چوہدری وسیم کی خدمات قابل صد تحسین

طالب حسین آرائیں
نادر ونایاب اشیاءکے ساتھ کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا‘ وہ ہستیاں جو اپنی زندگی کے بجائے دوسروں کی زندگیوں کے لیے سوچتی ہوں۔زندگی کی اپنی حدیں ہوتی ہیں اور ہزار گذر گاہیں اور مصروف گذر گاہوں پر ہم چلتے رہتے ہیں‘ دوڑتے رہتے ہیں‘ ہر ایک لمحے میں کسی نہ کسی سے ملاقات ہوتی ہے اس کے ساتھ چلتے ہیں پھر بچھڑ جاتے ہیں کچھ لوگ بچھڑ جانے پر بھلا دئیے جاتے ہیں جبکہ کچھ ہستیاں دور ہوں تو بھی اپنے اردگرد محسوس ہوتی ہیں شیکسپیئر کا کہا ایک ضرب المثال کی حیثیت رکھتا ہے کہ زندگی ایک اسٹیج ہے جس میں ہم سب اداکار ہیں جو اپنے اپنے وقت میں اپنا اپنا کھیل دیکھا کر رخصت ہوجاتے ہیں لیکن اچھا ادکار وہی کہلاتا ہے جو اپنے کردار کو اس طرح ادا کرتا ہے کہ چلے جانے کے بعد بھی اس کا کردار نسلوں کے لیے زندہ رہتا ہے ہر کردار کا ہر لمحہ اپنے دامن میں کوئی نہ کوئی یاد سمیٹ لیتا ہے مگر جب یہ لمحات کچھ خاص ادوار میں ڈھل جاتے ہیں تو اس کردار کے پورے عہد کے واقعات کسی داستان کی صورت آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوجاتے ہیں۔

اپنے لیے جینا تو ایک فطری عمل ہے مگر دوسروں کے لیے بھی اپنے وجود کوسہارا بنادیا جائے تو اس سے بڑھ کر نیکی نہیں ہوسکتی۔ بیول کے رہائشی چوہدری وسیم جو فرانس میں مقیم ہیں وہاں ان کا شمار بڑے کاروباری طبقے میں ہوتا ہے۔چوہدری وسیم کی شخصیت احساس کے پرتوں میں لپٹی ہوئی ہے مجھے چوہدری وسیم بارے اس وقت آگاہی ہوئی جب بیول کے ایک معصوم بچے جو پیدائشی طور پر رفع حاجت کی قدرتی جگہ سے محروم تھا اور غربت کے باعث والدین اس کا اپریشن کروانے سے معزور تھے تو علم ہونے پر چوہدری وسیم نے اس بچے کے آپریشن کا اخراجات اُٹھانے کا ذمہ لیا بچے کے آپریشن اور دیگر اخراجات کی مد میں دس لاکھ سے زائد کی رقم خرچ ہوئی جو چوہدری وسیم نے ادا کی۔

دس لاکھ ایک بڑی رقم ہے اور اسے عطیہ کرنا یقیناً بہت بڑی بات ہے۔چوہدری وسیم کی صرف یہی نیکی نہیں کھوجنے پر پتہ چلا کہ کئی مستحق خاندانوں کی ماہانہ بنیادوں پر بھی امداد کرتے ہیں بحیثت پاکستانی بحثیت قلمکار مجھے چوہدری وسیم کی جو بات سب سے زیادہ دل کو لگی وہ طالب علموں کو حصول علم کے لیے مقابلے پر راغب کرنا تھا۔چوہدری وسیم کی جانب سے بیول ہائی اسکول میں میڑک میں فرسٹ پوزیشن لینے والے طالب علم کو ہرسال نیا موٹر سائیکل گفٹ کرتے ہیں جبکہ دیگر ہونہار بچوں کو نقد انعامات سے نوازتے ہیں اور اس کے لیے اسکول میں باقائدہ ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے جس کے اخراجات بھی چوہدری وسیم اٹھاتے ہیں۔

چوہدری وسیم کی جانب سے اس برس بھی نمایاں پوزیشن کے حامل طلباءکو خصوصی انعامات دینے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ لاہور میں کھیلوں کے مقابلے مین حصہ لینے اور گولڈ میڈل سلور اور بروان میڈل جیتنے والے طلباءکی حوصلہ افزائی کے لیے انعامات سے نوازے جانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے چوہدری وسیم کی طلباءکے لیے ہر سال حوصلہ افزائی اور انعامات کا سلسلہ بیول اور گرد ونواح کے بچوں میں مقابلے کا رحجان پیدا کرنے میں معاون ثابت ہورہا ہے چوہدری وسیم یقیناََ لائق تحسین ہیں جو نسل نو کو بہتر مستقبل دینے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔چوہدری وسیم نوجوانوں کو کھیلوں کے میدان میں مکمل سپورٹ فراہم کرتے ہیں مختلف کھیلوں کے ٹورنامنٹ کروانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں چوہدری وسیم کا ماننا ہے کہ گراونڈ آباد ہوں گے تو نسل نو سماج میں پنپتی برائیوں سے محفوظ رہ سکتی ہے۔ بیول اور گرد ونواح کے نوجوان تعلیم اور
کھیل دونوں میدانوں میں علاقے کا نام روشن کررہے ہیں۔