پنڈی پوسٹ علاقہ کی پہچان

اسلام کہتاہے بات کی تصدیق کئے بغیر آگے نا پھیلاؤ،ایک دوسرے مقام پرفرمایا سچوں کے ساتھ ہو جاؤکسی بھی معاشرے میں لوگوں تک مستند سچی اور پکی خبر پہنچاناصحافی کے ذمہ دار شہری ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی بنیادی ذمہ داری بھی ہے۔یہی وہ ذمہ داری ہے جو اخبار کے معیارکو اس کی خوبصورتی کواوراس کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کسی بھی معاشرے میں کسی بھی علاقہ میں کسی بھی ملک میں معیاری اخبارصحافتی اصول کے مطابق ہونا چاہیے خبرکو جانچنا، پرکھنا،اپنے اصول ہرکوئی بھی سمجھوتہ ناکرنا،اپنے فرائض سر انجام دینا پھراس اخبارکومارکیٹ میں لانا،لوگوں کی اس تک بآسانی رسائی ممکن بنانا کوئی آسان کام نہیں بلاشک وشبہ اس کیلئے محنت لگن جذبہ ہمت استقامت اورجگر،حوصلے کاکام ہے ۔

پھر اس راہ میں دن رات کن راہوں سے گزرناپڑے پرواہ نہیں اس سفر میں ہرطرح کہ لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اتار چڑھاؤدیکھنے میں آتے ہیں۔ علاقائی عوامی مسائل کواجاگرکرناپڑتاہے مخلص لوگوں کی دعاؤں کوسمیٹتے ہوئے دن رات کی جدوجہد کے بعدکہیں جاکر کامیابیوں کاحسن دیکھنے کو ملتا ہے کسی بھی معاشرے میں آزادی اظہار رائے کاکردار نہایت اہمیت کاحامل ہوتاہے چاہے وہ لسانی ہویا تحریری معاشرے میں موجود توجہ طلب مسائل کی نشان دہی کرنا ان کو اعلی حکام تک پہنچانا اوران مسائل کے حل کی عملی جدوجہد کرناانہیں آسان لفظوں میں متعلقہ حکام تک پہنچاناحق بات
کہناپھر اس پر ڈٹ جانااتناآسان کام نہیں جتنا ہم نے الفاظ میں بیان کردیا یا سمجھ لیاہے کیونکہ عوامی مسائل ہوں یاعلاقائی صورتحال،شعور کی آگاہی مہم ہویاپھر قابل ابھرتے ہنرمندافراد کو متعارف کرانایہ سب باتیں اگر کسی ایک جگہ جمع ہو سکتی ہیں۔

تو وہ خطہ پوٹھوہار کی پہچان آن شان پنڈی پوسٹ کا اخبار ہی ہے اس سارے کردارمیں توجہ، لگن ومحنت سے جدوجہدکے تسلسل کو برقرار رکھنے میں پنڈی پوسٹ سے جڑا ہرشخص برابر کا شریک ہے آج سے13سال قبل صحافتی سفر کی شروعات کرنے والا یہ ادراہ دن بدن عوام میں مقبولیت حاصل کرتا جارہا ہے ناصرف بڑی عمر کے لوگوں بلکہ بچوں کابھی پسندیدہ اخباربنتاجارہاہے آج کہ اس جدیددورمیں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائے گایہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھااورناہی یہ کہہ سکتا تھاکہ پنڈی پوسٹ ایک دن اپنے علاقہ کی پہچان بن جائے گا ۔

ہنرمندافرادکومتعارف کرائے گا علاقائی عوامی مسائل اجاگر کرے گامظلوم کی آواز بن کرظالم کو بے نقاب کرے گالوگوں کوایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گالیکن چیف ایڈیٹر جناب چوہدری عبدالخطیب کی محنت لگن اورمخلص لوگوں کیساتھ کی وجہ سے آج ناصرف پنڈی پوسٹ ایک علاقہ کی حدتک محدودہے بلکہ انٹرنیٹ پربآسانی دستیاب ہونے کے باعث دنیابھرمیں علاقائی صورتحال حالات واقعات کوآئینہ کی طرح پیش کررہاہے جسے لوگ پسندبھی کرتے ہیں اور نیک خواہشات کااظہاربھی کرتے ہیں پنڈی پوسٹ ناصرف اس علاقہ کی پہچان ہے بلکہ بہت سارے لوگوں کی پہچان کا ذریعہ بھی ہے اس اخبار میں ناصرف بڑی عمرکے لوگ اپنے الفاظ کا چناؤ اپنے خیالات کااظہارکررہے ہیں بلکہ اس میں بچوں کوبھی اہمیت دی جاتی ہیں بندہ ناچیزنے2018 میں جب پہلی مرتبہ پنڈی پوسٹ میں لکھا تو سوچاناتھا کہ یہ سفر اور تعلق مستقل حیثیت اختیار کرجائے گالیکن گزرتے وقت کیساتھ حق سچ کو شائع کرنے میں بلاشک وشبہ پنڈی پوسٹ نے نمایاں کرداراداء کیاجس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا کم وقت میں توجہ کا مرکز بن گیا پنڈی پوسٹ کا پلیٹ فارم صرف مخصوص لوگوں کیلئے منتخب نہیں بلکہ تمام افراد کو کشادہ دلی سے قبول کرتاہے اورعلم وعمل سے وابستہ لوگوں کو موقع فراہم کرتاہے کہ آئیے اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کولکھنے کاملکہ عطاء فرمایاہے توقلم اٹھائیے اپنے الفاظ کواپنے خیالات کو اپنے جذبات لوگوں تک پہنچائیے پنڈی پوسٹ لوگوں تک رسائی کا ذریعہ بنے گادعا ہے رب العالمین اس پنڈی پوسٹ اور اس کی پوری ٹیم کومزیدترقی عطاء فرمائے اس سے وابستہ تمام افرادکو ہمت جرآت استقامت سے اپنے فرائض سر انجام دینے کی توفیق عنایت فرمائے اورسب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں