پاکستان: جہاں قابلیت سے زیادہ ‘رابطہ’ اہمیت رکھتا ہے


پاکستان کے سماجی و سیاسی منظرنامے میں ‘سفارش’ کا لفظ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر شعبے میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ رسمی اور غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے کام کروانے کا یہ طریقہ کار محض ایک سہولت نہیں، بلکہ اکثر و بیشتر ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔ یہ مضمون اس بات کا تجزیہ کرتا ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں سفارش کیوں اتنی اہم اور ضروری سمجھی جاتی ہے، اور اس کے پیچھے کون سے ادارہ جاتی، ثقافتی اور معاشی عوامل کارفرما ہیں۔
۱. کمزور اور غیر مؤثر نظام
سفارش کی بنیادی وجہ ریاست کے اداروں کا کمزور ہونا ہے۔ جب سرکاری محکموں میں میرٹ پر بھرتی، مقررہ مدت میں کام کی تکمیل، اور شفاف فیصلہ سازی کا عمل قابل اعتبار نہیں رہتا، تو لوگ قدرتی طور پر ایک متبادل راستہ تلاش کرتے ہیں۔ عدالتی کارروائیوں میں تاخیر، دفتری فائلز کا التوا، اور نوکریوں میں مبہم طریقہ کار شہریوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ‘رابطوں’ کے ذریعے اپنے کام کو یقینی بنائیں۔ طاقتور سفارش یہاں ایک گارنٹی کا کام دیتی ہے جو کمزور نظام فراہم نہیں کر پاتا۔
. بے روزگاری اور شدید مسابقت
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود روزگار کی تلاش میں ہے۔ محدود سرکاری ملازمتیں اور نجی شعبے میں بھی زیادہ تنخواہ والی آسامیوں کی کمیابی مسابقت کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیتی ہے۔ اس شدید مقابلے کے ماحول میں، محض تعلیمی قابلیت کافی نہیں سمجھی جاتی۔ نوکری حاصل کرنے یا یہاں تک کہ کسی بڑے تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے کے لیے، سفارش ایک اضافی وزنی عنصر بن جاتی ہے جو ایک امیدوار کو دوسرے پر ترجیح دلاتی ہے، چاہے میرٹ کا فرق کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔
ثقافتی جڑیں اور ‘رشتہ داری’ کا نظام
پاکستانی معاشرت میں خاندانی تعلقات اور رشتہ داری کا نظام بہت مضبوط ہے۔ یہاں یہ ثقافتی رجحان پایا جاتا ہے کہ اپنے ‘قریبی لوگوں’ کی مدد کرنا اخلاقی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ ایک بااثر شخص کو اپنے جاننے والے، محلے دار یا دور کے رشتہ دار کی سفارش کرتے وقت عموماً کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی۔ یہ رویہ حکومتی اور نجی شعبوں میں ایک غیر رسمی معیار بناتا ہے جہاں قابلیت سے زیادہ ذاتی تعلق کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہ سفارش محض ایک قانونی کام کروانے کا عمل نہیں، بلکہ سماجی فرض کی ادائیگی بن جاتی ہے۔
بدعنوانی اور پیسوں کا لین دین
سفارش کا دوسرا بدترین پہلو یہ ہے کہ یہ اکثر بدعنوانی کا پردہ بن جاتی ہے۔ کئی مواقع پر، سفارش کی آڑ میں غیر قانونی مراعات حاصل کی جاتی ہیں یا سرکاری عہدیداروں کو رشوت دی جاتی ہے۔ کچھ کام ‘اوپر سے فون’ کروا کر مفت میں ہو جاتے ہیں، جبکہ اگر وہ فون نہ آئے تو کام کروانے کے لیے مالی ادائیگی ضروری ہو جاتی ہے۔ اس طرح، سفارش نہ صرف میرٹ کو ختم کرتی ہے، بلکہ بدعنوانی کے کلچر کو بھی فروغ دیتی ہے جہاں طاقت اور پیسہ قانونی راستے کو پیچھے دھکیل دیتے ہیں۔
. رسائی کا فقدان اور ‘عام آدمی’ کی مجبوری
ایک عام پاکستانی شہری کے لیے، بغیر سفارش کے کسی بھی سرکاری دفتر میں آسانی سے رسائی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ ایک بااثر شخصیت کی سفارش اس عمل میں شارٹ کٹ کا کام کرتی ہے۔ سفارش کے ذریعے ایک عام شہری کو افسر سے ملاقات کا وقت، فائل پر دستخط، یا اپنے حق کا کام کروانے کے لیے ایک ‘گیٹ وے’ مل جاتا ہے جو بصورتِ دیگر برسوں کی دھکے کھا کر بھی شاید نہ ملے۔ لہٰذا، یہ ایک آلے کے طور پر استعمال ہوتی ہے تاکہ شہری کو اس کے بنیادی حقوق مل سکیں۔
سیاسی تقرریاں اور فیورٹزم
سفارش کا کلچر اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے۔ جب سیاسی قیادت میرٹ کی بجائے ذاتی وفاداری اور سیاسی تعلقات کی بنیاد پر اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں کرتی ہے، تو نچلے درجے کے اہلکار بھی اسی طریقہ کار کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ عمل فیورٹزم کو ایک عام اصول بنا دیتا ہے۔ چونکہ عہدہ حاصل کرنے کا ذریعہ خود قابلیت نہیں ہوتی، اس لیے عہدیدار بھی میرٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قریبی لوگوں کی سفارش کو اہمیت دیتے ہیں، جس سے پورے نظام کی کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے۔
سماجی طاقت کا اظہار
پاکستان میں سفارش کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ کسی کی سفارش کرنا اور اس کے ذریعے کام کروانا سماجی رتبے اور طاقت کا ایک اظہار سمجھا جاتا ہے۔ یہ دوسروں کو یہ باور کراتا ہے کہ سفارش کرنے والے کے پاس کتنے اہم رابطے ہیں اور وہ کتنا بااثر ہے۔ اس طرح، سفارش بعض اوقات ایک سماجی کرنسی کے طور پر استعمال ہوتی ہے جو متعلقہ شخص کے اثر و رسوخ میں اضافہ کرتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں اس کی اہمیت بڑھاتی ہے۔
میرٹ کی بحالی کی ضرورت
سفارش کا نظام ملک کی ترقی، مساوات اور شفافیت کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اس غیر ضروری ‘ضرورت’ کو ختم کرنے کے لیے مضبوط، خودمختار اور مؤثر اداروں کی بحالی ناگزیر ہے۔ جب تک ادارے عوامی اعتماد بحال نہیں کرتے اور ہر کام میرٹ اور قانون کے مطابق نہیں ہوتا، سفارش کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ میرٹ کا قیام ہی سفارش کے زہریلے درخت کو جڑ سے اکھاڑ سکتا ہے۔
کیا آپ اس موضوع سے متعلق کوئی اور پہلو جاننا چاہیں گے، یا اس کے حل کے بارے میں بات کرنا پسند کریں گے؟