ویلڈن پاکستان۔۔ سفارتی فتح اور امن کی امید

صوفی برکت کا یہ جملہ “دنیا پاکستان کی ہاں میں ہاں ملائے گی” آج محض ایک خیال نہیں، بلکہ ایک ابھرتی ہوئی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ یہی خودمختار طرز فکر پاکستان کو ایک نئے عالمی کردار میں لا کھڑا کیا ہے۔ وہ اسلام آباد، جسے کبھی غیر محفوظ اور خطرناک خطہ قرار دیا جاتا تھا، آج عالمی امن کے لیے ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔
جنگ کبھی کمزور ممالک کی خواہش نہیں ہوتی، بلکہ طاقتوروں کی بے لگام انا اور مفادات کا کھیل ہوتی ہے۔ یہ اکثر بہانوں کی آڑ میں چھوٹے ممالک پر مسلط کی جاتی ہے۔ ایسے ہی حالات میں ایران نے بقا کی جدوجہد کو عشق کا رنگ دیتے ہوئے، گویا امریکہ کی سجائی ہوئی آتش نمرود میں چھلانگ لگائی, یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ راکھ ہونے سے پہلے غرور میں ڈوبی طاقت کو بھی للکارا جائے۔ یہ جذبۂ قربانی اور جرات ہی تھا جس نے تائید الٰہی کے سہارے ایک بے لگام قوت کو جھکنے پر مجبور کیا۔ نتیجتاً، عارضی جنگ بندی کی کوششوں کا آغاز ہوا، اور اب سفارتی ذرائع سے ایک مستقل حل کی حوصلہ افزاء امید پیدا ہو چکی ہے۔
امن کی ان کوششوں میں کئی رکاوٹیں حائل تھیں۔ سب سے بڑی حقیقت یہ تھی کہ کچھ عرصہ قبل تک پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار تھا۔ کھیل کے میدان ہوں یا سفارتی فورمز، ہر جگہ شکوک و شبہات کا سایہ موجود تھا۔ اسے ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ مگر آج منظر بدل چکا ہے۔ وہ ممالک جو یہاں آنے سے کتراتے تھے، اب ان کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں۔ یہ تبدیلی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں، بلکہ مسلسل، سنجیدہ اور دانشمندانہ سفارتی کاوشوں کا ثمر ہے۔
ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ فریقین، جو برسوں سے ایک دوسرے کے مد مقابل تھے اور ایک دوسرے کا سامنا تک گوارا نہ کرتے تھے، آج اسلام آباد میں ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، سنتالیس سال بعد دونوں ممالک کے وفود نے نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ براہ راست مذاکرات کا آغاز بھی کیا۔ یہ پیش رفت محض غیر معمولی نہیں بلکہ تاریخی اہمیت کی حامل ہے، اور پاکستان کی سفارتی بصیرت کا روشن ثبوت بھی ہے۔

ایسے مواقع پر مخالف قوتیں رکاوٹیں ڈالنے سے باز نہیں آتیں۔ اور ہمیشہ کی طرح ناپسندیدہ حرکات ہی کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ بیل منڈھے نہ چڑھے اور جنگ بندی کے معاملات کھٹائی میں پڑ جائیں۔ مگر پاکستان نے نہ صرف ان چیلنجز کو پہچانا بلکہ انہیں ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا۔ قیادت اور اداروں نے اپنی انتھک کوششوں سے یہ ثابت کیا کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد امن، تو مشکلات راستہ نہیں روک سکتیں۔ مثبت سوچ، استقامت اور تدبر بالآخر سرخرو ہوتے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر یہ تاثر بھی ابھر رہا ہے کہ ایک بڑی سپر پاور کا مذاکرات کی میز پر آنا، اس کی طویل جنگی حکمت عملی کی ناکامی کی علامت ہے۔ طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا تصور کمزور پڑ رہا ہے، جبکہ مکالمہ اور مفاہمت ایک ناگزیر ضرورت بنتے جا رہے ہیں۔ پرانی حکمت عملیاں، پراکسی جنگیں، فوجی اڈے، اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر انتشار پھیلانا، اب غیر مؤثر دکھائی دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، ٹیکنالوجی اور معاشی تعاون پر مبنی مفاہمت عالمی نظام پر غالب آ رہی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نسبتاً کمزور معیشت کے باوجود پاکستان کا اس سطح پر سفارتی کردار ادا کرنا کسی معجزے سے کم نہیں۔ بظاہر ناتواں کندھوں نے ایک بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سیاست میں صرف معاشی طاقت ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی، بلکہ اعتماد، حکمت اور غیر جانبداری بھی غیر معمولی قوت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی انصاف پسندی اور مفاہمتی پالیسیوں پر بڑھتا ہوا اعتماد اسی کا عکاس ہے، اور یقیناً باعث فخر بھی ہے۔
اسلام آباد میں 11 اپریل 2026 کا دن ایک سنہری باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ وہ دن جب پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ایک مسلم ریاست ہونے کے ناطے اس کا اصل کردار امن، توازن اور انسانیت کی خدمت ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب “امن و محبت” کا پیغام اسلام آباد سے اٹھ کر دنیا بھر میں پھیلنے کی امید ہے۔
اسلام آباد سے آنے والی حوصلہ افزا فضا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگر دونوں فریقین تحمل، بردباری اور مثبت طرز عمل کو برقرار رکھتے ہیں، تو یہ جنگ بندی مستقل امن کی بنیاد بن سکتی ہے۔ اب تکنیکی سطح پر مشترکہ نکات کا جائزہ لیا جائے گا، جہاں ہر فریق اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل تجاویز پر غور کرے گا۔ اگر ابتدائی پیش رفت کے بعد متفقہ اعلامیہ سامنے آتا ہے، تو اگلا مرحلہ ماہرین کی ٹیموں کے سپرد ہوگا، جو عملی اطلاق کے پہلووں کا جائزہ لے کر حتمی لائحہ عمل ترتیب دیں گی۔
میڈیا میں گردش کرتی شکوک کی گرد کے باوجود قوی امکان ہے کہ تدبر اور برداشت سے یہ پیچیدہ عمل بھی کامیابی سے مکمل ہو جائے گا۔ پاکستان نے مفاہمت کا جو پل تعمیر کیا ہے، اب اس پر چلنا عالمی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
یہ صرف ایک سفارتی کامیابی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی فتح بھی ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ طاقت سے بڑھ کر اثر مکالمے کا ہوتا ہے۔
اللہ کرے یہ کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں۔تو یہ وہی دن ہو گا جب صوفی برکت کا قول حقیقت بنے گا کہ۔۔۔
“ایک دن دنیا پاکستان کی ہاں میں ہاں ملائے گی”
ویلڈن قیادت (سیاسی و عسکری) پاکستان!
ویلڈن پاکستان!