
تحصیل گوجر کا تاریخی گاؤں بھیر کلیال،بھیر کلیال تحصیل گوجرخان کی حدود میں سطح مرتفع پوٹھوہار کے قلب میں واقع ایک گاؤں کا نام ہے لفظ بھیر مقامی زبان میں بلند ٹیلے یا اونچی جگہ کو کہا جاتا ہے اور یہ گاؤں بھی اردگرد کے علاقوں کی نسبت ایک اونچی جگہ پر واقع ہےیہاں کی زمین پتھریلی اور ڈھلوانوں پر مشتمل ہے چونکہ بارانی علاقہ ہے ڈھلوانوں پر فصلوں کی کاشت بھی کی جاتی ہے بھیر کلیال کے اردگرد ایسے کئی دیہات اور ڈھوکیں ہیں جہاں کلیال قبیلہ کے خاندان اکثریت میں آباد ہیں قبائلی روایات تاریخی تحریروں جیسے پنڈی پوسٹ، نئی پاکستان ہسٹورین اور دستیاب ریکارڈز 1880-1900ء کے بندوبست کے مطابق بھیرکلیال سب سے مشہور اور بڑا گاؤں ہے جبکہ دیگر دیہات میں دریالہ کلیال چہاری کلیال نتھیہ کلیال ڈھوک کلیال توپ کلیال ہجیاری کلیال، ہیر کلیال، بوچہ کلیال، تبڑیالہ کلیال اور پنڈ کلیال جیسے نام بھی ملتے ہیں،جو کلیال بھٹی سے جڑے ہیں ایک اندازے کے مطابق تحصیل گوجرخان میں تقریباً 381 گاؤں ہیں جن میں کلیال نامی دیہات کی تعداد 10 سے زائد ہے۔تاریخی روایات اور نسب دانوں کے مطابق راجہ کل چن جنہیں بعض مقامات پر راجہ کل یا کلی خان بھی کہا گیا ہے کےبیٹوں کی نسل نے اس دیہات میں سکونت اختیار کی تاہم موضع کی تاریخ کے مطابق اصل بنیاد 15ویں صدی میں آوان گنگال نے رکھی تھی یہ موضع تقریباً 450 سال پرانا ہے۔ تقریباً 1600ء کے آس پاس یہاں اعوان گنگال کے پانچ خاندان آباد تھے۔17ویں صدی کے نصف تک یہاں صرف آوان گنگال ہی آباد رہے، یعنی یہ ان کی اصل بنیاد اور مکمل ملکیت تھی بشمول زمین، تالاب وغیرہ17ویں صدی کے آخر میں طاعون کی وبا کے دوران ڈہوک الو سے کچھ بھٹی کلیال راجپوت آ کر یہاں آباد ہوئے مستند دستاویزات جیسے1911ء یا 1950ءکی مردم شماری، پٹواری ریکارڈ، یا برطانوی دور کی Gazetteer میں کلیال کو بھٹی راجپوت کی ایک گوت کے طور پر درج کیا گیا ہے یہاں کے کلیال راجپوتوں کا تعلق عام طور پر سوہاوہ توپ کلیال یا اراضی خاص کی کلیال شاخوں سے جا ملتا ہے تاہم تصدیق کے لیے ازسرنو تاریخی اوراق و دادکے کی کتاب کو چھاننے کی ضرورت ہے جو فی الحال دستیاب نہیں آج بھی بھیر کلیال میں کلیال بھٹی راجپوت اکثریت میں ہیں کلیال بھٹی راجپوت اپنا شجرہ نسب شری کرشن جی چندر ونش سے جوڑتے ہیں مختلف روایات اور مراسی/دادکے کتابوں کے مطابق جد امجد راجہ کل سین بھٹی یا راجہ کل سین جو لیہ، بھکر، کہروڑ پکا اور میانوالی کا راجہ تھا جو راجہ کیہر بھٹی بانی کہروڑ پکاکی اولاد سے تھا تاریخ کی کتابوں میں تمام بیٹوں کے ناموں پر اتفاق نہیں ہے، لیکن کلیال قبیلے کی مقامی روایات میں درج ذیل ناموں کا ذکر نمایاں ملتا ہےراجہ جسرت بعض روایات کے مطابق یہ راجہ کل چن کی نسل کے ایک طاقتور جنگجو تھےجن کا ذکر دہلی سلطنت کے خلاف جدوجہد میں بھی آتا ہےتاریخی روایات کے مطابق راجہ جسرت کے کئی بیٹے تھے جن کی اولادیں پنجاب اور کشمیر کے مختلف حصوں میں پھیل گئیں۔ ان میں سے راجہ جسپال راجہ اکال اور راجہ ہمیر مشہور ہیں بھیر کلیال اور گرد و نواح کے کلیالوں کا شجرہ نسب اکثر راجہ جسپال سے ہوتا ہوا راجہ جسرت تک پہنچتا ہے۔راجہ جسرت کی وفات کے بعد ان کی اولاد میں ریاست تقسیم ہوئی اور مختلف بیٹوں نے الگ الگ علاقوں کو اپنا مرکز بنایا تاریخی حوالہ سے راجہ جسرت کے بارے میں سب سے مستند معلومات تاریخِ مبارک شاہی اور طبقاتِ اکبری میں ملتی ہیں جہاں ان کی فتوحات اور دہلی پر حملوں کا ذکر ہےقبائلی شجروں میں انہیں ایک غازی اور فاتح کے طور پر یاد کیا جاتا ہےراجہ جسپال جو کہ راجہ جسرت کے سب سے نامور بیٹے مانے جاتے ہیں وہ کلیال قبیلے کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں پوٹھوہار اور خصوصاً بھیر کلیال کے اکثر خاندان اپنا سلسلہ نسب انہی سے جوڑتے ہیں بھیر کلیال کے اکثر بزرگوں کا ماننا ہے کہ ان کی اصل لڑی راجہ کالو سے شروع ہوتی ہے دوسرے بیٹے کا نام راجہ کلی اور بعض روایات میں انہیں کل چن ثانی کے نام سے بھی لکھا پکارا جاتا ہے ان کی اولاد گوجر خان کے وسطی علاقوں میں آباد ہوئی اور ان کی اولاد نے دریائے جہلم کے کنارے سکونت اختیار کی بھیر کلیال کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ یہاں کے کلیال خود کو راجہ کالو کی اولاد بتاتے ہیں جو کہ راجہ جسپال کے فرزند تھے راجہ جسپال کی نسل سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ جو راجہ کالو کی لڑی سے تھے نے اس بلند مقام بھیر کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیا جو بعد میں بھیر کلیال کے نام سے مشہور ہوا راجہ جسپال کی نسل سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ جو راجہ کالو کی لڑی سے تھے نے اس بلند مقام بھیر کو اپنی رہائش کے لیے منتخب کیاجو بعد میں گاؤں بھیر کلیال کے نام سے مشہور ہوا راجہ جسپال کے بیٹوں کا دور وہ تھا جب مغل سلطنت برصغیر میں قدم جما رہی تھی اس وقت ان شہزادوں نے اپنی مقامی خود مختاری برقرار رکھنے کے لیے مغلوں اور دیگر حملہ آوروں کے ساتھ کئی معرکے لڑے اور بالآخر اس خطے پوٹھوہار کے مستقل زمیندار اور چوہدری قرار پائے اور نمبرداری بھی کالو خان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے،بھیر کلیال گاؤں کی تاریخ اور تحصیل کلرسیداں یوسی بشندوٹ کے گاؤں اراضی خاص میں مقیم کلیال بھٹیوں کی تاریخ آپس میں منسلک ہے کیونکہ دونوں کے جدامجد راجہ کالو ہی ہیں اور مزید تحقیق سے تاریخی حقائق کھل کر سامنے آسکتے ہیں کہ بھیر کلیال توپ کلیال تنگدیو ایسراں کے کلیال بھٹی کسی نہ کسی پشت پر آپس میں رشتہ دار ہیں