مشہور قول ہے کہ “لائف از فار لیونگ”، یعنی زندگی جینے کے لیے ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ہم زندگی کو واقعی جی رہے ہیں یا محض وقت گزار رہے ہیں؟ کیا زندگی صرف سانس لینے، دن پورے کرنے اور سال کاٹنے کا نام ہے یا پھر شعور، احساس، زندہ دلی اور انسانیت کے ساتھ جینے کا نام ہے؟ یہ سوال آج کے دور کے انسان کے لیے سب سے بنیادی اور اہم سوال بن چکا ہے۔
ہم اکثر زندگی کی ناپائیداری اور بے ثباتی پر بڑی سنجیدہ گفتگو کرتے ہیں۔ کوئی ویڈیو پیغام بنا رہا ہوتا ہے، کوئی جذباتی اسٹیٹس لگاتا ہے، کوئی طویل مضمون تحریر کرتا ہے کہ نفرتیں ختم ہونی چاہئیں، سازشوں سے اجتناب کرنا چاہیے، اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی روش ترک کر دینی چاہیے۔ اس وقت سب کچھ بہت سچ اور قابلِ عمل محسوس ہوتا ہے۔
چند لمحوں یا دنوں کے لیے واقعی ایسا لگتا ہے کہ شاید اب سوچ بدل جائے گی، رویے بدل جائیں گے، اور معاشرہ کچھ بہتر سمت میں آگے بڑھے گا۔ لوگ یہ ماننے لگتے ہیں کہ زندگی عارضی ہے، سب کچھ یہیں رہ جانا ہے، اور اصل پہچان انسان کے کردار، اخلاق اور اعمال سے ہوتی ہے۔
مگر بدقسمتی یہ ہے کہ یہ احساس عارضی ثابت ہوتا ہے۔ وقت گزرتا ہے، حالات معمول پر آتے ہیں، اور انسان پھر اسی پرانی ڈگر پر چلنے لگتا ہے۔ وہی نفرتیں، وہی سازشیں، وہی چھوٹی سوچ اور وہی خود غرضی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔
لوگ ایک دوسرے کے خلاف خاموش منصوبے بنانے لگتے ہیں۔ جو لوگ آپ کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، آپ کا ہاتھ تھام کر چلتے ہیں، انہی کی پیٹھ میں خنجر اتارا جاتا ہے۔ اعتماد، جو کسی بھی رشتے کی بنیاد ہوتا ہے، سب سے پہلے قربان کر دیا جاتا ہے۔
آج کے دور میں کردار کشی کو بڑی آسانی سے اختیار کر لیا گیا ہے۔ سچ جانے بغیر الزام لگانا، افواہیں پھیلانا اور کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اسے بعض لوگ ہوشیاری، ذہانت یا حکمتِ عملی سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ یہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح علامت ہے۔
کسی کو آگے بڑھتا دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے دل میں حسد، جلن اور بغض پیدا ہو جانا اب عام رویہ بن چکا ہے۔ حالانکہ حسد نہ کسی کا رزق کم کرتا ہے اور نہ ہی کسی کی کامیابی روک سکتا ہے، بلکہ یہ سب سے زیادہ نقصان خود حسد کرنے والے کو ہی پہنچاتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ نہ دولت ساتھ جائے گی، نہ عہدے، نہ شہرت اور نہ ہی وقتی طاقت۔ قبر میں صرف انسان کا کردار، اس کے اعمال اور اس کے رویے اس کے ساتھ ہوں گے۔ مگر اس سچائی کو جاننے کے باوجود ہم اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے سے قاصر رہتے ہیں۔
چند لمحوں کی وقتی برتری، تعریف یا انا کی تسکین کے لیے ہم رشتے توڑ دیتے ہیں، دل دکھا دیتے ہیں اور برسوں کی وابستگیاں ختم کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ انسان کو استعمال کر کے حاصل کی گئی کامیابی دراصل سب سے بڑی ناکامی ہوتی ہے۔
پیٹھ پیچھے وار کرنے والے بظاہر خود کو کامیاب سمجھتے ہیں، وقتی خوشیاں مناتے ہیں اور خود کو فاتح تصور کرتے ہیں۔ مگر یہ خوشیاں اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں، کیونکہ بے ایمانی، دھوکے اور فریب پر کھڑی عمارت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔
ایسے ماحول میں سازشیں پھلتی پھولتی ہیں، حسد کے بیج درخت بن جاتے ہیں اور نفرتیں دلوں میں مستقل ٹھکانہ بنا لیتی ہیں۔ نتیجتاً پورا معاشرہ بداعتمادی، خوف اور منافقت کا شکار ہو جاتا ہے۔
یہ تمام اعمال بظاہر زندہ انسان انجام دے رہے ہوتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ مردہ ذہنوں کی پیداوار ہوتے ہیں۔ یہ ایسی سوچ ہے جس میں زندگی کی روح باقی نہیں رہتی، صرف مفاد اور خود غرضی رہ جاتی ہے۔
اگر واقعی ہم یہ مانتے ہیں کہ “لائف از فار لیونگ” ہے، تو پھر ہمیں زندگی کو مثبت انداز میں جینے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔ زندگی کو بوجھ نہیں بلکہ نعمت سمجھنا ہوگا، اور اس نعمت کو دوسروں کے لیے آسانی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔
یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم کبھی کسی کے دکھ، تکلیف یا نقصان کا سبب نہ بنیں۔ جو لوگ ہم پر اعتماد کرتے ہیں، ہمیں کھلے دل سے قبول کرتے ہیں، ان کے اعتماد کو امانت سمجھنا چاہیے، نہ کہ کمزوری۔
اعتماد ٹوٹ جائے تو رشتے صرف نام کے رہ جاتے ہیں۔ پھر نہ ساتھ چلنے کا مزہ رہتا ہے اور نہ ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے کی ہمت باقی رہتی ہے۔
ساتھ رہتے ہوئے دل میں سازشیں پالنا سب سے خطرناک منافقت ہے۔ یہ وہ زہر ہے جو پہلے انسان کے اپنے دل کو کھوکھلا کرتا ہے، پھر آہستہ آہستہ پورے ماحول کو آلودہ کر دیتا ہے۔
یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ڈنگ مارنا بچھو اور سانپ کی فطرت ہے۔ اگر ہم انسان ہیں تو ہمیں انسان کی فطرت اپنانی چاہیے، جس میں رحم، برداشت، احساس اور سچائی شامل ہیں۔
زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں، نہ کہ بوجھ۔ کسی کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا دراصل اپنے دل کو حسد اور نفرت سے پاک رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
جو لوگ دوسروں کو گرانے میں لگے رہتے ہیں، وہ درحقیقت خود کو بلند کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے۔ حقیقی بلندی وہی ہوتی ہے جو دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کی جائے۔
مقابلہ اگر کرنا ہے تو کردار میں کریں، محنت میں کریں اور اخلاق میں کریں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہ بنائیں، اور تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنے کے بجائے اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
زندگی بہت مختصر ہے، اور وقت سب سے قیمتی سرمایہ۔ اس قیمتی وقت کو نفرتوں، سازشوں اور حسد میں ضائع کرنا خود اپنے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے جانے کے بعد لوگ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کریں، تو ہمیں آج اپنے رویے، اعمال اور نیت درست کرنی ہوگی۔ کیونکہ یادیں صرف باتوں سے نہیں، رویوں سے بنتی ہیں۔
زندگی واقعی جینے کے لیے ہے. مثبت سوچ کے ساتھ، صاف نیت کے ساتھ اور انسانیت کے دائرے میں رہ کر۔ یہی زندگی کا اصل حسن ہے، اور یہی “لائف از فار لیونگ” کا حقیقی مفہوم بھی ہے۔
تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی