کوٹلی ستیاں وزیراعظم کی عدم توجہی کا شکار

طاہر محمود ستی‘ نمائندہ پنڈی پوسٹ کوٹلی ستیاں
کوٹلی ستیاں کو تحصیل بنے تیس سال کا عرصہ ہونیوالا ہے لیکن آج بھی مسائل کی دلدل میں ہی پھنسی ہو ئے ہیں کوٹلی ستیاں پسماندگی کی حد تو دیکھیں کہیہاں کی مائیں کئی میلوں پیدل چل کر اپنے سروں پر پانی کے گھڑے رکھے ہوتے ہیںآج بھی یہاں کے مریض کو یہاں کی غیور عوام کندھوں پر رکھ کر ہسپتال تک پہنچاتے ہیں طلباء حصول تعلیم کیلئے کئی کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہیں ٹرانسپوٹر سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے پریشان ہے‘ مسافر گاڑیوں میں سفر سے پہلے زندگی کی آخری دعا مانگتے نہیں بھولتا آج بھی یہاں موجود واحد تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالجس میں فرسٹ ایڈ سے کچھ خاص سہولت نہیں ملتی. اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے نااہل منتخب قیادت,چاپلوسی سیاستدان یا محض صرف اپنے بھتیجوں اور بھانجوں کو صرف کلاس فور کی نوکریاں دلوانے والا مفاد پرست ٹولہ…
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ,,شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
عوام ہر الیکشن میں ووٹ کی پرچی کے استعمال کے بعد گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں اور ممبران اسمبلی صرف اپنے من پسند افراد کو نوازتے ہیں اور وہی من پسند افراد اپنے علاقے کے مسائل کو پس پشت ڈال کر اپنے ذاتیمفاد حاصل کرتے ہیں ہاں اگر ان کا محاسبہ کیا جاتا تو کوٹلی ستیاں آج لوگ پتھر کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے حلقہ پی پی ون سے اکثریت سے مسلم لیگ ن ہی کامیاب ہوتی رہی2013 کے الیکشن میں وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف آئے اور بڑے بڑے منصوبوں کا اعلان کرگئے جن میں آج بھی 80فی صد منصوبہ جات پر عمل نہیں ہوسکااسی طرح جب چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے دھرنا دیاتو دھرنے کے پریشر کو کم کرنے کیلئے میاں نواز شریف نے کوٹلی ستیاں کا رخ کیااور تقریر کے دوران کوٹلی ستیاں کی عوام کو کہا کہ مانگو آج جو کچھ مانگنا ہے مگر اس موقع پر موجود صوبائی وزیر اشفاق سرور نے کہا کہ میاں صاحب عوام کو کچھ نہیں چایے بلکہ یہ آپکے دیدار کیلئے آئے ہیں صوبائی وزیر موصوف تو شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں اور وہ دیدار جیسا شوق بھی رکھ سکتے ہیں مگر اس حلقے کی مسائل زادہ عوام دیدار نہیں بلکہ اپنے مسائل کے حل کیلئے پریشان ہیں میاں برادران نے اپنی تقاریر میں کہوٹی کلیاڑی روڈ کا اعلان کیا مگر وہ شاید یہ بھول گئے کہ اس کہوٹی کلیاڑی روڈ کو بنتے آج تقریبا 25 سال سے زائد گزر چکا ہے مگر وہ آج تک مکمل نہ ہوسکی یہاں کے سرکاری ملازمین کیلئے بل الاوئنس کا اعلان کیا گیا تھا مگر وہ بھی آج تک لارے لپے کی نذر ہورہا ہے.علاقے کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر وزیر اعلی پنجاب نے چئیر لفٹ کا اعلان کیا مگر وہ بھی صرف کاغذات کی نذر ہوگیا
کوٹلی ستیاں کی یونین کونسل دھیرکوٹ ستیاں پانی کی قلت کا شکار ہے مقامی قیادت بھی ارباب اختیار کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر تنگ آچکی ہے مگر ایک یہ منتخب وزیراعظم سمیت دیگر نمائندے ہیں کہ مسلم لیگی مقامی قیادت کو روز ایک نئی کمپنی کا لالی پاپ دیتے ہیں جیسے وہ ٹیسٹ کر تے کرتے چھ ماہ گزار دیتے ہیں یہ وقت لالی پاپ لینے کا نہیں بلکہ مسلم لیگی مقامی قیادت کو چا ہیے کہ حلقے سے منتخب ہونیوالے ممبر قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی وزیراعظم پاکستان کے منصب تک پہنچ چکے ہیں ان سے پسماندگی کے خاتمے کیلئے میگا پراجیکٹس منظور کروائیں
کوٹلی ستیاں کی یونین کونسل کا بھی ایشو جسکی وجہ سے بلدیاتی الیکشن سے محروم ہے جس حلقے سے وہ چھ مرتبہ ممبر قومی اسمبلی بنے وہاں تحصیل کوٹلی ستیاں کی یونین کونسل کا بحال نہ ہونا انکی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے شاہد خاقان عباسی بطور وزیراعظم ان کے پاس وقت نہیں توصوبائی وزیر اشفاق سرور کو چایے کہ حلقے کی عوام کے بنیادی مسائل کی طرف توجہ مبذول کروائیں اگر اشفاق سرور صاحب خود مخلصانہ کاوش کریں تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے اگر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے اپنے اس دور اقتدار میں حلقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی ظاہر نہ کی عوام انہیں 2018 کے الیکشن میں مسترد کرسکتی ہے جس طرح چئرمین یوسی نڑڑ بلال یامین ستی نے نڑڑ کی تعمیر و ترقی کیلئے سابق وزیراعظم نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے کڑوڑوں کے منصوبہ جات مکمل کروائے اور کئی منصوبوں پر کام جاری ہے اسی طرح لیگی مقامی قیادت کو چایے کہ اپنے ذاتی مفادات کو بالا طاق رکھ کر اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کریں کونکہ ایسے نادر مواقع بار بار نہیں ملتے دوسری طرف پیپلزپارٹی کے رہنما اور امیدوار ایم این اے آصف شفیق ستی کی طرف سے بھرپور انتخابی مہم سے انکے مخالفین بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں پی ٹی آئی کی طرف سے کسی بھی امیدوار کو ٹکٹ کی مکمل یقین دہانی نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی سابق حلقہ این اے پچاس میں تذبذب کا شکار ہے نظریاتی ورکرز صداقت علی عباسی کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے بھرپور مہم چلارہے ہیں جبکہ مرتضی ستی پی ٹی آئی کی اعلی قیادت سے گہرے مراسم ہونیکی وجہ سے ٹکٹ کے حوالے سے مطمئن نظر آتے ہیں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی ٹی آئی الیکشن 2018 میں کس کو میدان میں اتارے گی چھاتہ واروں کو یا حقیقی ورکروں کو؟حال ہی میں بننے والی نئی سیاسی پارٹی تحریک لبیک یارسول اللہ نے بھی اپنا امیدوار این اے پچاس سے میدان میں لانے کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں جماعت اسلامی بھی این اے پچاس سے دوسری جماعتوں کی طرح اہنا مضبوط امیدوار میدان میں اتارنے بارے میں سوچ بچار کررہی ہے جسکی وجہ سے حلقہ این اے پچاس (سابقہ) میں ایک بھرپور سیاسی میچ ہوتا نظر آرہا ہے


Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

اپنا تبصرہ بھیجیں