تحریر: وقار انیس
پاکستان کے شمال میں واقعہ گلگت بلتستان جسے دنیا پہاڑوں کی وادی سے جانتی ہے۔ یکم نومبر 1947 میں ڈوگرہ راج سے اپنی مدد اپ کے تحت ازادی حاصل کرنے والے یہ علاقہ سالوں گزرنے کے بعد اج بھی اپنے آئینی حقوق سے محروم ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ خطہ اپنی جغرافیائی اہمیت اور سی پیک کی وجہ سے پاکستان کا شہ رگ کہلاتا ہے اور وہیں دوسری طرف یہاں کی باسیوں کو یہ احساس کمتری ہے کہ ہماری کوئی شناخت نہیں ہے۔
گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی ائینی حقوق ہے۔ قیام پاکستان سے اب تک گلگت بلتستان کو وفاق میں وہ مقام نہیں ملا جو ایک علاقے کو ایک صوبے کو ملتا ہے۔ اخر کیوں؟
گلگت بلتستان کی ائینی حقوق سے محروم ہونے کی سب سے بڑی ذمہ دار گلگت بلتستان کی عوام ہے ۔گلگت بلتستان کی سیاست ایک ایسی سیاست ہے جو سیاست سے زیادہ مذہب، علاقہ، نسل، زبان اور قومی بنیاد پر لڑی جاتی ہے۔
گلگت بلتستان پاکستان کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ مکاتب فکر یعنی فرقے ہے ۔جس میں اہل سنت، اہل تشیع، اہل حدیث، صوفیہ نور بخشیہ، امامیہ نور بخشیہ، ہمدانی اور اسماعیلی برادری جیسے فرقے شامل ہے۔
بالکل اسی طرح گلگت بلتستان پاکستان کا وہ واحد علاقہ ہے ۔جہاں سب سے زیادہ زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔ جس میں بلتی ،شنا ،بروشسکی ،وخی اور کھوار وغیرہ شامل ہے۔
نتیجہ۔
یہ ایک خوبصورتی ہے کہ اتنی کم ابادی ہونے کے باوجود اس علاقے میں اتنی زیادہ زبانیں اور مکاتب فکر یعنی فرقے کے لوگ بستے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ ان کی اپس میں اتفاق نہیں رہتے۔ کبھی مذہب، کبھی زبان، کبھی نسل، کبھی علاقے کے نام پر جھگڑتے ہیں۔ اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ سیاست میں بھی ان چیزوں کو شامل کرتے ہیں۔ ان کی انہی بیوقوفی کی وجہ سے سیاسی جماعتیں بھی ان چیزوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اور بڑے بڑے وعدے کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرتے ہیں اور اخر میں عوام کو ٹھینگا ملتے ہیں۔ انہی مسئلوں میں گرے رہنے کی وجہ سے گلگت بلتستان کی عوام اج تک ائینی حقوق سے محروم ہے۔
حل۔
اب وقت اگیا ہے کہ عوام ان مسئلوں کے اوپر نظرثانی کرے۔ اخر کب تک ہم ان مسئلوں میں گرے رہیں گے کب تک گلگت بلتستان کے عوام بغیر شناخت کے رہیں گے۔ 2026 کے انتخابات ایک رسمی مشق نہیں بلکہ یہ گلگت بلتستان کے ائینی حقوق کا ابتدا ہونا چاہیے۔ یہ ہمارے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ ہم اپنے پیارے علاقہ گلگت بلتستان کے لیے کچھ کرے کیا پتہ دوسرے انتخابات تک اپ اور میں رہے یا نہ رہے۔ تو یہی وقت ہے کہ ہم گلگت بلتستان کو ائینی حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ان تمام نفرتوں اور جگروں سے بلاتر ہو کر یک زباں ہو جائے۔
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کی مقدر کا ستارہ
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو امین۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.