہے؟ بدقسمتی سے ہمارے نظام میں اکثر یہی خواہش جرم بنا دی جاتی ہے۔
آج کا پاکستانی نوجوان پہلے ہی بے روزگاری، مہنگائی اور ناانصافی کا شکار ہے۔ ملک میں مواقع محدود ہیں اور سفارش و تعلقات کے بغیر آگے بڑھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی نوجوان ہجرت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو یہ اس کی مجبوری ہوتی ہے، شوق نہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جب یہی نوجوان اپنے ملک کے ایئرپورٹ پر قدم رکھتا ہے تو اسے عزت کے بجائے تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پاسپورٹ جیسے قومی دستاویز کی توہین دراصل اس فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی توہین ہے۔ یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کی شناخت ہے۔
پاکستانی عوام کو گزشتہ پچاس برسوں سے یہ شکایت رہی ہے کہ ہمارے پاسپورٹ کی دنیا میں عزت نہیں۔ مگر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عزت کا سفر ہمیشہ گھر سے شروع ہوتا ہے۔ جب اپنے ہی ملک میں پاسپورٹ کی کوئی وقعت نہیں، تو دنیا ہمیں کیوں عزت دے گی؟
پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور قومی پرچم کسی فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتے بلکہ یہ پوری قوم اور ریاست کی علامت ہوتے ہیں۔ ان کی توہین صرف ایک شخص کا جرم نہیں بلکہ قومی وقار پر حملہ ہے۔ آئینِ پاکستان میں قومی علامات کی بے حرمتی پر سزا کا تعین موجود ہونا چاہیے اور اگر ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟
جس شخص نے پاسپورٹ پھاڑا، اگر یہ واقعہ ثابت ہو جائے، تو اسے محض ایک ملازم کی غلطی قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عمل غداری کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ اس نے ریاست کی شناخت کی توہین کی ہے۔ ایسے افراد کو نشانِ عبرت بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی سا واقعہ لگ سکتا ہے، مگر اس کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ اس سے نوجوانوں میں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ یہ ملک انہیں عزت دینے سے قاصر ہے۔ جب یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے تو پھر حب الوطنی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
ریاست کا بنیادی فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی عزت، جان اور مستقبل کا تحفظ کرے۔ اگر ریاست اپنے ہی ایئرپورٹس پر شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتی تو پھر بیرونِ دنیا میں ان کی کیا حفاظت کرے گی؟ یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔
ایسے واقعات سے نظام پر اعتماد ختم ہوتا ہے۔ لوگ قانون اور اداروں سے امید چھوڑ دیتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں ریاست کمزور پڑ جاتی ہے۔ مضبوط ریاستیں اپنے شہریوں کی عزت سے پہچانی جاتی ہیں، نہ کہ صرف نعروں سے۔
یہاں ایک مثال قابلِ غور ہے کہ دبئی ایئرپورٹ پر ایک برٹش پاکستانی کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور اس کا پاسپورٹ اچھال دیا گیا۔ اس نوجوان نے خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اپنا حق مانگا اور برٹش ایمبیسی سے رابطہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نہ صرف اس افسر سے معافی منگوائی گئی بلکہ اسی وقت اسے نوکری سے بھی فارغ کر دیا گیا۔
یہ فرق واضح کرتا ہے کہ ریاستیں اپنے شہریوں اور اپنی دستاویزات کی کس طرح حفاظت کرتی ہیں۔ برطانوی پاسپورٹ کی توہین کو ایک سنگین جرم سمجھا گیا، جبکہ ہم اپنے پاسپورٹ کی توہین کو معمولی واقعہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیتی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی ایسی مثالیں قائم کی جائیں۔ اگر کسی نے پاسپورٹ کی توہین کی ہے تو اس سے متاثرہ نوجوان کے تمام اخراجات، ویزا، ٹکٹ اور ذہنی اذیت کا ازالہ وصول کیا جائے اور اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔
یہ معاملہ صرف ایک نوجوان کا نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کا ہے جو روزانہ ایئرپورٹس، سفارت خانوں اور مختلف اداروں میں تذلیل کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر آج خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہ رویہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔
اسلام بھی ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوم کی مدد کا حکم دیتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ظلم کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “ظلم سے بچو، کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب ہوگا۔” یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وقتی طاقت اور اختیار ہمیشہ نہیں رہتا، مگر ظلم کا انجام بہت سخت ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکامِ بالا اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کریں۔ اگر الزام درست ثابت ہو تو کسی دباؤ یا سفارش کے بغیر ذمہ داران کو سزا دی جائے۔ یہی انصاف ہے اور یہی ریاست کی بقا کا راستہ ہے۔
پاکستانی نوجوان ملک کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ اگر یہی سرمایہ مایوسی، ذلت اور ناانصافی کا شکار ہو جائے تو ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ عزت دینے سے ہی وفاداری جنم لیتی ہے، زبردستی سے نہیں۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پاسپورٹ کی عزت دراصل پاکستان کی عزت ہے۔ اگر ہم نے اپنے ہی گھر میں اس کی حفاظت نہ کی تو دنیا سے عزت کی توقع محض ایک خواب ہی رہے گی۔ اب فیصلہ ریاست کو کرنا ہے کہ وہ خواب دیکھتی رہے گی یا عملی قدم اٹھائے گی۔