پولیس کا نائٹ پارٹی پر چھاپہ 100 کے قریب مردو خواتین گرفتار

اسلام آباد کے پوش علاقے سیکٹر ایف-11 میں قائم معروف ابو ظہبی ٹاور میں مبینہ ڈانس پارٹی پر پولیس نے حساس اداروں کی فراہم کردہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے 100 کے قریب مرد و خواتین کو حراست میں لے لیا۔ چھاپہ ایس پی صدر ڈویژن سید کاظم نقوی کی خصوصی نگرانی میں مارا گیا، جس میں تھانہ شالیمار کے چند منتخب، بااعتماد اہلکار شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق انٹیلیجینس اداروں نے رپورٹ دی تھی کہ ابو ظہبی ٹاور سمیت ایف-11 کے مختلف ٹاورز میں روزانہ کی بنیاد پر ڈانس پارٹیز، غیر اخلاقی سرگرمیوں اور مشکوک اجتماعات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ خفیہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ یہ تقریبات رات گئے تک جاری رہتی ہیں، جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔

پولیس چھاپے کے دوران 60 سے زائد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں موقع پر گرفتار کیے گئے جبکہ تقریباً 40 افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ عمارت کی لابی، کار پارکنگ اور اپارٹمنٹ کے اندرونی راستوں سے متعدد افراد کے بھاگنے کی ویڈیوز بھی پولیس کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایف-11 اور دیگر قریب واقع ٹاورز میں منعقد ہونے والی ان پارٹیز کو مبینہ طور پر تھانہ شالیمار کے ایک سب انسپکٹر کی مکمل حمایت حاصل تھی، جو منتظمین سے ماہانہ ’منتھلی‘ وصول کرتا تھا۔ اسی وجہ سے یہ سرگرمیاں طویل عرصہ بلا روک ٹوک جاری رہیں اور کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہ آئی۔

اطلاعات کے مطابق ایس پی صدر سید کاظم نقوی نے رپورٹ ملتے ہی تھانہ شالیمار کے چند بھروسے مند سپاہیوں اور افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک کارروائی کا فیصلہ کیا۔چھاپہ رات گئے اچانک مارا گیا، جس سے پارٹی میں موجود افراد بدحواس ہو گئے۔ چھاپے کے دوران پولیس کو فلیٹ سےتیز آواز میں میوزک،ڈانس فلور سیٹنگ،ممنوعہ مشروبات اور دیگر مشکوک سامان ملنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ پولیس نے تمام شواہد قبضے میں لے لیے ہیں۔

پولیس نے گرفتار افراد کو مختلف تھانوں میں منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ فرار ہونے والے افراد کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیجز، موبائل ڈیٹا اور انٹری ریکارڈ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ پشت پناہی کرنے والے پولیس اہلکار کے خلاف بھی محکمانہ تحقیقات شروع ہونے کا امکان ہے۔