زندگی اپنے اندر ہزاروں رنگ اور لاکھوں کیفیتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ کبھی چند دنوں میں ہمیں اتنا کچھ سکھا دیتی ہے کہ ہم برسوں میں بھی نہ سیکھ پاتے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کچھ ایسے لمحے اب بھی موجود ہیں جنہیں ہم پوری طرح سمجھ نہیں پاتے۔ یہ وہ مختصر لمحے ہوتے ہیں جو اچانک ہمارے اندر ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس کا جواب نہ ہمارے پاس ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی وجہ نظر آتی ہے۔ یہ لمحے انسان کو ہلا بھی دیتے ہیں اور اسے اپنے آپ سے روبرو بھی کر دیتے ہیں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم ہنسی کے عالم میں ہوتے ہیں۔ کسی بات پر دل سے مسکرارہے ہوتے ہیں، خوشی ہماری آنکھوں میں جھلک رہی ہوتی ہے۔ لیکن اگلے ہی پل آنکھیں بھر آتی ہیں۔ جیسے دل کی تہہ میں چھپی کوئی پرانی اداسی اچانک سر اٹھا لے۔ یہ ایک لمحہ ہمیں بتا دیتا ہے کہ خوشی کبھی مکمل نہیں ہوتی، اس میں کہیں نہ کہیں ماضی کی کوئی چبھن، کوئی یاد، کوئی کمی چھپی ہوتی ہے۔ اور جب وہ لمحہ دل کی دیواروں سے ٹکرا کر باہر آتا ہے تو ہنسی اور آنسو ایک ساتھ بہہ پڑتے ہیں۔
بعض اوقات انسان بہت بڑے ہجوم میں کھڑا ہوتا ہے۔ اردگرد لوگ، آوازیں، روشنی اور زندگی کی گہما گہمی ہوتی ہے۔ مگر دل کے اندر ایسی ویرانی اُتر آتی ہے کہ جیسے انسان اپنی ہی موجودگی سے کٹ جاتا ہے۔ یہ تنہائی باہر کی نہیں ہوتی، یہ اندر کی تنہائی ہوتی ہے۔ وہ تنہائی جس کا تعلق روح کی گہرائیوں سے ہوتا ہے۔ یہ احساس بہت بھاری ہوتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھی انسان کو بھیڑ میں رہتے ہوئے بھی خود کو مکمل طور پر اکیلا محسوس کرنا پڑتا ہے۔
زندگی میں خوشی کے لمحے بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر وہ لمحہ جب ہم پرجوش ہو کر خریداری کر رہے ہوں، پسند کی چیزیں دیکھ رہے ہوں اور دل خوشی سے بھر رہا ہو۔ لیکن کبھی اچانک دل خالی ہو جاتا ہے، ہر چیز بے رنگ لگتی ہے۔ جیسے دنیا کی زیبائش اپنا اثر کھو بیٹھے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کو ایک لمحے میں اس حقیقت سے روبرو کر دیتا ہے کہ باہر کی خوشیاں اندر کے خلا کو نہیں بھر سکتیں۔ کچھ کمی ایسی ہوتی ہے جو صرف دل کے سکون سے پوری ہوتی ہے، چیزوں سے نہیں۔
کبھی کوئی خوبصورت منظر—چاہے کتنے ہی حسن سے بھرا کیوں نہ ہو—ایک بڑی محرومی کا احساس جگا دیتا ہے۔ کوئی یاد، کوئی کھویا ہوا شخص، کوئی ادھوری خواہش، کوئی پرانا زخم… سب کچھ ایک منظر کے سامنے آتے ہی جاگ اٹھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جو انسان کو بتاتا ہے کہ خوبصورتی صرف آنکھوں سے نہیں دیکھی جاتی، بلکہ دل کے آئینے سے دیکھی جاتی ہے۔ اور دل کبھی کبھی خوبصورت چیزوں میں بھی دکھ دیکھ لیتا ہے۔
انسان اپنی خوشیوں کو بڑی محنت سے تراشتا ہے۔ حال کا سکون، آج کی مسکراہٹیں، موجودہ کامیابیاں… ان سب کے پیچھے ایک لمبی جدوجہد ہوتی ہے۔ مگر ماضی کا سایہ کبھی کبھی ان خوشیوں پر یوں لہرانے لگتا ہے جیسے وہ یاد دلانا چاہتا ہو کہ “میں ابھی ختم نہیں ہوا۔” کوئی پرانا دکھ، کوئی پچھتاوا، کوئی محرومی… سب اچانک سے دل میں اپنی موجودگی جتا دیتے ہیں۔ یہ لمحہ انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
جذبات کے یہ پل ایسے ہوتے ہیں جن میں دل کے اندر سب احساسات ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ خوشی، اداسی، خاموشی، خوف، امید، مایوسی—سب ایک ساتھ دل میں اتر آتے ہیں۔ انسان خود کو سمجھ نہیں پاتا کہ وہ کیا محسوس کر رہا ہے۔ یہ کیفیت اتنی پیچیدہ ہوتی ہے کہ انسان اپنے ہی جذبات کی گنتی بھول جاتا ہے۔ یہ لمحہ انسان کو تھکا دیتا ہے، جیسے اندرونی دنیا کا بوجھ بڑھ گیا ہو۔
ایسے لمحوں کو گزارنے کا فن سیکھنا آسان نہیں۔ انسان ہمیشہ وہی سیکھ پاتا ہے جو وہ سمجھنے کی کوشش کرے۔ مگر ان لمحوں کی پیچیدگی ایسی ہوتی ہے کہ انسان ان کے سامنے بے بس محسوس کرتا ہے۔ اصل ہنر یہ ہے کہ ہم ان جذبات کو قبول کریں، ان کے وجود کو مانیں، اور انہیں روکنے کے بجائے بہنے دیں۔ جب ہم اپنے احساسات کے خلاف لڑتے ہیں تو وہ ہمیں مزید کمزور کرتے ہیں، مگر جب ہم انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ ہمیں مضبوط بنانے لگتے ہیں۔
زندگی کا اصل حسن یہ ہے کہ یہ ہمیں کبھی بھی مکمل نہیں ہونے دیتی۔ ہر دن ایک نیا سبق، ہر لمحہ ایک نیا تجربہ، ہر احساس ایک نئی گہرائی پیدا کرتا ہے۔ انہی تجربات سے ہم اندر سے بہتر بنتے ہیں۔ ہم سیکھتے ہیں کہ کوئی بھی کیفیت مستقل نہیں، ہر حالت بدل جاتی ہے۔ انسان بدل جاتا ہے، وقت بدل جاتا ہے، دل کے زخم بھی بدل جاتے ہیں۔
شاید ابھی ہم اس ایک لمحے کو گزارنے کا فن نہیں سیکھ پائے جس میں سب احساسات ایک ساتھ جاگ اٹھتے ہیں۔ مگر سیکھنے کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ وقت کے ساتھ ہم ان لمحوں کو سمجھنے لگیں گے، ان میں جینا سیکھ جائیں گے۔ ہم جان جائیں گے کہ زندگی انہی ادھورے لمحوں کا نام ہے جنہیں ہم ہر روز تھوڑا تھوڑا سمجھتے ہیں۔
آخرکار انسان تب تک آگے نہیں بڑھ سکتا جب تک وہ اپنی کیفیتوں سے بھاگنے کے بجائے انہیں تسلیم نہ کر لے۔ یہی قبولیت ہمیں مضبوط بناتی ہے، یہی ہمیں جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔ اور شاید اسی دن ہم واقعی یہ سمجھ پائیں گے کہ وہ ایک لمحہ جو ہمیں ہر بار توڑ دیتا ہے… وہی لمحہ ہمیں مکمل بننے کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔