انجینئر افتخار چودھری
پاکستان کی ستر سالہ تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک کی تقدیر کے فیصلے کبھی بھی اس کی اپنی پارلیمنٹ یا گلی کوچوں میں نہیں ہوئے، بلکہ ہمیشہ سات سمندر پار واشنگٹن کے تاریک ڈرائنگ رومز میں تیار کیے گئے۔ آج ایک بار پھر فضاؤں میں وہی پرانے خوف کے سائے لہرانے لگے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی سیاست کے افق پر واپسی اور ان کے متوقع “روڈ میپ” نے ہمارے اقتدار کے ایوانوں میں ایک ایسی تھرتھری طاری کر رکھی ہے جسے “سفارتی مصلحت” کا نام دیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا پاکستان واقعی اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اگر اس بار ہم نے کسی عالمی منصوبے سے انکار کی جرات کی، تو ہمیں “بیوی بچوں سمیت” اٹھا لیا جائے گا؟ کیا ایک ایٹمی طاقت کی حیثیت عالمی بھیڑیے کے سامنے واقعی “زیرو” ہو چکی ہے؟
اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عالمی سیاست کا جنگل اصولوں سے نہیں بلکہ “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کے قانون سے چلتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا اندازِ سیاست کوئی ڈھکا چھپا نہیں؛ وہ ایک ایسے تاجر ہیں جو سفارت کاری میں بھی دھمکی اور سودے بازی کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب ہم ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہیں، تو ہمیں ایبٹ آباد کا وہ سیاہ واقعہ یاد آتا ہے جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت نے ہماری سرحدوں کو پامال کیا اور اسامہ بن لادن کو اٹھا کر لے گئی۔ وہ واقعہ صرف ایک شخص کی گرفتاری نہیں تھی، بلکہ وہ ہماری قومی خودمختاری کے تابوت میں ایک کیل تھی۔ اس واقعے نے پاکستانی عوام کے ذہنوں میں یہ نقش بٹھا دیا کہ ہماری فوجیں، ہمارے جدید میزائل اور ہمارے ٹینک اس وقت بے معنی ہو جاتے ہیں جب سامنے امریکہ کھڑا ہو۔ یہی وہ احساسِ کمتری ہے جو آج ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے کہ ٹرمپ کے نئے منصوبے سے انکار کا مطلب اپنی اور اپنے خاندان کی تباہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس نہج پر پہنچے کیسے؟ ہم جتنی مرضی بڑھکیں مار لیں، سچ تو یہ ہے کہ ہم نے اپنی خودمختاری کا سودا بہت پہلے کر دیا تھا۔ جب ایک ریاست کی معاشی شہ رگ بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) کے قبضے میں ہو، تو اس کی زبان سے نکلنے والے “ایبسولیوٹلی ناٹ” جیسے نعرے ایوانِ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے وبالِ جان بن جاتے ہیں۔ عمران خان کا قصور شاید یہی تھا کہ انہوں نے ایک ایسی معیشت کے ساتھ عالمی طاقت کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کی جو وینٹی لیٹر پر تھی۔ اس جرات کا انجام ہمارے سامنے ہے؛ انہیں نہ صرف اقتدار سے بے دخل کیا گیا بلکہ آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ پیغام صرف ایک لیڈر کے لیے نہیں تھا، بلکہ یہ پورے نظام کے لیے ایک وارننگ تھی کہ جو بھی “روڈ میپ” سے بھٹکے گا، اس کا حشر یہی ہوگا۔
یہاں ہمیں اس “بھیڑیے” کی نفسیات کو سمجھنا ہوگا۔ بھیڑیا ہمیشہ اس بستی پر حملہ کرتا ہے جس کے رکھوالے آپس میں دست و گریبان ہوں۔ پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اس کا داخلی خلفشار ہے۔ جب ریاست اپنے ہی مقبول لیڈروں کو دیوار سے لگاتی ہے، جب عوام کے مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا جاتا ہے، اور جب عوام اور اداروں کے درمیان اعتماد کی خلیج بڑھ جاتی ہے، تو بیرونی قوتوں کو مداخلت کا سنہری موقع ملتا ہے۔ آج پاکستان جس سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، وہ ہماری قومی سلامتی کے لیے ایٹم بم سے بھی بڑا خطرہ ہے۔ جب آپ اپنے ملک کے سب سے مقبول لیڈر کو جیل میں بند کر کے اس پر ناجائز پابندیاں لگاتے ہیں، تو آپ بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ آپ اندرونی طور پر کھوکھلے ہو چکے ہیں۔
بھیڑیے سے بچنے کا واحد راستہ یہ نہیں کہ اس کے سامنے لیٹ جایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ خود کو اس کے لیے “ناقابلِ ہضم” بنا لیا جائے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں چھوٹے ممالک نے سپر پاورز کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ویتنام سے لے کر افغانستان تک، تاریخ بتاتی ہے کہ اگر قوم متحد ہو، تو دنیا کی بڑی سے بڑی فوج بھی اسے زیر نہیں کر سکتی۔ لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم نے اپنی عوام کی طاقت کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔ ہم نے ہمیشہ یہ سمجھا کہ چند طاقتور افراد کے فیصلے ملک کو بچا سکتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل طاقت عوام کی تائید میں ہوتی ہے۔ اگر آج پاکستان میں ایک ایسی حکومت ہو جس کے پیچھے عوام کا حقیقی مینڈیٹ ہو، تو ٹرمپ ہو یا کوئی اور، وہ ہمیں دھمکانے سے پہلے سو بار سوچے گا۔
عزت اور وقار کا راستہ ہمیشہ کٹھن ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں اور ہماری قیادت کو “بیوی بچوں سمیت” نہ اٹھایا جائے، تو ہمیں اپنی معاشی غلامی کی زنجیریں توڑنی ہوں گی۔ جب تک ہم ایک ایک ارب ڈالر کی قسط کے لیے واشنگٹن کے سامنے کشکول پھیلائے رکھیں گے، ہماری خارجہ پالیسی ان کی مرضی کے تابع رہے گی۔ ہمیں اپنی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہوگا، ٹیکسوں کا نظام درست کرنا ہوگا اور کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ جب ہماری جیب میں اپنا پیسہ ہوگا، تب ہی ہماری زبان میں “ناٹ” کہنے کی ہمت پیدا ہوگی۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی خارجہ پالیسی میں توازن لانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دہائیوں تک اپنی تمام تر وابستگیاں ایک ہی بلاک کے ساتھ رکھیں، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج ہم ان کے رحم و کرم پر ہیں۔ ہمیں چین، روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس حد تک مضبوط کرنا ہوگا کہ اگر ایک طرف سے دباؤ آئے، تو ہمارے پاس متبادل راستے موجود ہوں۔ تزویراتی توازن (Strategic Balance) ہی وہ ڈھال ہے جو کسی بھی ملک کو عالمی بدمعاشی سے بچاتی ہے۔
موجودہ صاحبانِ اقتدار جس مصلحت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، وہ عارضی طور پر تو شاید ہمیں کسی بڑے بحران سے بچا لے، لیکن طویل مدت میں یہ ہمیں مزید غلامی کی دلدل میں دھکیل دے گی۔ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ان کے ووٹ کی توہین ہو رہی ہے اور کس طرح ان کے حقوق کو عالمی مفادات کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ ایک قیدی لیڈر کی جیل کی سلاخیں صرف اس کی قید نہیں ہیں، بلکہ وہ اس ملک کی جمہوریت اور عوامی خود مختاری کی قید کی علامت ہیں۔ جب تک ہم اپنے گھر کے اندر انصاف قائم نہیں کریں گے، جب تک ہم اپنے مقبول لیڈروں کو عزت نہیں دیں گے، تب تک دنیا ہمیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گی۔
آخر میں، یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ “بھیڑیا” صرف اس وقت تک شیر ہوتا ہے جب تک سامنے والا خوفزدہ ہو۔ جس دن ہم نے خوف کا بت توڑ دیا، جس دن ہم نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم نے مصلحتوں کے سائے میں سسکنے کے بجائے ایک غیرت مند قوم کی طرح جینا ہے، اس دن کوئی روڈ میپ ہمیں غلام نہیں بنا سکے گا۔ ہماری بقا ایٹمی ہتھیاروں میں نہیں، بلکہ عوامی اتحاد، معاشی خود مختاری اور انصاف کے بول بالا میں ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اپنی اصلاح نہ کی، تو تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی غیرت کا سودا صرف اس لیے کر دیا کہ اسے “بیوی بچوں سمیت اٹھائے جانے” کا خوف تھا۔ فیصلہ اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے: غلامی کی طویل رات یا آزادی کا روشن سویرا؟