یونیورسٹیاں معاشرتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جس سے مثبت معاشرتی تبدیلی ممکن ہوتی ہے۔ یہاں یہ بھی بیان کرتا چلوں کہ یونیورسٹیاں نہ صرف تعلیمی، تخلیقی اور تحقیقی کام کرتی ہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یونیورسٹیاں اعلیٰ سطح ملازمتوں کے لئے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرتی ہیں اور طلباء کو معاشی نمو اور ترقی کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری مہارت اور علم سے لیس کرتی ہیں۔ اس میں تعلیم کے ذریعہ خواتین کو بااختیار بنانا بھی شامل ہے جو زیادہ جامع اور مساوی معاشروں کا باعث بن سکتا ہے۔آج کل ہمارے ملک میں تعلیمی ادارے خاص طور پر یونیورسٹیاں اخلاقی اقدار کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر کافی زبوں خالی کا شکار ہیں۔ معاشی ترقی کے لیے دو کام کرنے ہوں گے۔ پہلا کام موجودہ اخراجات پر قابو پانا اور دوسرا کام ریوینیو کے نےُ ذرائع پیدا کرنا۔
یونیورسٹیوں میں اخراجات کو کنٹرول کرنے کے لئے وسائل کو موثر طریقے سے سنبھالنے کے لئے اسٹریٹجک پلاننگ کی ضرورت ہے۔ اخراجات پر قابو پانے میں مدد کے لئے ضروری ہے کہ بجٹ اور مالی منصوبہ بندی ہو۔ بجٹ کے ایک جامع عمل کو قائم کریں جو یونیورسٹی کے اسٹریٹجک اہداف کے مطابق ہو۔ مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لئے بجٹ کا باقاعدگی سے جائزہ لیں اور ایڈجسٹ کریں۔اس کے علاوہ لاگت کی بچت کے اقدامات پر عمل درآمد ہو، جیسے فی زمانہ توانائی کے ذرائع پر کافی زیادہ لاگت اتی ہے خصوصاً بجلی کے بل کی لاگت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ شمسی توانائی سے استفادہ حاصل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی عمل کو ہموار کرنا، اور سپلائرز کے ساتھ معاہدوں کی تجدید کرنا۔ ایک اہم منصوبہ بندی یہ ہے کہ وسائل مختص ہو اور بنیادی سرگرمیوں‘ جیسے تدریس اور تحقیق پر اخراجات کو ترجیح دیں۔ وسائل کو موثر طریقے سے مختص کریں، اور غیر ضروری منصوبوں کے لئے متبادل فنڈنگ کے ذرائع پر غور کریں۔ باقاعدگی سے مالی کارکردگی کی نگرانی کریں اور اسٹیک ہولڈرز کو بروقت رپورٹس فراہم کریں۔ اس سے بہتری کے لئے جگہوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملتی ہے اور شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ خریداری کے موثر عمل کو نافذ کریں اور سپلائرز کے ساتھ سازگار معاہدوں پر بات چیت کریں۔ یہ وہ نقطہ ہے کہ جہاں اکثر دیکھا جا سکتا ہے کہ کوالٹی‘ کوانٹیٹی اور رعایت کی بجائے خریداری کا عملہ اپنے کمیشن کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ایلومینائی(سابق طلباء) یونیورسٹیوں کو کئی طریقوں سے مالی بحرانوں پر قابو پانے میں مدد کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔سابق طلباء خسارے کو ختم کرنے کیلئے مخصوص اقدامات کی حمایت کرنے میں مالی تعاون‘ عطیات یا فنڈ ریزنگ میں سپورٹ فراہم کرسکتے ہیں جس سے مالی اعانت ممکن ہوجاتا ہے۔ اسی طرح سابق طلباء اپنے پیشہ ورانہ نیٹ ورکس کو شراکت‘ تعاون‘یا کفالت کے قیام کے لئے فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو یونیورسٹی کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔مزید براں سابق طلباء اسٹریٹجک رہنمائی پیش کرسکتے ہیں‘ جس سے یونیورسٹی کو مالی چیلنجوں کو حل کرنے میں مدد کے لئے اپنی مہارت اور تجربہ بانٹ سکتے ہیں۔
