حالیہ برسوں میں کم عمری کی شادی کا موضوع سوشل میڈیا سے لے کر عدالتوں اور پارلیمان تک زیرِ بحث رہا ہے۔ سیاسی جلسوں میں اس مسئلے پر شدید لفاظی گولہ باری ہو رہی ہے اور ہر محفل ہر مجلس میں اس مسئلے پر گفتگو ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اگر کہیں کم عمری کی شادی کا کوئی واقعہ ہو جائے تو اسے ایک انتہائی گھناؤنے جرم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور میڈیا پر اسے اس طریقے سے دکھایا جاتا ہے کہ عوام میں اس سے خوف سا پھیل جاتا ہے، پھر ہمارے میڈیا سے ہوتا ہوا بین الاقوامی میڈیا تک پہنچتا ہے اور وہاں کم عمری کی شادی پر پاکستان کو ایک پسماندہ اور جاہل عوام سے بھرپور ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس بحث میں عموماً دو انتہائیں دکھائی دیتی ہیں: ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر صورت میں اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کو ظلم قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف وہ حلقے ہیں جو اسے مکمل مذہبی حق سمجھتے ہوئے کسی زمینی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے۔ حقیقت مگر ان دونوں کے بیچ کہیں موجود ہے اور اسی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
میڈیکل سائنس کے مطابق لڑکے اور لڑکیاں عموماً گیارہ، بارہ یا تیرہ برس کی عمر میں جسمانی بلوغت کے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں۔ مگر کیا صرف جسمانی بلوغت ازدواجی زندگی کے لیے کافی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہر بچہ ایک جیسی جسمانی و ذہنی صلاحیت نہیں رکھتا، کچھ بچے جلدی سمجھدار ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ بچوں میں دیر تک پچپنا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہربچے پر ایک جیسا قانون نافذ کرنا عقلمندی کے خلاف ہے۔ ہر بچے کا فیصلہ اس کے مطابق کرنا چاہیے کہ کیا یہ بچہ اس بوجھ کو اٹھانے اور ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہے یا نہیں۔ مثلاً ایک بچہ گیارہ سال کی عمر میں بالغ ہو گیا اور ساتھ ہی وہ ازدواجی تعلقات کے حوالے سے حساس بھی ہے اسے بھی اٹھارہ سال کی عمر پوری ہونے تک روکے رکھنا اور دوسرا بچہ جو تیرہ سال کی عمر میں بالغ ہوا اور اسے ازدواجی تعلقات کے متعلق کوئی علم یا دلچسپی نہیں ہے اس کی جلدی شادی کرا دینا دونوں ظلم ہیں۔
ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ہم نے مغرب کا مخلوط تعلیمی و پیشہ ورانہ نظام تو اپنا لیا مگر اس کے ساتھ وابستہ سماجی ڈھانچے اور نظریاتی آزادی کو پوری طرح قبول نہیں کیا۔ نتیجتاً نوجوان ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں میڈیا محبت اور تعلقات کو رومانوی انداز میں پیش کرتا ہے، تعلیمی ادارے مخلوط ہیں، مگر شادی کے لیے عمر، تعلیم اور کیریئر کی لمبی شرطیں عائد ہیں۔ اس خلا میں جذباتی دباؤ، خفیہ تعلقات، ذہنی تناؤ اور بعض اوقات افسوسناک واقعات جنم لیتے ہیں۔ یہ مسئلہ محض قانون کا نہیں بلکہ سماجی توازن کا ہے۔ہمارا معاشرہ اگر اسلامی معاشرہ ہے تو ہمیں مغرب سے متاثر ہوئے بغیر مکمل طور پر اسلامی قوانین کو اپنانا چاہیے جس میں جنس مخالف کو بلوغت کے وقت اور بعد میں ایک دوسرے سے دور رکھنے کی ہدایات ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے کی طرف راغب نہ ہوں ذہنی دباؤ میں آکر اخلاق باختہ حرکات نہ کریں۔
اسلامی نقطہ ئنظر سے دیکھا جائے تو نکاح محض جسمانی ضرورت نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ سماجی معاہدہ ہے۔ فقہائے کرام نے بھی صرف بلوغت نہیں بلکہ معاملات سنبھالنے کی صلاحیت کو اہم قرار دیا ہے۔ اسلام نے عددی عمر متعین نہیں کی مگر یہ بھی واضح ہے کہ نکاح کا مقصد سکون، ذمہ داری اور خاندان کی تشکیل ہے۔ لہٰذا ریاست کو بھی محض مغرب سے متاثر ہو کر حقائق کے برعکس عمر مقرر کرنے کی بجائے ایک درمیانہ راستہ اپنانا چاہیے۔ امریکہ کی کئی ریاستوں میں شادی کوئی کم سے کم عمر مقرر نہیں ہے اور کچھ ریاستوں میں بارہ سال کی عمر میں بھی شادیاں ہوتی ہیں حالانکہ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں شادی کے بغیر تعلقات کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ تو جب ہمارے معاشرے میں جہاں نکاح کے بغیر تعلقات پر سخت پابندی ہے جو کہ بالکل درست ہے، تو یہاں بلوغت کے بعد کئی سال تک نکاح پر بھی پابندی ہو تو نوجوان گھناونے جرائم کا ارتکاب کرتے نظر آئیں گے یا ذہنی تناؤ کا شکا ہو جائیں گے۔
کیریئر کے نام پر شادی کو غیر معینہ مدت تک مؤخر کرنا بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔ تاخیر سے شادی بعض اوقات حیاتیاتی پیچیدگیوں، بانجھ پن، یا نفسیاتی تنہائی کا سبب بن سکتی ہے۔ جاپان اور برطانیہ جیسے ممالک میں تنہائی ایک سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اسلام بلوغت کے فوراً بعد شادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر بلوغت کے بعد بچوں کی شادی نہ کرائی جائے اور پھر وہ کسی گناہ میں ملوث ہو گئے تو والدین بھی گناہگار ہوں گے۔ لہٰذا مسئلے کا حل انتہاؤں میں نہیں بلکہ حکمت میں ہے۔ ایک ممکنہ راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ قانونی عمر کو کم کرتے ہوئے ایسے معاملات میں عدالت کو استثنائی اختیار دیا جائے جہاں دونوں فریق بالغ، رضامند اور ذہنی طور پر اہل ہوں۔ اس کے ساتھ والدین اور نوجوانوں کے لیے رہنمائی پروگرام، اسلامی اور سائنسی بنیادوں پر آگاہی مہمات اور سماجی تعلیم کے ساتھ شادی کو ہم آہنگ کرنے کی پالیسی ترتیب دی جائے۔
آخرکار ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نہ تو ہر کم عمری کی شادی ظلم ہے اور نہ ہر تاخیر دانشمندی۔ اصل معیار شعور، رضامندی، صحت اور ذمہ داری ہے۔ اگر ہم جذبات کے بجائے حکمت سے کام لیں، تو ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے جو نہ صرف اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ہو بلکہ جدید سائنسی حقائق کو بھی نظرانداز نہ کرے۔ معاشرے کی مضبوطی اسی میں ہے کہ وہ اپنی نئی نسل کو نہ بے لگام چھوڑے اور نہ بے جا پابندیوں میں جکڑے بلکہ اسے توازن، رہنمائی اور باوقار فیصلے کا حق دے۔
ضیاء الرحمن ضیاءؔ
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.