پاکستان میں تعلیم کا بنیادی مسئلہ یہ نہیں کہ نصاب پرانا ہے بلکہ یہ ہے کہ نصاب کو بار بار اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے جیسے اس سے کوئی بڑی تعلیمی انقلابی پیش رفت ہونے والی ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تبدیلیوں سے کوئی خاص بہتری نہیں آتی۔ زیادہ تر صورتوں میں ایک باب آگے کر دیا جاتا ہے، دوسرا پیچھے، کہیں چند سطریں کم، تو کہیں تھوڑی تفصیل بڑھا دی جاتی ہے۔ یعنی اصل ڈھانچے میں کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتااور یوں محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کا مقصد صرف نیا نصاب دکھانا ہوتا ہے نہ کہ بچوں کے تعلیمی معیار کو حقیقی معنوں میں بہتر بنانا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تبدیلیوں میں کبھی یہ مقصد شامل نہیں ہوتا کہ رٹا سسٹم ختم کیا جائے اور بچوں کو تحقیق، سوال، مشاہدہ اور عملی تربیت کی جانب لایا جائے۔
نصاب کی تبدیلی تو بار بار ہوتی ہے لیکن پورا نظامِ تعلیم وہی پرانا رہتا ہے۔ وہی پرانا انداز”سبق یاد کرو، اگلے دن سنا دو“آج بھی مضبوطی سے قائم ہے۔ نصاب میں چاہے کتنی ہی اصلاحات کا دعویٰ کیا جائے، جب تک امتحانی نظام، اساتذہ کی تربیت، کلاس روم کا ماحول اور ہر سبق کا طریقہ تدریس تبدیل نہیں ہوگا، تب تک نئی کتاب صرف نئے کور تک محدود رہتی ہے، ذہنوں میں کوئی اصل تبدیلی نہیں آتی۔ یوں لگتا ہے کہ ہم کتابیں بدل رہے ہیں، سوچ نہیں۔
تعلیم کی وہ اصلاح جو آج سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ عملی تربیت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں عملی مشق کو وہ حیثیت نہیں دی جاتی جو جدید دنیا میں بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے اسکولوں میں سائنسی تجربات زیادہ تر کتاب کے صفحات میں ہی رہتے ہیں جبکہ بچوں کے ہاتھ تجربہ گاہ کے آلات تک کم ہی پہنچتے ہیں۔ سب سے افسوس ناک بات کمپیوٹر کی تعلیم کے حوالے سے ہے۔ ہم بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم کتاب سے دیتے ہیں، کمپیوٹر سے نہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ کمپیوٹر کے حصہ جات، سافٹ ویئر اور استعمال کے طریقوں کو یاد تو کر لیتا ہے لیکن عملی طور پر ایک فائل بنانا بھی نہیں جانتا۔
دنیا اس وقت ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ہمارے اسکولوں میں کمپیوٹر لیب یا تو موجود نہیں ہوتی یا بچوں کو مہینے میں چند مرتبہ ہی وہاں لے جایا جاتا ہے۔ عملی تربیت کی غیر موجودگی میں بچے مستقبل کی ڈیجیٹل دنیا کے مقابلے میں کمزور بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر ہمیں واقعی اپنے بچوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے تو کمپیوٹر کی تعلیم لازماً لیب میں ہونی چاہیے، جہاں بچہ خود کی بورڈ پر ٹائپ کرے، فائل بنائے، سافٹ ویئر استعمال کرے اور انٹرنیٹ کو مثبت اور محفوظ طریقے سے چلانا سیکھے۔
پالیسی کے عدم تسلسل نے تعلیم کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ایک حکومت یکساں نصاب کا تجربہ کرتی ہے، دوسری اسے روک دیتی ہے۔ ایک حکومت نصاب میں سادگی لانے کا دعویٰ کرتی ہے، دوسری مزید کتابیں شامل کر دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ والدین، اساتذہ اور بچے ہر چند سال بعد نئے تجربے کا حصہ بن جاتے ہیں جبکہ اصل مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے لیکن جب اسے بار بار کی تبدیلیوں کی تجربہ گاہ بنا دیا جائے تو آنے والی نسلیں غیر یقینی ماحول میں بڑھتی ہیں۔
ٍ پاکستان کو نصاب کی بار بار تبدیلی نہیں، بلکہ مستقل، غیر سیاسی اور جامع تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے۔ نصاب کو بدلے بغیر بھی تعلیم بہتر ہو سکتی ہے بشرطیکہ تدریس کا طریقہ، امتحانی نظام، اساتذہ کی تربیت اور عملی سرگرمیاں بدل جائیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں، تو ہمیں کتابیں بدلنے کے بجائے سوچ، طریقہ تدریس اور تعلیمی ماحول کو بدلنا ہوگا۔ ورنہ بچوں کی نسلیں صرف نئے نصاب دیکھ دیکھ کر بڑی ہو جائیں گی لیکن حقیقی تعلیم تک ان کی رسائی وہی پرانی رہے گی۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ