پہیہ‘ سائیکل‘ موٹرسائیکل سے ملک الموت تک

عبدالخطیب چوہدری
پہیہ کی ایجاد کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ تو معلوم نہیں لیکن جوں جوں انسان ارتقائی مراحل طے کرتا رہا پہیہ انسانی زندگی میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا گول لکڑی سے شروع ہونے والے پہیہ کا سفر مختلف مراحل طے کرکے ٹیوب لس ٹائر وہیل کی صورت میں تبدیل ہوگیا

جس نے انسان کی زندگی کو انتہائی سہل بناتے ہوئے کئی دنوں کا سفر گھنٹوں پر محیط کردیا ہے لیکن اگر دو پہیوں پر مشتمل انسانی اعصاب سے چلنے والی ایجاد کے بارے میں پتہ لگایا جائے

تو اس کی بات کی نشاندھی ہوتی ہے کہ دو سو سال قبل جر من شہری بارون کارل ڈرائس نے 12جوان 1817ء میں سائیکل کی ایجاد کی شروعات میں اس کے پیڈل اور بریک نہیں تھی دھکے سے اس کو چلایا جاتا تھا ہندوستان میں اٹھارہویں صدی کے آخر میں متعارف ہوئی

ایک دہائی قبل تک پاکستان کے شہری علاقوں کے علاوہ دیہات میں بھی سائیکل ہر گھر کی ضرورت بن چکی تھی امیر تو امیر بلکہ غریب کے گھر کی بھی زینت تھی جب کوئی طالب علم بچہ پرائمری تعلیم کے بعد مڈل یا ہائی سکول میں داخل ہوتا تو اس کی درسی کتب کے ساتھ والدین سائیکل کا بھی بندوبست کرنا ضروری قرار دیتے

تاکہ دور کے سکول سے آنے جانے کے لیے آسانی ہو نے کے ساتھ ساتھ گھر یلو اشیاء ضروریہ کو لانے بلخصوص غلہ کی پسائی کے چکی تک لے جانے میں مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے سائیکل کے استعمال سے ایک طرف انسانی صحت کیلئے بھی سود مندد اور دوسری جانب میلوں سفر کے باوجود نہ تو کبھی بھی جان لیوا حادثہ نہ پیش آتا بلکہ یہ انسان دوست سواری سمجھی جاتی لیکن وقت کی تیزی رفتاری اور سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کی دوڑ میں اور بہت سی تبدلیاں لائی ہیں وہاں سائیکل سے موٹر سائیکل کی تبدیلی بھی اس کا حصہ سمجھ لیا جائے تو بے جا نہ ہوگا

بلکہ موٹرسائیکل کی ضرورت ہر ایک شہری کا خواب بن گیا ایک دہائی قبل تک پاکستان میں دو سے تین کمپنیاں موٹر سائیکل سازی میں مشہور تھی ان کی اجارہ داری ہونے کی وجہ سے قیمتیں اتنی زیادہ تھی کہ ایک عام شہری اس کے خریدنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن گزشتہ چند برس قبل حکومت نے مقامی سطح پر موٹرسائیکل سازی کی انڈسٹری کی جانب توجہ دی تو متعدد نئی کمپنیاں بھی مارکیٹ میں آنے سے مقابلے کا رجحان پیدا ہوا توسیل کو بڑھانے کیلئے پہلے پہل قیمتوں میں کافی کمی کی گئی جس سے ایک طرف ٍ غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم ہوئی دوسری جانب شہری سائیکل کی نسبت موٹر سائیکل کی خریداری کو ترجیح دینے لگے

سیل مقابلہ میں اتنی تیزی آئی کہ کمپنیاں نے ڈیلرز کی وساطت سے موٹر سائیکل ا قساط پر دینے شروع کردیئے جس کی بناء پر صرف ایک ہزار روپے کی نقدی پر موٹرسائیکل ملنے لگے اس سہولت کے پیش نظرہر گھر میں ایک کی بجائے تین تین موٹرسائیکل بلکہ گھر کا ہرفرد انفرادی موٹرسائیکل کا مالک بنا گیا بلکہ صورتحال ایسی پیدا ہوگئی ہے جیسے گلی محلوں بازاروں اور سڑکوں پہ کوئی موٹر سائیکلوں کا سیلاب امڈ آیا ہے

اس کی بہتات سے ایک طرف جو سب سے بڑا فائد ہ ہوا کہ ایک عام و غریب شہری بھی کم وقت اور کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ سے سفر ی و دیگر معاملات زندگی کو نبھانے کے قابل ہوا دوسری جانب اسی موٹرسائیکل کی وجہ سے حادثات میں بے پناہ اضافہ ہوا موٹر سائیکل کے حادثات کا شکار ہونے والے زیادہ تر شہری معذور اور زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں

گزشتہ عید الفطر کے موقع پر پمز ہسپتال اسلام آباد کی ایک رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی میں کم از کم اڑھائی سو سے زائدنوجوان موٹرسائیکل حادثات کی وجہ سے پہنچے جن میں ایک سو قریب کے اعضاء ٹوٹے‘ اور ایک سو کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور پانچ کی موت واقع ہوگئی

اگرآج کل پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا پر مختلف علاقوں سے حادثات کی خبروں کا جائزہ لیا جائے تو اسی سے نوے فیصد حادثات موٹرسائیکلوں کے ہی رونما ہورہے ہیں بڑھتے ہوئے حادثات او راس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع کے سدباب کیلئے حکومت متعدد اقدامات کررہی ہے

لیکن تاحال ان پر عمل درآمد کرنے پر مکمل طو ر ناکام ہوکر رہ گئی ہے چند ماہ قبل ضلع انتظامیہ راولپنڈی نے بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کو پٹرول پمپ سے پٹرول کی فراہمی بند کرنے کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا اس پر عمل درآمد کرنے کیلئے پمپ انتظامیہ کو جرمانوں کی وارننگ دی گئی

لیکن اس کے باوجود نتیجہ صفر رہا‘ اس سے قبل‘ سٹی ٹریفک پولیس‘ موٹروے اینڈ نیشنل ہائی وے اور پنجاب ہائی پٹرولنگ پوسٹ پولیس نے بھی اپنے اپنے سرکلرز میں موٹرسائیکل سوار کیلئے ہیلمٹ کے استعمال پرپابند ی کروانے کیلئے بھاری جرمانے اور موٹرسائیکلوں کو تھانوں میں بند کیا لیکن اس کے باوجود بھی متوقع نتائج سامنے نہ آسکے دوسروں الفاظ میں حکومتی مشنیری موٹرسائیکل حادثات پر قابو پانے کیلئے مکمل طور ناکام بلکہ بے

بس ہوگئی ہے پہیہ جو انسان کی سہولت کیلئے ایجاد ہوا وہ موٹر سائیکل کی صورت میں فرشتہ اجل بن کر رہ گیا ہے سائیکل کی طرح موٹر سائیکل کا بنیادی مقصد طویل سفر کی بجائے رہائش کے قریب ترین ضروری امور کی انجام دہی ہے جو کہ کم سپیڈ میں بھی سرانجام دیا جاسکتا ہے

جب کہ موٹر سائیکل کی سپیڈ کمپنی کی جانب سے 140اور اس سے بھی زائد بھی پی آور کلو میٹر رکھی گئی ہے جس کی بناء پر موٹر سائیکل سوار بلخصوص نوجوان تیز رفتار ی سے کام لیتے ہیں اورحادثات کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن رہے ہیں یا زندگی بھر کیلئے معذور ہوکر رہ جاتے ہیں حکومت کے چاہیے کہ بڑھتے ہوئے حادثات پر قابو پانے کیلئے موٹرسائیکل ساز کمپنیوں کو حد رفتار 50کلومیڑ فی گھنٹہ تک مقرر کرنے کیلئے مجبور کیا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں