سفری سہولت ،خواتین کی برابری کا نیا دور

عمومی طور پر موجودہ دور میں گاڑیاں انسانی نقل وحمل کا ایک اہم ذریعہ ہیں تاہم گاڑیوں کی کثرت بے ہنگم ٹریفک بھیڑ اور پارکنگ کے محدود وسائل کے پیش نظر ڈرائیور حضرات اور گاڑی مالکان کو طرح طرح کی مشکلات درپیش ہیں یہی وجہ ہے کہ سفر کو سہل بنانے کیلئے گاڑیوں کی نسبت موٹرسائیکل کی خریداری میں تیزی آئی ہے اب تو الیکٹرک سکوٹر/ سکوٹیاں بھی مارکیٹ میں آگئے ہیں جنہیں عوام میں خاصی پذیرائی مل رہی ہے دوسری طرف یہ نقل وحمل کا ایک مؤثر ذریعہ بھی تصور کیے جاتے ہیں جدید الیکٹرک سکوٹیوں میں چارچنگ کی سہولت بھی میسر ہے جبکہ چارجنگ لاگت بھی کم ہوتی ہے خاص طور پر گاڑی کے گیس ٹینک یا پٹرول بھرنے کی لاگت کے مقابلے میں سکوٹری کے اخراجات نسبتا کم ہوتے ہیں دوسری طرف الیکٹرک سکوٹر کی نقل وحمل کو ماحول دوست تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دھواں نہیں چھوڑتے اور فضا آلودہ نہیں ہوتی الیکٹرک سکوٹری شہری علاقوں میں آلودگی کو کم کرنے اور ہوا کے معیار کو بہتر بنانے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے یہاں تک کہ پٹرول سے چلنے والے اسکوٹر بھی عام طور پر کاروں کے مقابلے میں فی میل کم آلودگی کا اخراج کرتے ہیں شہروں اور بازاروں میں پارکنگ کے مسائل ہمیشہ درپیش رہتے ہیں تاہم سکوٹر کی لمبائی چوڑائی کم ہونے سے دوسری گاڑیوں کے مقابلے میں پارک کرنے کے لیے کم جگہ کی ضرورت ہوتی ہے اسکوٹر کو آپ چھوٹے سے کونے میں پارک کر سکتے ہیں الیکٹرک سکوٹر ایک طرف ماحول دوست سواری ہے تو دوسری طرف پارکنگ کی اس آسانی سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ پارکنگ کی جگہ تلاش کرنے کی دقت سے بھی چھٹکارا ملتا ہے اب شہروں اور بازاروں میں سکوٹیاں انفرادی سواری کیلئے استعمال ہو رہی ہیں اور باقاعدہ انکی فروخت کیلئے شاپس بھی قائم ہو چکی ہیں سکوٹی کی خریداری کیلئے کلرسیداں میں بھی ایک شاپس کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جہاں مختلف برانڈز اور رنگوں کی سکوٹیاں دستیاب ہیں اب بالخصوص خواتین سفر کیلئے سکوٹی پر انحصار کرنے لگی ہیں اور سڑکوں پر خواتین و طالبات سکوٹیاں چلاتی نظر آتی ہیں خواتین اور طالبات کیلئے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفری مشکلات کی نسبت آمدورفت کیلئے سکوٹی ایک سہل زریعہ ہے بحثیت معاشرہ ہمیں چاہیے کہ سکوٹیاں چلانے والی خواتین کا احترام کریں انہیں راستہ دیں اور خطرناک اوور ٹیک سے گریز کریں یہ ہماری بیٹیاں بہنیں ہیں انہیں تحفظ اور احترام کا احساس اور ماحول فراہم کرنا ہمارا فرض ہے ایسی خواتین جو سکوٹیاں چلاتی ہیں اگر سفر کے دوران انہیں کسی قسم کی مشکلات درپیش ہوں تو وہ ٹریفک وارڈن /پٹرولنگ پولیس سے رجوع کر سکتی ہیں ہمارے ٹریفک وارڈن اور شاہراہوں کو محفوظ بنانے والے پٹرولنگ پولیس کے اہلکار ہمہ وقت آپکی داد رسی کیلئے اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے دستیاب ہیں الیکٹرک سکوٹی کی دستیابی سے خواتین اب مردوں کی محتاج نہیں ہونگی یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو برابری کے حقوق کی بات تو ہر فورم پر کی جاتی ہے مگر انہیں برابری کے حقوق نہیں ملتے بلکہ ہر موقعہ پر انہیں ثانوی درجے کی اہمیت دی جاتی ہے جسکی صرف ایک مثال ہی کافی ہے اکثر اوقات شادی کی تقریبات یا دعوت ولیمہ کے موقعہ پر دیکھا جاتا ہے کہ پہلے مردوں کودعوت ولیمہ کا طعام دیاجاتا ہے چاہیے مردوں کو کھانا نوش فرماتے کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے مرد بڑے مزے اور آرام سے شادی کی دعوت اڑاتے ہیں جبکہ دوسرے پہلو میں خواتین بچے اور ادھیڑ عمر عورتیں بھوک سے نڈھال ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے کھانے کا انتظار کرتی رہتی ہے اور انہیں آخر میں کھانا مہیا کیا جاتا ہے کم از کم ایسے خوشی کے موقعوں پر خواتین کو وقت پر کھانا مہیا کر کے ہم انکے حقوق کی پاسداری کے علمبردار بن سکتے ہیں حاصل بحث یہی ہے کہ خواتین طالبات وغیرہ کی نقل و حمل کے لیے سکوٹی ایک قابل بھروسہ سواری ہے خاص کر طالبات کیلئے جو پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے کے بجائے سکوٹی پر بروقت سکول/ کالج پہنچ سکتی ہیں تو دوسری طرف پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایہ کی نسبت الیکٹرک سکوٹی کا خرچہ بھی کم ہے۔

ساجد محمود