اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حصول کے لئے طویل مشکل جدوجہد میں قائد اعظم محمد علی جناح کا ساتھ دینے والے عظیم رہنما نواب زادہ لیاقت علی خان نے پندہ اگست 1947ء کو پہلے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا۔قائد ملت لیاقت علی خان مسلم قومیت کے زبر دست نقیب تھے وہ قائد اعظم کے دست راست تھے اور ہمہ وقت مسلمانوں کی بہتری بھلائی اور ترقی کے لئے عملی اقدامات اٹھاتے رہے۔ اگست 1951میں یوم پاکستان کے موقع پر لیاقت علی خان کے کراچی میں ایک جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں کہ قوم کے اعتماد اور اس کے خلوص کو کس طرح بحال کیا جا سکتا ہے۔
میرے پاس جائیدادیں نہیں ہیں میرے پاس امرا نہیں ہیں مجھے خوشی ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں نہیں ہیں کیونکہ یہ آدمی کے یقین کو متزلزل کر دیتی ہیں۔میرے پاس صرف میری زندگی ہے اور وہ بھی پچھلے چار برسوں سے پاکستان کے نام وقف کرچکا ہوں میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر پاکستان کے دفاع کے لئے قوم کو خون بہانے کی ضروت پڑی تو لیاقت کا خون بھی اس میں شامل ہو گا۔وزیراعظم لیاقت علی خان نے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے مُکہ بناکر دایاں ہاتھ اونچاکرتے ہوئے کہا کہ جس طرح یہ انگلیاں مل کر مُکہ بن جاتی ہیں اسی طرح تما م پاکستانی عوام متحد ہوجائیں تو یہی اتحاد ہمارا ایٹم بم ہے جس کی بدولت ہم دنیا کی ہر طاقت کو شکست دے سکتے ہیں ان کا مُکہ ملی اتحا د کا مظہر بن گیا۔
قوم آج تک اس مکہ کے علامتی نشان اور نعرہ کو یاد کرتی ہے کہ اتحادمیں یہ یگانگت اور یکجہتی پیدا ہوجائے تو پاکستانی قوم ایک عظیم طاقت بن سکتی ہے سولہ اکتوبر 1951ء کو کمپنی باغ راولپنڈی (لیاقت باغ) میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا بقول بیگم رعنالیاقت علی خان وزیراعظم نے اس جلسہ میں نئے انتخابات کا اعلان کرنا تھا جس سے ملک میں جمہوریت ابتداہی سے مضبوط ہوجاتی، لیاقت علی خان وزیراعظم طے شدہ وقت چار بجے جلسہ گاہ میں تشریف لے گئے اُن کو دعوت خطاب دی گئی وزیراعظم لیاقت علی خان نے تقریر کے لئے لب کشائی کی انہوں نے صرف دوالفاظ برادران ملت ہی کہے تھے کہ گولیاں چلنے کی آواز آئی اور انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے دل پر رکھااور ساتھ ہی سٹیج پر گر گئے اور آہستہ آہستہ بولے میرے خدایا پاکستان کو محفوظ رکھنا کلمہ طیبہ پڑھا اور اللہ کو پیارے ہوگئے،
سید اکبر نے پستول کی گولی سے انہیں شہید کردیا ایک صاحب نے قاتل کو پکڑلیا لیکن شاہ محمداے
ایس آئی نے سید اکبر کو گولی مار کر قتل کردیا عرصہ دراز تک لیاقت علی خان کی شہادت کی تحقیق و تفتیش ہوتی رہی جو آج تک معمہ بنی ہوئی ہے قاتل کا تعلق افغانستان کے قبیلہ زوران سے تھا،سید اکبر کے چار بیٹوں اور بیوہ کو ایبٹ آباد کے کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور سخت پہرے میں اس وقت کی جدید ترین سہولیات بھی مہیا کی گئی تھیں گزر اوقات کے لئے شاندار وظیفہ مقرر کیا گیا تھا اس گھر پر پہرہ دینے والے سپاہی سے سید اکبر کی بیوہ نے شادی کر لی اس سپائی سے اس کے مزید چار بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئے سید اکبر کے تین بیٹے یکے بعد دیگر امریکہ میں سیٹل کرا دئے گئے اور انہیں امریکہ میں کاروبار کے لئے پیسہ بھی دیا گیا جو اب کروڑ پتی بن گئے ہیں ان کی بیوہ ماں کچھ عرصہ قبل ایک سو چھ سال کی عمر میں وفات پاگئی ہے ہندو ستان میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین سینکڑوں ملازم اور کروڑوں روپے ملک پاکستان کی خاطرٹھکرا کر لیاقت علی خان نے ہجرت کی تھی اور اپنا سب کچھ پاکستان کے لئے وقف کردیا تھا
لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اس کی بیوہ کی پنشن بھی بند کردی گئی تھی ہمارے ارباب اختیار اپنے محسنوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے آئے ہیں لیاقت علی خان کی شہادت پاکستان کی بد قسمتی اس جمہوری خوابوں کی پراگندگی پر منتج ہوا البتہ یہ ظاہر ہے لیاقت علی خان کی شہادت نوکر شاہی کے لئے وجہ ترقی درجات بن گئی راتوں رات نوکر شاہی کے پروموشن ہوگئے اور پاکستان کی سیاست اور جمہوریت کی موت کا سامان پیدا ہوگئے،مفلوج غلام محمد مرحوم جن کو لیاقت علی خان کابینہ سے نکالنے کا فیصلہ کرچکے تھے اب بساکھیوں کے سہاراے کھڑاکرکے گورنرجنرل کا تاج ان کے سر پر رکھ دیا گیا غلام محمد مرحوم کے لئے یہ جگہ پیدا کرنے کی خاطر خواجہ ناظم الدین کو گورنر جنرل سے ہٹا کر برائے نام پرائم منسٹر بنا کر غلام محمد مرحوم کے پاؤں تلے روند دیا گیا اور وہاں سے بھی پہلی فرصت میں ان کو ڈسمس کرکے گھر بیج دیا گیا چوہدری غلام محمد مرحوم سیکرٹری تھے اب ترقی پاکر وزیر خزانہ بنا دئے گئے اور اس پوزشن میں آگئے کہ وہ پاکستان کی اقصادی معاشی اور مالیاتی پالیسیاں بناتے رہے اسکندر مرزا مرحوم ترقی پاکر سیکرٹری دفاع بنا دئے گئے اس کے بعد ان کو گورنرمشرقی پاکستان بنا دیا گیا جہاں چست لگا کر وہ بنے مرکزی وزیراور بعد میں غلام محمد مرحوم کے جانشین یعنی گورنرجنرل بن بیٹھے،
خان قربان علی خان مرحوم لیاقت علی خان کی حکومت
والے واقعے کے وقت وہاں کے آئی جی پولیس تھے قتل کی انکوائری ختم ہوجانے کے بعد ان کو صوبہ بلوچستان کا سربراہ اے جی جی بنا دیا گیا ان حضرات کے علاوہ نوکر شاہی کے باقی آدمیوں کے بھی نصیب کھل گئے ان میں سے ہر چھوٹے بڑے کو اس من وسلوی میں سے کچھ نہ کچھ نوالہ تومل کیا بڑے عہدے مثلاََ گورنر جنرل وزارت و غیرہ تو سیاسی عہدے تھے اور یہ عوام کی مرضی اور ووٹ سے ہی تقسیم ہونے چاہیے تھے مگر یہاں یہ عہدے بھی بالا بالا نوکر شاہی کے آدمیوں نے آپس میں تقسیم کرلئے عوام سے کسی نے نہیں پوچھا اور پارٹی کی رائے بھی کسی نے نہیں لی اور ان کا یہ عمل آگے چل کر پاکستان کے حق میں سخت نقصان دہ ثابت ہوا وہ یہ حقیقت محسوس نہیں کر سکے کہ سیاست کے لئے اعلیٰ درجے کے تدبر اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ صلاحتیں عوام سے دور دفتروں کی تاریکیوں میں بیٹھ کر قلم چلانے والو ں میں یکایک نہیں آسکتیں با الفاظ دیگر بیل گاڑی چلانے کو ہوا کی جہاز چلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اگرنوکر شاہی کے لوگوں کے شروع سے ہی سیاسی عزائم نہیں تھے اگر ان کا ارادہ سیاست میں داخل ہونے اور سیاسی عہدوں پر قابض ہونے کا نہیں تھا اور اگروہ پہلے سے یہ زمہ داری اتھانے کے لئے تیاری نہیں کئے ہوئے تھے تو یہ کیسے ہواکہ ادھر لیاقت علی خان شہید نے دم توڑا اور اُدھر فٹافٹ جیسے کسی نے بجلی کا بٹن دبادیا ہو اُسی رات کی تاریکیوں میں چندگھنٹوں کے اندراندر نوکر شاہی کے بزرگ خود کلیدی عہدوں پر بیٹھ گئے؟نہ کوئی انتخاب ہوا نہ ہی اسمبلی بلائی گئی اور
نہ عوام سے یا پارٹی سے کسی نے پوچھاکیا یہ کام کسی کمپیوٹر سے ہوا؟ بات تو یہ ہے کہ دوگولیاں چلیں ایک گولی سے لیاقت علی خان شہید ہوگئے اور دوسری سے ان کا قاتل اسی وقت ڈھیرہوگیا آپ کسی تجربہ کار نشانہ باز سے پوچھئے کہ پیشگی سوچ پلاننگ اور تیاری کئے بغیر یہ کس طرح ممکن ہو سکتا تھا کہ نشانہ باندھنے میں اس قدر پھرتی دکھائی جاسکتی؟ اور پھر جہاں بھگڈرمچ گئی ہو یہ کس طرح ہوا کہ قاتل کو مارنے والی گولی اس قدر صحیح طریقے سے سیدھی قاتل کو جاکر لگی اور مجمع میں کسی اور شخص اورآدمی کو اس گولی نے چھوا تک نہیں‘ خاص طور سے گولی جب کہ ریوالور جیسے مشکل ہتھیار سے چلی رائفل یا شاٹ گن سے بھی نہیں؟یہ ناممکن تھا کہ پیشگی سوچ تیاری اور صحیح پوزیشن لئے بغیر اعصابی کھچاؤ اور نفسیاتی الجھاؤکی اس نازک گھڑی میں کوئی نشانہ باز اس قدر حاظر دماغی دکھا سکتا کہ اتنے بڑے مجمعے میں وہ قاتل جیسے ایک متحرک نشانے پر صحیح طور سے گولی بٹھاسکے اور وہ گولی بھی اسی کے جسم پر اس جگہ پر پڑے کہ وہ بغیر پھڑپھڑا کے ہاتھ پاؤں مارے یا کچھ بولے تھنڈا ہوجائے؟اسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس روز نیچہ خود دنیا جہاں کے کام کاج چھوڑ کر راولپنڈی میں یہ دیکھنے کے لئے بیٹھ گئی ہو کہ یہ نازک کام کسی رخنے اور رکاوٹ کے بغیر پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔