اسلام آباد ہائی کورٹ میں پولیس تفتیش اور اخراج مقدمہ کے کیس کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے سوال اٹھایا کہ کہیں یہ کیس بھی آئینی عدالت کا تو نہیں بنتا ؟، کیونکہ دنیا میں جہاں جہاں آئینی عدالت قائم ہے وہاں ابتداء میں دائرہ اختیار کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ شروع شروع میں آئینی عدالت کے دائرہ کار کا یہاں بھی مسئلہ رہے گا، جب کیس مقرر ہوگا تو یہاں والے کہیں گے سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے ، پھر جب آپ جائیں گے سپریم کورٹ تو وہ کہیں گے آئینی عدالت کا دائرہ کار ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نئی ترمیم کی روشنی میں وکلاء اور ججز کو بھی ان معلومات کا فقدان ہے، نئی ترمیم کو سمجھنے اور عمل درآمد کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ آپ دونوں حضرات سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی دیکھ لیں، جب تک وہاں سے کوئی فیصلہ نہیں آتا ہم بھی کوئی فیصلہ نہیں دینگے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آئندہ سماعت 27 تاریخ کو رکھ لیں ، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ 27 کو کیا پتہ میں یہاں ہونگا بھی کہ نہیں۔عدالت نے ہدایات کے ساتھ سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کردی، سہیل علیم کی اہلیہ اور تین بچیوں کی لاہور سے خلاف ضابطہ گرفتاری کی گئی تھی۔