الرسالہ از امام شافعیؒ اسلامی فقہ کی فکری اساس(ا)

اسلامی قانون یا فقہ، دین ِ اسلام کے اُن مستند اور منظم احکام کے مجموعے کا نام ہے جو براہِ راست قرآنِ مجید اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت سے ماخوذ ہیں۔ چونکہ شریعتِ اسلامی کی بنیاد انہی دو سرچشموں پر قائم ہے اس لیے تمام فقہی اصول و ضوابط انہی کی روشنی میں اخذ کیے جاتے ہیں۔جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی یا استخراجِ احکام کا عمل شروع ہوتا ہے تو فہم دین کے کئی بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں۔مثال کے طور پر قرآن مجید کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے کن اصولوں اور علوم کی ضرورت پیش آتی ہے؟ سنتِ نبوی ﷺ کو اخذ کرنے کا منہج کیا ہے؟ قرآن و سنت کا باہمی تعلق کس نوعیت کا ہے اور دینی استدلال کے منہج میں ان میں سے کون سا ماخذ اصل اور کون سا ثانوی حیثیت رکھتا ہے؟ اگر قرآنِ مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر اختلاف دکھائی دے یا دو احادیث کے درمیان تعارض محسوس ہو تو اس اختلاف یا تعارض کو رفع کرنے کے لیے کون سا منہجِ استدلال اختیار کیا جانا چاہیے؟
مذکورہ بالا تمام سوالات کے جوابات دینے کے لئے جو عظیم فن وجود میں آیا، اسے ”اصولِ فقہ“ کہا جاتا ہے۔اصول فقہ (Principles of Jurisprudence)وہ علم ہے جس کے ذریعے فقہا، منظم اصولوں کے تحت قرآن و سنت سے احکامِ شرعیہ کو مستنبط کرتے ہیں۔ تمام فقہی مسالک (حنفی،شافعی،حنبلی اور مالکی) کے اہل علم نے اسی منہج پر اپنی اپنی کتبِ اصول مرتب کیں جو فقہ اسلامی کی فکری تشکیل میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان ہی عظیم تصانیف میں سے ایک امام شافعیؒ کی شہرہء آفاق تصنیف ”الرسالہ“ہے جو نہ صرف اصولِ فقہ بلکہ اصولِ حدیث کے میدان میں بھی اولین اور بنیاد ساز حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں امام شافعیؒ نے فقہ و حدیث کے اصولوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں نہایت منظم، دقیق اور استدلالی انداز میں مرتب فرمایا۔ الرسالہ کو تمام اہلِ علم کے نزدیک معتبر اور معیاری ماخذ کی حیثیت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ صدیوں سے دینی مدارس کے نصابِ تعلیم میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔
امام شافعیؒ: فقہ و اصول کے اولین معمار
امام محمد بن ادریس شافعی القرشیؒ (150ھ–20 4 ھ) اسلامی فقہ و اصولِ فقہ کے وہ جلیل القدر امام ہیں جنہوں نے قرآن و سنت کے مابین توازن اور اجتہاد کے منہج کو نہایت مضبوط علمی بنیاد فراہم کی۔آپ فقہِ شافعی کے بانی ہیں اور آپ کے اور آپ کے پیروکار شافعیہ یا شوافع کہلاتے ہیں۔ آپ کے زمانے میں فقہِ اسلامی اپنی فکری ارتقا کی نہایت اہم منزلوں سے گزر رہی تھی اور اس عہد میں فقہی فکر کی درج ذیل دو بڑی جہتیں نمایاں طور پر سامنے آرہی تھیں:
1.فقہ الحدیث (مدینہ کا مکتبہء فکر):اس کی بنیاد امام مالکؒ نے رکھی
2.فقہ الرائے (عراق کا مکتبہء فکر):اس کی قیادت امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ کے پاس تھی
ابن خلدون کے مطابق امام شافعی، امام مالکؒ سے تحصیل علم کے بعد عراق گئے اور وہاں امام ابو حنیفہؒ کے شاگردوں سے ملے اور ان سے علم حاصل کیا، پھر اہل حجاز اور اہل عراق کے مسالک کو باہم ملا کر ایک الگ حلقہ ء اثر بنایا اور بہت سے مسائل میں اپنے استاد امام مالکؒ سے
الگ راستہ اختیار کیا۔امام شافعیؒ نے قرآن و سنت کی روشنی میں ایک ایسا جامع نظامِ فقہ مرتب کیا جو روایت اور عقل، نص اور اجتہاد سب کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ ان کی شہرہء آفاق تصنیف الرسالہ اسی فکری ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ آپ اصول فقہ کے ”اولین معمار“ بھی کہلاتے ہیں جنہوں نے اسلامی فقہ کو علمی استنباط اور اصولی تحقیق کی نئی جہت سے روشناس کرایا۔
الرسالہ: فقہ و اصول کی اولین منظم تصنیف
امام شافعیؒ کی شہرہ ء آفاق تصنیف الرسا لہ اصولِ فقہ پر لکھی گئی سب سے پہلی منظم اور باقاعدہ کتاب ہے جس میں آپ نے قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کو استنباطِ احکام کے بنیادی ماخذ کے طور پر متعین کیا۔ الرسالہ تقریباً 200 ہجری (بمطابق830 عیسوی) کے لگ بھگ عربی زبان میں قلم بند کی گئی اور امام شافعیؒ نے اسے اپنی زندگی ہی میں دو مرتبہ نہایت تحقیق و تنقیح کے ساتھ مرتب فرمایا۔امام شافعیؒ نے الرسالہ کے ذریعے فقہ کو محض روایت و نقل کا مجموعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک منظم، استدلالی اور تحقیقی علم کی صورت عطا کی۔ اس تصنیف نے فقہی فکر کو وہ اصولی و فکری توازن اور منطقی بنیادیں فراہم کیں جن پر بعد کے تمام مکاتبِ فقہ نے ا پنے اپنے مناہج استوار کیے۔ امام فخرالدین رازیؒ کے بقول، امام شافعیؒ کی کتاب الرسالہ کو اصول فقہ میں وہ مقام حاصل ہے جو علم منطق میں ارسطو کی تصنیفات کو حاصل ہے۔
امام شافعی کا طریقہ استنباط
امام شافعیؒ نے مختلف فقہی مکاتب فکر سے استفادہ کے بعد ایک معتدل، متوازن اور اصولی فقہی منہج اختیار فرمایا۔ آپؒ نے الرسالہ میں تفصیل سے بیان فرمایا کہ کہ فقہ کی علمی و استنباطی عمارت درج ذیل چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے جو بعد میں اسلامی فقہی فکر کی نظریاتی بنیاد بنے اور تمام آئندہ فقہی مکاتب کے لیے منہجِ استدلال کا محور قرار پائے:
1۔قرآن کریم
۔2سنتِ نبوی ﷺ
3۔اجماعِ امت
4۔قیاسِ صحیح
الرسالہ کی علمی ساخت اور اسلوبِ بیان
امام شافعیؒ کی الرسالہ فقہِ اسلامی کے اصولی ڈھانچے کی پہلی باقاعدہ اور منظم بنیاد ہے۔ اس سے قبل فقہی مباحث تو موجود تھے مگر ان کے اصول و قواعد منتشر اور غیر مدون صورت میں پائے جاتے تھے۔ امام شافعیؒ نے انہیں ایک مربوط علمی قالب میں ڈھال کر اصولِ فقہ کو ایک مستقل علم کی حیثیت عطا کی۔ الرسالہ کو دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔دلائلِ شرعیہ کی توضیح
امام شافعیؒ نے قرآن و سنت کے باہمی تعلق، ناسخ و منسوخ اور نصوص کے فہم کے اصول بیان کیے۔انھوں نے سنت کو قرآن کی شرح قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ شریعت میں سنت کی حیثیت محض توضیحی نہیں بلکہ تشریعی بھی ہے۔
2۔استنباط و اجتہاد کے اصول
امام شافعیؒ نے عقل کے استعمال، قیاس کے جواز اور مجتہد کے اوصاف پر گفتگو کی۔ انھوں نے اجماع کو امت کی علمی وحدت کا مظہر قرار دیا اور قیاس کو اجتہاد کا لازمی ذریعہ ثابت کیا۔
الرسالہ کے ابواب کا جائزہ
امام شافعیؒ کی شہرہء آفاق تصنیف الرسالہ فقہ و اصولِ فقہ کی پہلی منظم اور استدلالی کتاب ہے جس میں آپؒ نے اسلامی قانون کے بنیادی اصولوں کو باب وار ترتیب دیا۔ اگرچہ مختلف نسخوں میں ابواب کی تفصیل اور ترتیب میں معمولی فرق پایا جاتا ہے لیکن مجموعی طور پر الرسالہ کو درج ذیل بڑے موضوعاتی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے(جاری ہے)