جاوید کوثر کی تین سالہ کارکردگی

جاوید کوثر کی تین سالہ کارکردگی

طالب حسین آرائیں

اکثر لوگ امید کو زندگی کا دوسرا رخ قرار دیتے ہیں کیونکہ امید ہی سانس کے تن مردہ میں جان ڈالنے کا سبب بنتی ہے محاورہ ہے کہ امید پر دنیا قائم ہے اور دنیا کے معاملات کو چلانے میں بھی ا مید و ں کا بہت بڑا کردار ہے۔پاکستانی سیاست دانوں کو ہی دیکھ لیں کس طرح امیدوں پر تہتر سالوں سے عوام کو استعمال کیے چلے جارہے ہیں۔جبکہ قوم ان تہتر برسوں میں مزید مصائب ومسائل شکار ہوئی ہے۔وقت کسی کا غلام نہیں ہوتا اس لیے کسی کی پروا نہیں کرتا یہ اتنا سنگدل ہے کہ جو اس کی پروا نہیں کرتا یہ اسے ایسی مار مارتا ہے کہ پینے کو دو بوند پانی تک نہیں ملتا یہ جس پر مہربان ہوجائے تو اس کے لڑکھڑاتے قدموں سے قدم ملا کر اسے عروج بخش دیتا ہے۔تاریخ ایسی عروج وزوال کی داستانوں سے بھری ہوئی ہے۔طاقت اور اختیار دو ایسی چیزیں ہیں جن کا استعمال انسان درست و قت میں درست طور کر لے تو تاریخ میں یاد رکھا جاتا ہے انسان کے اندر ہر چیز ہوتی ہے غم بھی خوشی بھی نفرت بھی محبت بھی۔انسان کی ہرخواہش کبھی پوری نہیں ہوتی ہر جیتا جاگتا وجود آسودہ اور ناآسودہ آرزؤں کا مرکب ہوتا ہے یہ ایک کلیہ ہے جو ماضی سے حال اور مستقبل تک محیط ہے۔ماضی میں کیا ہوا اور حال میں کیا ہورہا ہے اسی کے تناظر میں مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں۔ مو جو دہ دور حکومت میں ماضی کی نسبت عوام کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی مہنگائی نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ذرائع آمدنی محدود اور اخراجات لامحدود‘ غریب طبقہ بری طرح پس چکا ہے۔ایسے میں عوامی نفرت میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے۔تاہم عوامی نمائندوں کی عوام دوستی کے کچھ اقدامات آگ پر پانی کی پھوارکی طرح ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت اپنے تین سالہ دور میں کوئی میگا پروجیکٹ تو نہ دی سکی لیکن لوکل سطح پر ایم پی ایز یا ایم این ایز کے توسط سے عوام کے علاقائی مسائل پر پوری توجہ دے رہی ہے جس کے نتیجے میں عوام قدرے ریلیف محسوس کررہے ہیں۔حلقہ پی پی8 گوجرخان سے تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری جاوید کوثر کی جانب سے حلقہ میں عرصہ دراز سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار لنک سڑکوں کی از سر نو تعمیر نے عوام کے سفری مسائل کو کافی حد تک ختم کردیا ہے۔گوجر خان سے بیول‘بیول سے کلر سیداں کارپٹ روڈ کی تعمیر کے ٹینڈر ہوچکے ہیں جن پر کام کا بھی جلد آغاز متوقع ہے۔جبکہ سابق وزیراعظم راجہ پر و یز اشرف کے دور حکومت کے آخری ایام میں بیول سے جبر تک ناقص میٹریل سے بنی پتھر اگلتی سڑک جو گذشتہ آٹھ سالوں سے علاقہ مکینوں کے لیے سوہان روح بنی ہوئی تھی اس پر کام تیزی سے جا ری ہے۔جو اس تحریر کی اشاعت تک شاید مکمل ہوچکا ہوگا۔ جبر سے رتالہ راجگان تک طویل عرصہ سے تعمیر کی منتظر سڑک بھی ازسر نو تعمیر ہوچکی جس سے عوام بہتری محسوس کر رہے ہیں۔سابق مسلم لیگی ایم پی اے چوہدری افتخار وارثی کی کوششوں سے بیول کے بنیادی مرکز صحت کی نئی تعمیر ہونے والی عمارت بھی کا فنکشنل کروانے میں بھی چوہدری جاوید کوثر کا نمایاں کردار رہا۔حمایت ومخالفت تو سیاسی لوگوں میں ایک عام سی بات ہے ان سڑکوں کی تعمیر پر بھی حسب سابق تعریف و تنقیدکی جارہی ہے کسی کے نزدیک یہ ایک کارنامہ ہے تو کسی کے نزدیک یہ معمو ل کے کام‘ محبت کے بعد اگر کوئی جذبہ طاقت ور ہے تو وہ نفرت اور رقابت کا ہے جیسے محبت اندھی ہوتی ہے ویسے ہی رقابت بھی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے اور اگر آنکھوں پر پٹی ہو تو پھر صحیح اور غلط میں تمیز نہیں ہوسکتی۔لیکن ہمیں شیکسپئر کا قول یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ایک اسٹیج ہے جس پر ہم سب اداکار ہیں جو اپنے اپنے وقت میں اپنا اپنا کھیل دیکھا کر رخصت ہوجاتے ہیں اور اچھا اداکار وہی ہوتا ہے جواپنے کردار سے لوگوں کو متاثر کرسکے۔ہمارا المیہ ہے کہ ہم جماعت پرستی میں اس قدر جنونی ہوتے ہیں کہ ہمیں مخالف جماعت کے اچھے اقدمات بھی قابل تعریف نہیں لگتے ہمیں ہر حال میں تنقید کرنا ہے ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت عوام کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر بھر دیا گیا ہے ہم ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے پر آمادہ نہیں ہمیں جان بوجھ کر بے شعور رکھا جارہا ہے کیونکہ جس دن ہم میں اچھے برے کو پہچان کر بولنے اور سوال کرنے کا شعور آگیا تو اندھیر نگری چوپٹ راج کا خاتمہ ہوجائے گا ورنہ اپنے ہی گھر میں اجنبی ہونے والی کیفیت کو کوئی ختم نہیں کرسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں