یومِ آزادی اوراتحاد بین المسلمین

14 اگست 1947 محض ایک تاریخ نہیں‘ بلکہ وہ دن ہے جب مسلمانانِ برصغیر نے قربانی، جدوجہد اور اتحاد کے ذریعے ایک آزاد ریاست حاصل کی۔ پاکستان کا قیام کسی ایک فرقے، قوم یا مسلک کی کوشش کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ تمام مکاتبِ فکر کی مشترکہ قربانیوں کا ثمر ہے۔ شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، مہاجر، پنجابی، سندھی، بلوچ اور پٹھان — سب نے ایک ساتھ کھڑے ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا: ”پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!“یہی نعرہ ہر دل کی آواز تھا اور اسی کے تحت سب نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا قائداعظم محمد علی جناح بار بار یہ پیغام دیتے رہے کہ مسلمان صرف مسلمان ہوتا ہے، نہ شیعہ، نہ سنی۔ اُن کی قیادت میں ہر مسلک کے لوگ شامل تھے۔
ان کی نماز جنازہ معروف دیوبندی عالم، مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی، جو ایک تاریخی علامت ہے اتحاد کی۔ علامہ محمد اقبالؒ نے بھی ہمیشہ مسلمانوں کو فرقہ واریت سے دور رہنے کی تلقین کی اور انہیں ایک ملت بننے کی دعوت دی۔ اُن کے الفاظ آج بھی ہمارے لیے چراغِ راہ ہیں:”فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟“شیعہ علماء جیسے علامہ شبیر حسن قمیؒ اور مفتی جعفر حسینؒ نے بھی کھل کر قائداعظم کی حمایت کی۔ وہ کہتے تھے کہ پاکستان کی تحریک پوری امت کی تحریک ہے، نہ کہ کسی ایک طبقے یا فرقے کی۔ یہی جذبہ ہم نے تقسیمِ ہند کے فسادات میں بھی دیکھا، جب پنجاب میں فسادات کے دوران شیعہ اور سنی ایک دوسرے کو پناہ دے رہے تھے۔
دشمن نے صرف ”مسلمان” کو مارنے کی کوشش کی تھی، اور امت نے اُس وقت اپنی اصل پہچان — اتحاد — سے دشمن کو شکست دی۔آج جب ہم یومِ آزادی مناتے ہیں، تو صرف جھنڈا لہرا دینا کافی نہیں۔ ہمیں اُس مقصد کو یاد رکھنا ہوگا جس کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا۔ ہمیں نفرتیں دفن کرنی ہوں گی، فرقہ واریت کو جڑ سے ختم کرنا ہوگا اور محبت، بھائی چارے اور یگانگت کو فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان تب ہی ترقی کرے گا جب ہم ”اتحاد، یقین، قربانی“ جیسے سنہری اصولوں کو اپنائیں گے۔یاد رکھیں، پاکستان سب کا ہے — اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 14 اگست ہمیں آزادی کی خوشی دیتا ہے، مگر ساتھ ہی امت کے اتحاد کی یاد بھی دلاتا ہے۔ آئیے آج ہم سب یہ عہد کریں کہ:ہم سب ایک ہیں!نہ شیعہ، نہ سنی – صرف پاکستانی!پاکستان زندہ باد – اتحاد بین المسلمین پائندہ باد!