نوجواںوں میں خودکشیوں کا افسوسناک رجحان

گزشتہ ہفتوں سے چوآخالصہ کے قریبی علاقے سر صوبہ شاہ داخلی یوسی منیاندہ میں نوجوانوں کے اپنی ہی زندگی پر وار کرنے کے واقعات نے علاقہ کے عوام کو عجیب ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے،اکثر عوامی محفلوں میں یہ معاملہ زیر بحث ہے کہ کن وجوہات نے نوجوانوں کو جان پر کھیلنے پر مجبور کیا،وجہ کوئی بھی ہو زندگی جیسی نعمت کو زحمت کی نذر کر دیناکسی صورت بھی مستحسن عمل ہر گز شمار نہیں،مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال فرماتے ہیں کہ,
کبھی اے نوجواں مسلم، تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاوں میں تاج سردارا۔
پتہ نہیں قوم کے آغوش محبت میں پلنے والے نوجوانوں کو کس فریب خوردہ و بد نظر فکر نے اپنے شکنجے میں لے کر ان سانحات کی بھینٹ چڑھا دیا، ہوسکتا ہے تربییت می کہیں نہ کہیں کمی رہ گئی ہو مگر نوبت یہاں تک نہیں آنا چاہیئے تھی یہ زندہ قوموں کے بچوں کا شیوہ نہیں ہوتا،اگر چہ مصائب و مشکلات انسان کو کچھ سے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں تاہم مولا علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مشکلات میں اپنے اللہ سے مت کہو کہ میری مشکل کتنی بڑی ہے بلکہ اپنی مشکل کو بتاو کہ میرا اللہ کتنا بڑا ہے، یعنی سے مصیبت کے خاتمے کی امید باندھنی ہے،دین اسلام کی ترویج کے لیئے ہمارے آباء نے مشکلات اور مصائب کے پہاڑ سر کیئے ان کے احسن کردار کی ہمارے کرداروں سے تقابل کی مثال علامہ محمد اقبال یوں دیتے ہیں کہ۔
خود کشی شیوہ تمھارا وہ غیور وخود دار
تم اخوت سے گریزاں وہ اخوت پہ نثار
تم ہو گفتار سراپا وہ سراپا کردار
تم ترستے ہو کلی کو وہ گلستاں بہ کنار
اب تلک یاد ہے قوموں کو حکایت ان کی
نقش ہے صفحہ ہستی پہ صداقت ان کی
ہم سب کو چاہیئے نوجوان نسل کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کو اپنا شعار زیست بنائیں اور بھر پور کوشش سے نوجوانوں کی کردار سازی میں مثبت رول ہمہ وقت اور ہمہ جہت ادا کرنے میں کثر نہ اٹھا رکھیں نوجوانوں کو احساس محرومی،احساس کمتری وبرتریکی تلاطم خیز موجوں سے کنارے لگائیں۔ نوجوان بھی اپنے بڑوں اور تجربہ کار بزرگوں سے نفرت کی بجائے انکا قرب حاصل کرکے مشکلات زمانہ کے حل کی بہتر رائیں نکال سکتے ہیں اور جس غلطی کی وجہ سے وہ قیامت عرصہ حیات تک جا پہنچے ہیں اسکے مداوا کے لیئے بڑوں سے راہنمائی لیں ان سے کوئی بھی ایسی بات چھپا کر نہ رکھیں جو مستقبل قریب یا بعید میں ان کے گلے کا طوق بن کر ان کے عرصہ حیات کو تیرگی کی نذر کردے،نوجوان اپنے والدین، خوہش و اقربا کو اپنی زندگی کا اثاثہ جان کر ان سے ہر مشکل اور تنگ حالی میں مشاورت اور راہنمائی کو اگر اپنا اصول زندگی بنالیں تو مشکلیں ان کے راستے سے کوسوں دور ہو جاتی ہیں، جو نوجوان اپنی رگوں کو دیدہ دانستہ کاٹ کر اپنی زندگی کے در پے ہے اسکی حقیقی تکلیف کے محرکات جان کر والدین اور عزیزوں کو اسکا حل نکالنے کی بھر پور کوشش ضرور کرنا چاہیئے اس کربناک عمل میں جو نجوان اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں اللہ اپنی کریمی اور رحیمی کے صدقے انکی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

تحریر :محمد مقصود بھٹی