عہدے وقتی ہوتے ہیں جو وقت کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں جبکہ رویے دائمی ہوتے ہیں صدیوں کے لیے اپنا اثر چھوڑ جاتے ہیں زندگی کی کئی مسافتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو روح طے کر لیتیہے لیکن ان کو ہم وقت کے پیمانے سے نہیں ناپ سکتے ایسی مسافتیں انسان کی فطرت ومزاج پر دور رس‘ اثرات ثبت کردیتی ہیں انسان کی کردار سازی کی تشکیل میں نمایاں حصہ انہیں مسافتوں کی دین ہوتا ہے لیکن جو لوگ مسافتیں طے کرنے بجائے کسی کے کندھے پر بیٹھ کر منزل تک پہنچتے ہیں ان کی فطرت مزاج جہدوجہد کرکے منزل پانے والوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ رشوت ستانی اور سفارش کی بنیاد پر چل رہا ہے یہاں این آئی سی کارڈ کے اجراء سے لے کر انصاف کے ایوانوں تک سفارش اور رشوت چلتی ہے اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔یہاں جس کے پاس رشوت دینے کی قوت موجود ہے وہ یہاں بادشاہ ہے کیونکہ قانون یہاں برائے فروخت ہے۔قیمت لگائیں اور من کی مرادیں پائیں۔پیسہ موجود ہے تو بھرے بازار میں کسی کی پگڑی اتار دیں۔خود نہ کریں پولیس کو استعمال کر کے شرفاء کی بے عزتی کروا لیں۔شرط بھاری رقم سے جیب کو کچھ ہلکا کریں۔گذشتہ ماہ کی 29 تاریخ کو قاضیاں چوکی میں ہونے والے ایک واقعہ کے خلاف سی پی او راولپنڈی کو دی جانے والی ایک درخواست نے وطن عزیز میں قانون سے کھلواڑ اور پولیس کی مدر پدر آزادی کا پردہ چاک کیا ہے۔درخواست گذار امتیاز کیانی نے اپنی درخواست میں انصاف کی اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ 29 ستمبر کو اس کے شوکت نامی پڑوسی نے اسے فون پر بتایا کہ اسے کسی رزاق نامی شخص کی درخواست پر قاضیاں چوکی بلوایا گیا ہے۔جس کے لیے اس نے ساتھ چلنے کی درخواست کی کو قبول کرتے ہوئے وہ اس کے ساتھ پولیس چوکی پہنچے۔جہاں موجود سول کپڑوں میں ملبوس چوکی انچارج اے ایس آئی خداداد نے درخواست گذار رازق سے تفصیلات لیں بعدازاں چوکی انچارج نے شوکت سے تفصیل پوچھنا شروع کی تو درخواست گذار زاق نے اس دوران مداخلت کرتے ہوئے شوکت کو برا بھلا کہتے ہوئے منافق‘ جھوٹا اور بے ایمان جیسے الفاظ ادا کیے درخواست گذار کے مطابق چوکی انچارج جو اس وقت ایک منصف کا کردار ادا کر رہا تھا ایک فریق کی جانب سے دوسرے فریق کو برا بھلا کہنے پر خاموش رہا۔جبکہ میرے اعتراض کرنے پر مجھے غلیظ گالیوں سے نوازا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔کیا قانون اے ایس اے کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ جسے چاہے چوکی بلوا کر بے عزت کر دے۔ درخواست میں لگائے الزامات کے مطابق اے ایس ائی نے اسکے پڑوسی شوکت کی مخالف پارٹی کو خوش کرنے کے لیے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور یہ خلاف قانون عمل یونہی تو نہیں کیا گیا ہوگا۔یقیناََ مٹھی گرم ہوئی ہوگی۔ درخواست گذار امتیاز کے مطابق چوکی انچارج کی جانب سے تین چار لوگ سول کپڑوں میں سامنے آٰئے جنھوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے تین سے چار گھنٹے تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا بعدازں علاقے کے لوگوں نے جمع ہوکر منت سماجت کرکے جان بخشی کروائی۔اس سارے معاملے کو باریک بینی سے دیکھیں تو ایک بات صاف دیکھائی ہے کہ چوکی انچارج خود کو قانوں سے بالا تصور کرتا ہے۔وہ قانون کے تحت عوام کی جان اور مال کے تحفظ کا ذمہ دار ہے لیکن اس پر لگے الزمات میں وہ خود عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ہے۔درخواست میں لگے الزامات کے مطابق مذکورہ چوکی انچارج کا لوگوں کو بلوا کر بے عزت کرنا معمول ہے۔درخواست گذار درخواست دے کر انصاف کا منتظر ہے جبکہ پیٹی بھائی انکوائری کے بجائے مختلف حیلے بہانوں سے ڈنگ ٹپاو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔اس تحریر کی اشاعت تک ہوسکتا ہے کہ اس پر کوئی فیصلہ ہوچکا ہو غالب امکان یہی ہے کہ کچھ نہیں ہوگا درخواست گذار کو رام کرتے ہوئے صلح پر راضی کر لیا جائے گا۔لیکن کیا کوئی پولیس آفیسر یہ بتانا پسند کرے گا کہ ایک اے ایس آئی کو یہ اختیار کیونکر ہے کہ وہ الزامات پر مبنی ایک درخواست میں نامزد افراد کو چوکی پر بلا کر انہیں مخالف پارٹی کے سامنے بے عزت کرئے۔کیاقاضیاں چوکی کا انچارج اے ایس آئی کے ساتھ ساتھ جج بھی ہے جو آنیوالی درخواستوں پر فیصلے کرنے کے لیے اپنی عدالت لگانے کا مجاز ہے کیا چوکی کے ساتھ ساتھ وہ عدالت بھی چلاتا ہے۔کیا اسے ایک شہری کے بنیادی حقوق بارے علم نہیں کیا اسے قانون بارے کچھ علم نہیں۔چوکی انچارج کے خلاف درخواست دینے والے امتیاز کیانی نے میرے رابطہ کرنے پر بتایا کہ علاقے کے سفید پوش اور کھڑپینچ صلح کے لیے دباو ڈال رہے ہیں لیکن وہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔ہمارا المیہ یہی ہے کہ لوگ مظلوم کے مقابلے میں ظالم کا ساتھ دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یاد رکھیں برائی کاساتھ دینا اپنے معاشرے کو تباہی کی جانب دھکیلنے کے مترداف ہے۔ایسے عناصر کی وجہ سے ہی خدا داد جیسے لوگ قانون کو جوتے کی نوک پر بھی رکھے ہوئے ہیں۔