مصنف: محمد سبحان
پاکستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری ایک ایسا موضوع ہے جو کئی دہائیوں سے بحث و تنازع کا مرکز بنا ہوا ہے۔ کبھی اسے معاشی اصلاحات کا ناگزیر راستہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی قومی اثاثوں کی فروخت کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں بہت سے سرکاری ادارے وقت کے ساتھ مالی خسارے، بدانتظامی، سیاسی مداخلت اور کرپشن کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں حکومت پر مالی بوجھ بڑھتا چلا گیا۔ ایسے حالات میں نجکاری کو ایک حل کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس حل کے اپنے مثبت اور منفی پہلو ہیں جنہیں سمجھے بغیر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہیں۔پاکستان میں نجکاری کا تصور اس وقت زور پکڑتا ہے جب آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے پروگرام زیر بحث آتے ہیں۔ حکومتیں قرضوں کے دباؤ میں آ کر سرکاری اداروں کو بیچنے یا نجی شعبے کے حوالے کرنے کی طرف مائل ہو جاتی ہیں۔ ان اداروں میں پی آئی اے، پاکستان اسٹیل ملز، ریلوے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں، بینک اور دیگر بڑے ادارے شامل رہے ہیں۔ حکومت کا مؤقف عموماً یہ ہوتا ہے کہ یہ ادارے قومی خزانے سے اربوں روپے لے رہے ہیں اور ان کی نجکاری سے نہ صرف خسارہ کم ہوگا بلکہ معیشت میں بہتری بھی آئے گی۔نجکاری کے حامیوں کا کہنا ہے کہ نجی شعبہ عموماً منافع پر نظر رکھتا ہے، اس لیے وہ اداروں کو زیادہ مؤثر انداز میں چلاتا ہے۔ ان کے مطابق سرکاری اداروں میں ملازمین کی تعداد ضرورت سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، فیصلے سست روی کا شکار رہتے ہیں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے پیشہ ورانہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ جب یہی ادارے نجی ہاتھوں میں جاتے ہیں تو میرٹ، کارکردگی اور نتائج کو ترجیح دی جاتی ہے، جس سے سروس کا معیار بہتر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ٹیلی کام سیکٹر میں نجکاری کے بعد نہ صرف سہولیات میں اضافہ ہوا بلکہ مسابقت کے باعث قیمتوں میں بھی کمی آئی۔نجکاری کا ایک بڑا مثبت پہلو یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ حکومت پر مالی بوجھ کم ہو جاتا ہے۔ خسارے میں چلنے والے ادارے بجٹ خسارے کو بڑھاتے ہیں، جس کا اثر مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے اور عوامی فلاحی منصوبوں میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جب ایسے ادارے نجی شعبے کے حوالے کیے جاتے ہیں تو حکومت کو سبسڈی دینے کی ضرورت کم پڑتی ہے اور وہ وسائل تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم سے قرضوں کی ادائیگی یا ترقیاتی منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ایک اور مثبت پہلو یہ سمجھا جاتا ہے کہ نجکاری سرمایہ کاری کو فروغ دیتی ہے۔ جب غیر ملکی یا مقامی سرمایہ کار سرکاری ادارے خریدتے ہیں تو وہ نئی ٹیکنالوجی، بہتر انتظامی ڈھانچہ اور جدید طریقہ کار متعارف کرواتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ادارے کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ مجموعی معیشت پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے اور عالمی منڈی میں ملک کی ساکھ بہتر ہو سکتی ہے۔اس کے برعکس نجکاری کے مخالفین اسے قومی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری ادارے محض کاروباری یونٹ نہیں ہوتے بلکہ قومی سلامتی، خودمختاری اور عوامی مفاد سے جڑے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہوابازی، توانائی اور مواصلات جیسے شعبے اگر مکمل طور پر نجی ہاتھوں میں چلے جائیں تو ریاست کا کنٹرول کمزور پڑ سکتا ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ نجکاری دراصل چند طاقتور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے، جبکہ عام عوام کو اس کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔نجکاری کا سب سے بڑا منفی اثر ملازمین پر پڑتا ہے۔ جب کوئی سرکاری ادارہ نجی شعبے کے حوالے کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اخراجات کم کرنے کے لیے ملازمین کو نکالا جاتا ہے۔ ہزاروں خاندان بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں، جن کے لیے متبادل روزگار کے مواقع محدود ہوتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی بے روزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے، وہاں نجکاری کے بعد پیدا ہونے والی بیروزگاری سماجی مسائل کو جنم دے سکتی ہے، جن میں غربت، جرائم اور ذہنی دباؤ شامل ہیں۔ایک اور اہم منفی پہلو یہ ہے کہ نجکاری کے بعد سروسز مہنگی ہو سکتی ہیں۔ نجی کمپنیاں منافع کو اولین ترجیح دیتی ہیں، اس لیے وہ قیمتیں بڑھا دیتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عام صارف پر پڑتا ہے۔ بجلی، گیس، پانی اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبوں میں نجکاری کے بعد نرخوں میں اضافہ عوامی غم و غصے کا سبب بنتا رہا ہے۔ اگر ریگولیٹری ادارے مضبوط نہ ہوں تو نجی کمپنیاں اجارہ داری قائم کر کے صارفین کا استحصال بھی کر سکتی ہیں۔پاکستان میں نجکاری کے عمل پر شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ ماضی میں کئی ادارے ان کی اصل قیمت سے کم پر فروخت کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔ بعض اوقات نجکاری کے فیصلے جلد بازی میں یا سیاسی مفادات کے تحت کیے گئے، جس کا خمیازہ بعد میں عوام نے بھگتا۔ اس لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ مسئلہ سرکاری اداروں کا ہونا نہیں بلکہ ان کا ناقص انتظام ہے، جسے اصلاحات کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں سرکاری ادارے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ اگر نظم و نسق بہتر ہو، سیاسی مداخلت ختم کی جائے، میرٹ کو فروغ دیا جائے اور احتساب کا نظام مضبوط ہو تو سرکاری ادارے بھی منافع بخش بن سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا پاکستان میں نجکاری واقعی آخری حل ہے یا اصلاحات کے ذریعے سرکاری اداروں کو بہتر بنانا زیادہ مناسب راستہ ہو سکتا ہے۔نجکاری کے حق یا مخالفت میں فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ ہر ادارہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ ادارے مکمل نجکاری کے متحمل ہو سکتے ہیں، جبکہ کچھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ بہتر ماڈل ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض شعبوں میں ریاست کا کنٹرول برقرار رہنا ضروری ہے، جبکہ کچھ میں نجی شعبہ بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ اس لیے ایک ہی پالیسی کو تمام اداروں پر لاگو کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔پاکستان کے تناظر میں نجکاری کی کامیابی کا انحصار شفافیت، مضبوط ریگولیٹری فریم ورک اور عوامی مفاد کے تحفظ پر ہے۔ اگر نجکاری صرف خسارہ کم کرنے یا بیرونی دباؤ کے تحت کی جائے تو اس کے نتائج منفی ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ عمل طویل المدتی منصوبہ بندی، شفاف نیلامی اور ملازمین کے تحفظ کے ساتھ کیا جائے تو اس کے فوائد بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں سرکاری اداروں کی نجکاری نہ مکمل طور پر درست ہے اور نہ ہی مکمل طور پر غلط۔ یہ ایک پالیسی ٹول ہے، جس کا استعمال حالات اور ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے۔ اصل مسئلہ نیت، عملدرآمد اور نگرانی کا ہے۔ اگر مقصد واقعی قومی مفاد، عوامی سہولت اور معاشی استحکام ہو تو نجکاری فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، لیکن اگر یہ محض وقتی مالی فائدے یا مخصوص طبقے کے مفادات کے لیے کی جائے تو یہ قومی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے زمینی حقائق، شفافیت اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر اس اہم فیصلے پر آگے بڑھے۔