پرائیویٹ سکولوں سے سرکاری تعلیمی ادارے کمزور پڑ گئے

تعلیم کو نسخہ کیمیا تصور کیے بغیر انفرادی و اجتماعی سطح پر ہم اپنے مقاصد کے ہمالیہ کو سر کرنے کے خواب کو تعبیر نہیں کر سکتے وطن عزیز میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سالانہ اربوں روپے ان تعلیمی اداروں کے فروغ پر خرچ کر رہی ہے تاکہ شرح خواندگی میں اضافے اور مطلوبہ ہدف کو حاصل کیا جاسکے لیکن اس کے باوجود سرکاری تعلیم اور خصوصاً پرائمری سے لے کر ہائی سکولوں کی حالت دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہے اس کے باوجود حکومت نے اربوں روپے خرچ کرکے مفت کتابیں فراہم کیں اور مطلوبہ ہدف کے حصول کے لیے اس طرح کے کئی دیگر اقدامات بھی زیر غور ہیں صوبہ میں سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار میں بڑا ہاتھ پالیسی سازوں کا ہے جس کی وجہ سے اسکول میں پڑھانے والوں سے لے کر وزرا اور بیوروکریٹس کے بچے ان اداروں میں نہیں پڑھتے جس کی وجہ سے یہ ادارے اس طرح ترقی نہ کر سکے اور نہ ہی کرنے کا امکان ہے دوسری جانب نجی شعبے میں سکولوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے نجی اسکولوں میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں کی مسلسل ناکامی ہے زیادہ تر لوگ نجی اسکولوں میں بچوں کو داخل کرا رہے ہیں اس صورت حال میں بعض پرائیویٹ تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو بہترین تعلیم کی فراہمی کو ایک مقدس مشن سمجھتے ہیں ان تعلیمی اداروں میں تحصیل گوجرخان بالخصوص مرکز مندرہ کے تعلیمی اداروں میں صف اول میں نمایاں فالکن ہاوس سیکینڈری سکول سرفہرست ہے فالکن ہاوس سیکنڈری سکول مندرہ کی بانی و پرنسپل معروف علمی شخصیت محترمہ نگہت خورشید بٹ جو اپنی تعلیمی خدمات کے دراز سلسلہ کی وجہ سے یقیناََ سرسیدہ گوجرخان کہلانے کی بجا طور پر مستحق ہیں ‘ ایک خصوصی نشست میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے فالکن ہاوس سیکنڈری سکول کی 1997 میں ایک جذبے کے تحت بنیاد رکھی تھی تحصیل گوجرخان بالخصوص پہلے نشان حیدر کا اعزاز رکھنے والی ملکہ سر زمین مندرہ کی تعلیمی پسماندگی دیکھ کر کڑھتی تھی تعلیمی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے ٹیلنٹ ضائع ہو رہا تھا اپنے علاقے سے جہل کی تاریکیوں کے خاتمے کے لیے میں نے علم‘ شعور اور آگہی کے لیے فالکن ہاوس سیکنڈری سکول کے نام سے ایک چراغ روشن کیا مہربان خدا نے اس ایک چراغ سے کئی دیپ جلا کر میرے حوصلوں کو تقویت اور جذنوں کو مہمیز بخشی یہی وجہ ہے کہ آج فالکن سکول سے اکتساب فیض کرنے والے طلبا و طالبات زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں فرائض سرانجام دے رہے ہیں خصوصاً راولپنڈی بورڈ کے حالیہ میٹرک کے نتائج میں فالکن ہاوس سکینڈری سکول کی طالبہ عائشہ فاطمہ نے 1100 میں سے1096 نمبر لیکر تحصیل گوجرخان ہی نہیں بلکہ ضلع راولپنڈی بھر میں ممتاز کامیابی کا اعزاز حاصل کیا دیگر ہونہار طلبہ ایمالہ عمر 1088، حادیہ متین 1083، حنان تصور آف جوڑیاں 1081، عریبہ ایمان1080، انظمام علی 1079، محمد حسنین 1078، نائمہ قدیر 1073، دانیال اسحٰق 1035،کشمالہ نایاب،1034 علشبہ ایزاد 1018،شازب علی 1009 نمبر لیکر کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھ دیے قبل ازاں ہماری سکول کی طالبہ طیبہ افتخار بٹ نے سول سروسز کا امتحان امتیازی پوزیشن میں پاس کر کے مرکز مندرہ کی پہلی سی ایس پی آفیسر ہونے کا اعزاز حاصل کر لیا جبکہ ایک اور فالکن ہاوس کی ہونہار طالبہ نگین گل کو پنجاب کالجز گوجرخان نے ضلع بھر میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے پرگاڑی انعام میں دی تقریب میں پنجاب کالج گوجرخان کی انتظامیہ نے مجھے بطور سکول کی پرنسپل خصوصی طور پر مدعو کرکے اس کامیابی کا اصل حقدار فالکن ہاوس سیکنڈری سکول مندرہ کو قرار دیا گیا جوہمارے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے اور اس کے علاوہ آرمی آفیسرز،ڈاکٹر، انجینئر،پائلیٹ، سائنسدان اور غیر ممالک میں ہمارے طالب علم اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں یہاں صرف کتابیں نہیں پڑھائی جاتی بلکہ بلکہ یہاں طلباء کو عملی تربیت دی جاتی ہے تاکہ یہ عملی زندگی میں آگے بڑھ سکیں اور ان میں خود اعتمادی پیدا ہو ہم بچوں کی سماجی ترقی کے لیے مختلف اقدامات اٹھاتے ہیں تاکہ بچوں کی بہتر نشوونما ہو سکے پرنسپل میڈم نگہت بٹ نے مزید بتایا کہ سائنس کے آپشن نے بھی نظام تعلیم کو متاثر کیا آرٹس والے بچوں کو کمزور سمجھا جاتا ہے ایسے میں ہر بچہ چاہتا ہے کہ وہ سائنس پڑے اور آگے بڑھے پاکستان میں تعلیم کے شعبہ کے فروغ کے لیے بہت کچھ کرنا باقی ہے یہاں مستقل پالیس نہیں ہے اس لیے اچھے اساتذہ بھی نہیں ہیں اگر اساتذہ کو وہ مقام دیا جائے جو ان کا ہونا چاہیے تو بہتری لائی جا سکتی ہے پاکستان میں اساتذہ کو وہ مقام حاصل نہیں جو ڈاکٹروں کو ہے اس طرح ان کو وہ بھی سہولیات حاصل نہیں جو زندگی کے دوسرے شعبوں سے وابستہ لوگوں کو دی جاتی ہیں انہوں نے کہا کہ پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں یہ جس طلبہ طالبات متاثر ہوتے ہیں اس طرح ٹیچر بھی کورس کے علاوہ بچوں کو کچھ اور بنانے کی کوشش نہیں کرتے ہم نے مخلوط تعلیم کے بجائے طلباء و طالبات کے لئے علیحدہ کیمپس قائم کیے ہیں انہوں نے کہا کہ ہماری ترجیحات میں اپنی ثقافت سمیت سائنس کی دنیا، نظام شمسی، کمپیوٹر معدنیات اور کئی دیگر کو ترجیحاََ اجاگر کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں