فحاشی، میڈیا اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔
ڈاکٹر برکت علی خان۔
فحاشی اور عریانی اب آہستہ آہستہ روزمرہ کی زندگی کا ایک حصہ بنتی جا رہی ہے۔ گھر کے دہلیز سے لے کر مارکیٹ، آفس، اسکول اور کالج تک ہر جگہ پہ فحاشی اور عریانی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ کوئی اشتہار، کوئی سائن بورڈ فحاشی سے پاک نہیں ہے۔ کارٹن سے ریپر تک سب پر فحاشی نمایاں ہوتی ہے۔ تمام اشیاء خاص طور پر کاسمیٹکس کی پیکنگ کو نیم عریاں خواتین کی تصاویر کے ساتھ انتہائی ہوشیاری کے ساتھ سجایا جاتا ہے۔
ٹی وی، اسٹیج ڈرامے ، فلمیں اور پوڈ کاسٹ کو فحش اور ذو معنی مکالموں سے مصالحہ لگایا جاتا ہے۔
ماضی میں ٹی وی اور فلم کو فیملی انٹرٹینمنٹ اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
اب کوئی بھی فرد اہل خانہ کے ساتھ یہاں تک کہ سرکاری ٹی وی چینلز کو بھی ساتھ بیٹھ کے نہیں دیکھ سکتا۔ ٹی وی چینلز پر مزاحیہ شوز کی ایک دوڑ ہے جو کھلے عام فحاشی پھیلا رہے ہیں۔
اگرچہ ٹی وی چینلز مواد کو آن ائیر کرنے کے لیے کچھ قوانین اور ضوابط کے تابع ہوتے ہیں جو ملک اور خطے کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں۔ یہ قواعد و ضوابط اکثر اس چیز کو پابند کرتے ہیں کہ براڈکاسٹ کے لئے کس قسم کا مواد قابل قبول ہے، بشمول فحاشی اور عریانی کے حدود۔
پاکستان میں چینلز ریگولیشن کے لیے ایک ادارہ پیمرا کے نام سے موجود ہے جو اس وقت صرف سیاسی بنیادوں پر پروگراموں اور چینلز کو بند کرنے اور چالو کرنے کے احکامات صادر کرتا ہے۔ اس ادارے کا معاشرتی اقدار کے پامال ہونے سے کچھ لینا دینا نہیں۔
میری ذاتی رائے کے مطابق فحاشی سے مواد کا اثر کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 80 کی دہائی میں فیمیل نیوز کاسٹر سر پر بہترین دوپٹہ اوڑھ کے خبریں پڑھتی تھیں جس سے سننے والے پر ایک تاثر قائم رہتا تھا۔ اب تو اللہ معاف کرے ایسا لگتا ہے کہ نیوز کاسٹر کم جبکہ فیشن شو والی ماڈل زیادہ لگتی ہے۔ خبروں سے زیادہ فیشن پر توجہ ہوتی ہے۔
فحاشی اور عریانی کے معاشرتی اقدار اور افراد پر منفی اثرات ہوتے ہیں مثال کے طور پر بے ہودہ مواد کی بار بار نمائش ناظرین کو غیر متزلزل بنا سکتی ہے، جس سے ممکنہ طور پر جذباتی ردعمل میں کمی واقع ہوتی ہے اور ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بے ہودہ مواد فحاشی محسوس بھی نہیں ہوتی۔اس کے علاوہ فحش مواد کی نمائش بچوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، جو ان کی زبان، طرز عمل اور اقدار کو ممکنہ طور پر متاثر کرتی ہے۔ مزید یہ کہ ٹی وی پر فحاشی ثقافتی رویوں کی عکاسی اور تشکیل دے سکتی ہے۔ اس سے یا تو زیادہ کھلا اورقابل قبول ماحول اپنانے میں مدد ملتی ہے یا پھر منفی دقیانوسی تصورات اور طرز عمل کو برقرار رکھنے میں۔
سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک ریلز اور ٹک ٹوک نے تو معاشرتی اقدار کا جنازہ نکال کے رکھ دیا ہے۔ لائکس اور لائیو گفٹنگ کے چکر میں ہم سب کرنے کو تیار ہیں۔ ہم اس میڈیا کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے بھی تو استعمال کر سکتے ہیں لیکن نہیں جناب۔ ٹک ٹوک کے کتنے یوزر ہونگے جو سٹیم کو استعمال کرتے ہیں؟؟
شہر کے وسط میں ایک بڑا سایُن بورڈ نصب ہوگا جو کے 5 کلومیٹر دوری سے نظر آتا ہوگا جو کے ہیئرکلر، شیمپو، صابن یا رنگ گورا کرنے والی کریم یا ملبوسات کے اشتہار کے لیے نصب ہوگا اور اس اشتہار کو نیکر پہنے نیم عریاں خاتون سے سجایا ہوگا۔ اب بندہ کہے کہ مرد ہوتا تو کیا ہوتا؟؟؟
فحاشی، عریانی اور بے ہودہ مواد کے روکنے کے لیے معاشرے میں ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے مثلاً حکومت مختلف میڈیا فارمز جیسے ٹیلی ویژن، ریڈیو اور آن لائن پلیٹ فارمز میں فحاشی سمیت بے ہودہ مواد پر ضابطے قائم اور نافذ کرے۔ حکومت عوام کو بیہودہ مواد کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہی مہم چلائے اور ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دے۔ حکومت فحاشی سے متعلق قوانین اور ضوابط کو نافذ کرے، بشمول ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد یا تنظیموں پر جرمانے عائد کرے۔
بطور والدین ہم اپنے بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ ٹیلی ویژن، سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر کس قسم کا مواد دیکھتے اور شیئر کرتے ہیں۔
مقامی حکومتی اداروں کو چاہیے ک وہ سائن بورڈز کے مواد کو فلٹر کیا کریں اور قابل اعتراض مواد کو آویزاں نہ کریں۔