گوجرخان (نمائندہ پنڈی پوسٹ) بارش کے بعد گوجرخان کے اکثریتی علاقوں سے گیس غائب ہو گئی،گوجرخان محکمہ سوئی ناردن گیس کی مجرمانہ حرکت گیس پریشر کم کر دیا،اہل علاقہ کا ہانڈی روٹی پکانا دشوار ہو گیا،گھروں کے چولہے بجھ گئے،شہری مہنگے داموں روٹی اور سالن خریدنے پر مجبور،ہر سال زیرو گیس پریشر و لوڈشیڈنگ کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو رہیں ہیں ارباب اختیار نوٹس لیں، ایم پی اے پچھلے سال کی دھمکی کو دہرائیں تو شاید گیس پریشر بحال کر دیا جائے،گیس بحران پر میڈیا سروے میں شہری سوئی ناردن گیس محکمہ پر پھٹ پڑے، تفصیلات کے مطابق گوجرخان کے اکثریتی علاقوں میں حالیہ بارش کے بعد گیس ناپید ہو چکی ہے جبکہ موسم سرما کی شروعات میں ہی کئی وارڈز میں گیس کا ایشو چل رہا تھا گیس بابت شہریوں نے احتجاج کی دھمکی دے رکھی ہے اور اس ایشو کے حوالے سے ایک میڈیا سروے کیا گیا جس میں اہل علاقہ محکمہ سوئی ناردن گیس کی نااہلیوں پر کافی زیادہ نالاں نظر آئے، سروے میں شہریوں نے کہا کہ گوجرخان سے گیس نکال کر راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے بڑے علاقوں میں گیس کی کمی کو پورا کیا جا رہا ہے جبکہ اس گیس پر سب سے پہلا حق گوجرخان عوام کا ہے کروڑوں روپے بلوں کی مد میں ادا کیے جانے کے باوجود گوجرخان عوام کو گیس فراہم نہ کیا جانا لمحہ فکریہ ہے منتخب عوامی نمائندے ایم پی ایز و ایم این اے عوام کے لیے کچھ نہیں کر رہے پچھلے سال ایم پی اے نے محکمہ گیس کے آفیسر کو اس کے آفس گھیراؤ کی دھمکی دی تو فوراً پریشر بحال کر دیا گیا جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گیس موجود ہے محکمہ اوچھی حرکتیں کرکے عوام علاقہ کو ذلیل کرنے کے مشن پر گامزن ہے جس کو روک لگانا منتخب عوامی نمائندوں کا کام ہے اگر جلد ہی گیس ایشو کو حل نہ کیا گیا تو اہل علاقہ جی ٹی روڈ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنا حق لیں گے، شہریوں نے مزید کہا کہ ہر سال محکمہ سوئی ناردن گیس کی اس مجرمانہ حرکت گیس پریشر کمی اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کئی قیمتی انسانی جانوں کا ضیاں ہو رہا ہے اور اگر اس ایشو کو حل نہ کیا گیا تو اس سیزن میں بھی کئی خاندان گیس پریشر و لوڈشیڈنگ کی بھینٹ چڑھیں گے، شہریوں نے کہا کہ غریب آدمی ہوٹل سے کھانا خریدنے کی سکت نہیں رکھتا لیکن موجودہ صورتحال میں وہ مجبور ہو کر ہوٹلوں سے مہنگے داموں روٹی سالن خریدنے پر مجبور ہے گھروں کے چولہے بجھا کر وزیراعظم کونسی ریاست مدینہ بنانے جا رہے ہیں وزیراعظم پاکستان عمران خان اس اہم ایشو پر از خود نوٹس لیتے ہوئے محکمہ سوئی ناردن گیس کا قبلہ درست کریں۔