پَہالے

پوٹھوہار میں خانہ بدوش گروہوں کی ایک مشاہداتی روداد.پوٹھوہار کا خطہ طویل عرصے تک مختلف النوع خانہ بدوش گروہوں کی موسمی آمد و رفت کا گواہ رہا ہے۔ مقامی سطح پر ان سب کو عمومی طور پر “پہالے” کہا جاتا تھا، حالانکہ یہ نام مختلف زبانوں، معاشی طریقوں اور ثقافتی رویّوں پر مشتمل الگ الگ گروہوں کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

ان میں سے ایک گروہ عموماً سردیوں کے آغاز پر پوٹھوہار میں داخل ہوتا تھا۔ یہ پشتو یا فارسی بولتے تھے اور بعض علاقوں میں پاوندے کہلاتے تھے۔ ان کے ساتھ بھیڑ، بکریاں اور اونٹ ہوتے۔ عورتیں گھگھرے دار لباس پہنتیں جن پر شیشے کا نفیس کام ہوتا، اور ان میں پردے کی پابندی سرے سے موجود نہیں ہوتی تھی۔ دن کے وقت یہ عورتیں پوٹھوہار کی زمینوں، گھاٹیوں، کھیتوں کے کناروں اور ویران علاقوں میں خودرو بوٹیاں کاٹتیں، جن میں “سُونچل” بھی شامل ہوتی، جو سردیوں میں نمی والی زمین پر اُگ آتی تھی۔

شام کے وقت مرد اونٹوں کے ساتھ واپس آتے، کاٹی گئی بوٹیاں اکٹھی کر کے اونٹوں پر لادی جاتیں اور گاؤں سے کچھ فاصلے پر قائم خیمہ بستیوں میں منتقل کر دی جاتیں۔ ان خیموں کے اطراف طاقتور اور خونخوار کتے باندھے جاتے تھے۔ مقامی آبادی سے ان کا میل جول محدود رہتا۔ اگر ان کا کوئی جانور مر جاتا تو اس کا گوشت خیموں کے قریب رسّیوں پر پھیلا کر خشک کر لیا جاتا تاکہ محفوظ رکھا جا سکے۔ چراگاہوں کی کمی کی صورت میں یہ کسانوں سے سبز کچی گندم بطور چارہ، کنالوں کے حساب سے خرید لیتے۔ کھیتوں میں حد بندی کے لیے لگائے گئے سرکنڈوں کے ڈنڈے، جنہیں مقامی طور پر “کانے” کہا جاتا تھا، اس بات کی نشاندہی کرتے کہ زمین کا وہ حصہ فروخت ہو چکا ہے۔

اسی خطے میں ایک دوسرا خانہ بدوش گروہ بھی آیا کرتا تھا جس کی شناخت گوجری زبان سے ہوتی تھی۔ ان کے قافلے میں چند چھوٹے قد کی گھوڑیاں گھوڑے ہوتے تھے بھیڑ کم جبکہ بکریاں زیادہ تعداد میں ہوتیں۔ یہ بکریاں عموماً کالی، لمبے بالوں جیسے جہلروں والی ہوتیں، جن کے چلنے سے ایک مخصوص آواز پیدا ہوتی۔ ان جانوروں سے آنے والی تیز بو کو مقامی زبان میں “چھچھاہنڑ” کہا جاتا تھا۔
یہ لوگ کسی گاؤں کے قریب قیام نہیں کرتے تھے بلکہ پھلائی کے گاڑھ یا سرکاری جنگلات میں اپنے ڈیرے لگاتے تھے، یہ خیموں کی بجائے جھاڑیوں اور سرکنڈوں کی چھپریاں بنا کر ان میں رہتے تھے کتے بھی ہمراہ ہوتے تھے ان کے مردوں کی داڑھی اور مونچھوں کی ایک مخصوص وضع قطع ہوتی تھی۔

اگر کوئی جانور بیمار یا زخمی ہو جاتا تو اسے خود استعمال کرنے کے بجائے قریبی دیہات میں فروخت کے لیے لے جایا جاتا۔ ان کے مرد عموماً دبلا پتلا جسم رکھتے اور سخت گرمی اور شدید حبس میں بھی ویسکوٹ پہنے دکھائی دیتے۔ عورتیں بھی جسمانی طور پر کمزور نظر آتیں، اکثر کے چہروں پر چھائیاں ہوتیں اور ناک میں بڑا ٹکہ نما کوکا پہنا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ پوٹھوہار میں خانہ بدوشی کا یہ منظرنامہ بدلتا چلا گیا۔ پشتو اور فارسی بولنے والے یہ موسمی خانہ بدوش اب اس خطے میں دکھائی نہیں دیتے، جس کی وجوہات خطے کی سیاسی، جغرافیائی اور سماجی تبدیلیوں سے جوڑی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس گوجری زبان بولنے والے کئی خاندان پوٹھوہار کے مختلف علاقوں میں مستقل طور پر آباد ہو چکے ہیں۔ ان کی نئی نسلیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور آہستہ آہستہ مقامی سماج کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔