پیٹرول بحران یا حکومتی نااہلی؟

پاکستان ایک بار پھر ایسے بحران سے دوچار ہے جس نے نہ صرف معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عام آدمی کی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، ایندھن کی قلت کے خدشات، سرکاری سطح پر ہنگامی اقدامات اور عوامی پریشانی۔ یہ سب ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جو صرف عالمی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ ہماری داخلی کمزوریوں کی عکاس بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف پیٹرول بحران ہے یا درحقیقت حکومتی نااہلی کا ایک اور مظہر؟
بلاشبہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ایک حقیقت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، سپلائی لائنز میں رکاوٹیں اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر یہاں فوری طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ذمہ دار حکومت کو ایسے ممکنہ بحرانوں کے لیے پہلے سے تیاری نہیں کرنی چاہیے تھی؟ کیا ہمارے پالیسی سازوں نے کبھی اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا کہ اگر عالمی منڈی میں اچانک اتار چڑھاؤ آئے تو ملک اس کا مقابلہ کیسے کرے گا؟
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بحران آنے کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں، اور وہ بھی ایسے جو وقتی تو ہوتے ہیں مگر دیرپا حل فراہم نہیں کرتے۔ پیٹرول کی قیمتوں میں بار بار اضافہ اس کی واضح مثال ہے۔ ہر چند ہفتوں بعد قیمتوں میں اضافہ کر کے حکومت وقتی طور پر مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر اس کا سارا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہو جاتا ہے۔ مہنگا پیٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے، اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، بجلی، حتیٰ کہ روزمرہ کی بنیادی ضروریات بھی مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یوں ایک فیصلہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ حکومت کے اقدامات زیادہ تر عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کبھی دفاتر کے اوقات کم کر دیے جاتے ہیں، کبھی چار دن کا ہفتہ نافذ کر دیا جاتا ہے، کبھی تعلیمی ادارے بند کر دیے جاتے ہیں اور کبھی سرکاری اخراجات میں وقتی کٹوتیوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ اقدامات بحران سے نمٹنے کے لیے کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے صرف وقتی طور پر چھپانے کی کوشش ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلے نہ تو معیشت کو مستحکم کرتے ہیں اور نہ ہی عوام کو کوئی ریلیف فراہم کرتے ہیں۔
اصل مسئلہ مستقل پالیسیوں کے فقدان کا ہے۔ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں طویل المدتی منصوبہ بندی کا شدید فقدان نظر آتا ہے۔ ہم آج بھی بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کر رہے ہیں، حالانکہ دنیا تیزی سے متبادل توانائی کے ذرائع کی طرف بڑھ رہی ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے بجلی کی پیداوار اور دیگر متبادل ذرائع نہ صرف سستے ہیں بلکہ پائیدار بھی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ان شعبوں میں سنجیدہ سرمایہ کاری اور مستقل حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جب بھی بحران آتا ہے تو اس کا بوجھ عام آدمی پر ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ اشرافیہ اور حکومتی نظام خود کو اس سے بڑی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔ سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری اخراجات اور وسائل کا ضیاع بدستور جاری رہتا ہے، مگر عوام کو کفایت شعاری کا درس دیا جاتا ہے۔ یہ تضاد نہ صرف عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے بلکہ حکومتی فیصلوں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ پیٹرول بحران صرف ایک علامت ہے، اصل بیماری ہماری کمزور منصوبہ بندی، غیر مستقل پالیسیوں اور ترجیحات کے فقدان میں پوشیدہ ہے۔ اگر حکومت واقعی اس مسئلے کا حل چاہتی ہے تو اسے وقتی اقدامات کے بجائے بنیادی اصلاحات کی طرف جانا ہوگا۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا، سرکاری اخراجات میں حقیقی کمی لانا اور ایک واضح و مستقل توانائی پالیسی تشکیل دینا ایسے اقدامات ہیں جو اس بحران کا دیرپا حل فراہم کر سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ شفافیت اور جوابدہی بھی نہایت ضروری ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ فیصلے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں اور ان کے نتائج کیا ہوں گے۔ جب تک حکومتی پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور سنجیدگی نہیں آئے گی، ایسے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے اور ہر بار اس کا خمیازہ عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پیٹرول بحران محض ایک اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ حکمرانی کے انداز کا آئینہ دار ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آیا ہم واقعی ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کر سکے، یا ہم ہر بار بحران آنے پر وقتی فیصلوں کے سہارے خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔
اگر یہی طرزِ حکمرانی جاری رہا تو پیٹرول بحران ختم ہونے کے بعد بھی کوئی نہ کوئی نیا بحران ہمارا منتظر ہوگا۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مسائل کے وقتی حل کے بجائے ان کی جڑ تک پہنچیں، ورنہ سوال یہی رہے گاکہ یہ واقعی پیٹرول بحران ہے یا حکومتی نااہلی؟

ضیاء الرحمن ضیاءؔ

Discover more from pindipost.pk

Subscribe to get the latest posts sent to your email.