زاہد نقیبی
تقریباً 5 ماہ قبل صبح سویرے حسب روٹین فیس بک دیکھتے دیکھتے ایک اشتہار نظروں سے گزرا کہ سٹی ٹریفک پولیس راولپنڈی کی جانب سے تحصیل کلرسیداں میں 15 روزہ ڈرائیونگ کورس کرایا جاتا ہے۔ اشتہار میں دئیے گئے فون نمبر پر انسپکٹر بلال قریشی سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ ہفت روزہ پنڈی پوسٹ سے زاہد نقیبی بات کر رہا ہوں انہوں نے کہا کہ جی حکم کریں میں نے جواباً کہا کہ جناب سے درخواست ہے کہ میرا بیٹا ڈرائیونگ سیکھنا چاہتا ہے تو انہوں نے فوراً اپنے ڈرائیونگ ٹریننگ سکول کے دورانیہ، ٹائمنگ اور قواعد و ضوابط سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ فلاں تاریخ سے بیٹے کو بھیج دیں۔
میں نے مزید بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ سر مجھے بھی ساتھ آنے پڑے گا تو انہوں نے کہا کہ آپ کو ساتھ آنے کی ضرورت نہیں بچوں کو اکیلا ہی باہر آنے جانے دیا کریں خیر میں نے ان کی بات مان لی اور کورس کی مقررہ تاریخ پر بیٹے کو ڈرائیونگ ٹریننگ سکول کلرسیداں بھیج دیا پھر گاہے بگاہے بلال قریشی صاحب سے فون پر بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن ابھی تک بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی اور اسی طرح یہ ٹیلی فوننگ رابطہ آگے بڑھتا گیا بلکہ انہوں نے خود ایک دفعہ اپنے دوسرے بھائیوں کا ذکر کیا کہ میرے تین اور بھائی بھی محکمہ پولیس میں ہیں اس وقت میں نے ان کی یہ بات سنی ان سنی کر دی اور الحمد للہ میرے بیٹے نے نفیس شخصیت کے مالک بلال قریشی صاحب کی نگرانی میں ڈرائیونگ کورس مکمل کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب بھی ڈرائیونگ ٹریننگ سکول کلرسیداں کے کورسز کا اشتہار ہوتا ہے تو بلال قریشی صاحب مجھے واٹس ایپ کرتے ہیں کہ پنڈی پوسٹ اور اپنی فیس بک وال پر لگا دیں اور دیگر واٹس ایپ گروپس میں شیئر کر دیں۔
گزشتہ ہفتے بلال قریشی صاحب کا مجھے واٹس ایپ پر مجھے میسج آیا کہ الحمد للہ کہ میرے دونوں بھائی سب انسپکٹر محمد لقمان پاشا اور سب انسپکٹر حافظ خلیل الرحمان انسپکٹر کے عہدہ پر پروموٹ ہو گئے ہیں جس پر میں نے انہیں مبارکباد پیش کی اور انکے بھائیوں کی خبر بمعہ تصویر اپنی فیس بک وال پر لگائی اور ساتھ ہی یہ خبر بمعہ تصویر پنڈی پوسٹ کے چیف ایڈیٹر عبد الخطیب چوہدری صاحب کو واٹس ایپ کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دو اور بھائی بھی محکمہ پولیس کا حصہ ہیں انہوں نے فوری مجھے فون کیا کہ آپ دوسرے دو بھائیوں کی تصاویر منگوائیں کیونکہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہے اور ہم اس کو اچھے طریقے سے شائع کریں گے اور پھر پولیس جیسے محکمے میں چار افسران باریش بھائیوں کی خبر پنڈی پوسٹ کی زینت بنی۔
اس کے دو تین دن بعد محکمہ پولیس کے دفتر میں تقریب منعقد ہوئی جس میں آئی جی پنجاب نے انسپکٹر کے عہدے پر پروموٹ ہونے والے دو بھائیوں سب انسپکٹر کو لقمان قریشی اور سب انسپکٹر خلیل الرحمن قریشی کو انسپکٹر کے عہدے کے بیجز لگائے اور پتہ چلنے پر کہ انکے دوسرے دو بھائی بھی محکمہ پولیس کا حصہ ہیں تو انہوں نے چاروں بھائیوں کو سٹیج پر بلوا کر تصاویر بنوائیں اور آئی جی صاحب اور دیگر افسران نے مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اس وقت آئی جی صاحب کے ساتھ دائیں بائیں کھڑے یہ چاروں بھائی فیس بک کی زینت بنے ہوئے ہیں
گوجرخان کے نواحی گاؤں کلیال سے تعلق رکھنے والے قریشی برادران نے اپنی محنت، لگن اور دیانتداری سے محکمہ پولیس میں ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک تاریخی موقع اس وقت آیا جب دو بھائی لقمان قریشی اور خلیل الرحمن قریشی کو بیک وقت سب انسپکٹر سے انسپکٹر کے عہدے پر ترقی دی گئی اور باقاعدہ بیجز لگائے گئے۔ یہ دونوں بھائی ایک ہی دن محکمہ پولیس میں بھرتی ہوئے تھے اور آج ایک ہی دن ترقی پا کر اپنی مثال آپ بن گئے۔ قریشی خاندان کے باقی دو بھائی بھی پولیس فورس میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ اے ایس آئی شعیب قریشی اپنے فرائض نہایت ذمہ داری سے انجام دے رہے ہیں جبکہ سٹی ٹریفک پولیس میں تعینات حاجی بلال قریشی کا نام فرض شناسی، شرافت اور عوامی خدمت کی بدولت الگ پہچان رکھتا ہے۔
بلال قریشی نے ہمیشہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے، عوامی سہولت اور سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ شہری ان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ قریشی برادران نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے فخر کا باعث ہیں۔ ان کی محنت اور کامیابیوں نے نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔ اہلیان علاقہ و دوست احباب نے انسپکٹر بننے پر دل کی گہرائیوں سے خوشی اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔