راولپنڈی تھانہ روات چلتی گاڑی میں مبینہ گینگ ریپ کا الزام ملزمان کی لڑکی کو زبان کھولنے پر ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں
راولپنڈی پولیس نے چلتی ہوئی گاڑی میں ہونے والے مبینہ گینگ ریپ کے واقعہ میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ گاؤں کی پنچائیت کے ایک شخص کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جنھوں نے مبینہ طو پر گینگ ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس کے ورثا کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا تھا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس واقعہ کا سن کر اور ’اپنی بیوی کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونےکی دھمکی پر متاثرہ لڑکی کے شوہر یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکااسے ہارٹ اٹیک ہوا گینگ ریپ کا یہ واقعہ تھانہ روات کے علاقے چک بیلی روڈ پر پیش آیا جہاں پر چار افراد نے چلتی گاڑی میں شادی شدہ لڑکی کو مبینہ گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کا الزام سامنے آیا تھا

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل سب انسپکٹر وسیم سرور کا دعویٰ ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد نے تفتیش کے دوران پولیس کے سامنے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔تاہم اس کیس کی اہم اور متنازعہ بات یہ تھی کہ ریپ کے دعوے سے تقریبا دو ماہ پولیس کو درخواست دی گئی اور مقددمہ درج کیا گیا تھا