گوجرخان تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال کے دو ڈاکٹرز کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے 02 ڈاکٹرز خلاف عبد الرحمن جامی قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ساز باز کرتے ہوئے ملزمان کو ریلیف پہنچانے کے الزامات،

پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام نے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رانا محمد عرفان، ڈاکٹر محمد رضوان خلاف اختیارات سے تجاوز خلاف مقدمہ درج کرلیا،

ایم ایس تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان ڈاکٹر سرمد کیانی کے کردار کا تعین دوران تفتیش کرنے کے احکامات،

عبد الرحمن جامی کے کزن  عبد الباسط نے ڈی جی ایٹنی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو مذکوران خلاف اختیارات سے تجاوز، ملی بھگت، رشوت ستانی سمیت غلط پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرنے کے الزامات تحت درخواست دی تھی،

ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن نثار احمد جوئیہ DACE لاہور نے ڈاکٹر عرفان، ڈاکٹر رضوان خلاف انکوائری کی اور شواہد کی روشنی میں دونوں خلاف مقدمے کے اندراج جبکہ ایم ایس ڈاکٹر سرمد کیانی کے کردار کا تعین دوران تفتیش کرنے کی سفارش کی،

عبد الباسط کے مطابق 17 دسمبر کو ہاؤسنگ سوسائٹی میٹرو سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں ایک تقریب دوران ملزم رضوان عرف جانو سیدھے فائر کیے جو کزن عبد الرحمن جامی کو سامنے پیٹ، پیٹ کے قددے بائیں جانب لگے، جو راولپنڈی منتقلی دوران فوت ہوا،

ڈاکٹر رضوان خان نے تفصیلی میڈیکل کیا تھا، بعد ازاں ڈاکٹر رانا عرفان نے پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بدنیتی سے اپنے سرکاری اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ملزمان کو ناجائز فائدہ پہنچایا،۔


عبد الباسط کے مطابق مذکوران نے سیاسی دباؤ م، ملی بھگت سے حقائق کو چھپانے خاطر فائر آرم انٹری بیک سائیڈ سے ظاہر کی جبکہ ابتدائی میڈیکل رپورٹ کو ڈاکٹر رضوان نے تیار کی فائر آرم سامنے سے ظاہر کی۔

ڈاکٹر رانا عرفان نے نے گواہان اور اصل حقائق کے برعکس  پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کرتے ہوئے انجری کے سائز میں بھی کمی بیشی کی،

ملزمان نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ملزمان کو فائدہ پہچانے کے لیے رپورٹ تیار کی،۔

قبل ازیں CEOہیلتھ کو دی درخواست پر انکوائری کمیٹی نے شکایت کو درست تسلیم کرتے ہوئے سیاسی دباؤ تحت میڈیکل بورڈ بنانے کی سفارش کی جو آج تک میڈیکل بورڈ نہ بن سکا،


عبد الباسط کے مطابق تمام ڈاکٹر ایک ہیں اور ایک دوسرے خلاف لکھنا پسند نہیں کرتے، تحصیل ہیڈکوارٹر کے ڈاکٹروں کو تبدیل کیا جائے یہ انکوائری پر اثرانداز ہوتے ہیں،۔

پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ حکام نے انکوائری سفارشات کی روشنی میں تھانہ DACE لاہور میں ملزمان خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی