کوٹلی ستیاں سیاحوں کیلئے جنت نظیر

طاہر ستی‘ نمائندہ پنڈی پوسٹ
کوٹلی ستیاں سیاحوں کیلئے جنت نظیر سے کم نہیں مری بائیکاٹ مہم کے بعد سیاحوں نے کوٹلی ستیاں کی طرف رخ کرلیا کوٹلی ستیاں میں سہولیات کا تھوڑا فقدان ضرور ہے مگر قدرتی حسن سے مالا مال سرسبز شاداب اونچے پہاڑ بہتی ندیاں اور ہرے بھرے جنگلات شدید گرمی میں دسمبر جیسا سماں سیاحوں کو ایک پاور میگنٹ کی طرح کھینچ لاتا ہے کوٹلی ستیاں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد سے صرف 56 کلومیٹر اور ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے کوٹلی ستیاں ایک پرامن علاقہ ہے جہاں ہرشخص احترام سے پیش آنیوالا اور حسن اخلاق کا مالک ہے ہر طرح کی اشیا سستے داموں ملتی ہیں کوٹلی ستیاں کی طرف آتے ہوئے راستے میں نیلا سند پکنگ پوائنٹ موجود ہے جہاں بہترین پارک اور ٹھنڈے اور تازہ پانی سے لطف اندوز ہونے کیلئے نیلا سند جھیل بھی موجود ہے جہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں سیاح لوڈشیڈنگ کے ستائے گرمی کی تپش کو کم کرنے اور ٹھنڈے موسم کو انجوائے کرنے ادھر کا رخ کرتے ہیں کوٹلی ستیاں کی ٹھنڈی فضائیں گن گلی کے موڑ اور وادی دلہوڑ کے خوبصورت ٹیلے گویا کہ آنیوالے مہمانوں کو خوش آمدید کرنے کیلئے کھڑے ہیں کوٹلی ستیاں کی وادی کرور سمبلی ڈیم کا اپنا ہی کچھ الگ مزہ ہے نیلے صاف و شفاف پانی کی بہتی ندیاں وادی کے حسن کو چار چاند لگارہی ہیں کوٹلی ستیاں بظاہر ایک بڑا ٹوریسٹ پوائنٹ نہ ہونے کے باعث بڑے ہوٹل بہت کم ہیں مگر پھر بھی ان دو چار ہوٹل میں کھانا ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک لذیذ و تازہ ہوتا ہے یہاں رہائش کیلئے بھی انتہائی سستے داموں کمرہ بک کرایا جاسکتا ہے مری میں بڑھتی مہنگائی کا طوفان ہے جس کی نسبت کئی گنا کم اشیاء خوردو نوش حاصل کی جاسکتی ہیں مری بائیکاٹ مہم کا حصہ تو نہیں بننا چاھتا مگر مری سے تنگ سیاحوں کو ایک با رکوٹلی ستیاں ٹوریسٹ پوائنٹ پر آنے کی دعوت دیتا ہے جو ایک بار کوٹلی ستیاں کی پہاڑیوں اور آبشاروں کی سیر کرچکا ہے وہ اب بھی کوٹلی ستیاں کی قدرتی خوبصورتی کی تعریفیں کرتا ہے راولپنڈی اسلام آباد سمیت پورے پاکستان میں گرمی کی بڑھتی ہوئی شدت اور لوڈشیڈنگ سے تنگ عوام کیلئے ایک بہترین ماحول ٹھنڈی اور پرسکون فضا صرف کوٹلی ستیاں ہی ہے نہ ٹریفک کا شور نہ فیکٹری کا زہر آلود دھواں اور نہ پارکنگ کی کوئی فیس سیاحوں کیلئے کوٹلی ستیاں جنت نظیر سے کم نہیں ہے اور ہاں بارش میں ٹوریسٹ پر آنے والے سیاح اپنے ساتھ موٹی چادر یا کمبل ضرور رکھیں جون جولائی میں فروری جیسے موسم کا مزہ صرف کوٹلی ستیاں میں ہی مل سکتا ہے بارش میں کوٹلی ستیاں کی سیر کا مزہ کچھ الگ ہی ہوتا ہے ٹھنڈا موسم گرما گرم پکوڑے سموسے چائے کافی کا مزہ بھی اپنا ہی ہوتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں