ٹیکسلا۔ پنجاب میں ون ڈش کی پابندی، شادی ہال مالکان و مارکی یونین کے عہدیداران چیخ اٹھے، پریس کانفرنس کرتے ہوئے میرج ہال ومارکی یونین ٹیکسلا،واہ اور حسن ابدال کے سرپرست اعلی ملک اظہر نواز، صدر حامد نسیم مغل، جنرل سیکرٹری فخر عباس کاظمی، سیکرٹری نشرواشاعت عمار علی شاہ، ملک کامران اسلم و دیگر کا کہنا تھا کہ ہر سال شادی تقریبات سیزن شروع ہوتے ہی حکومت قانون کی آڑ میں عوام کو سادگی کے لیے صرف ون ڈش پر مجبور کرتی ہے اور اس طرح شادی ہال مالکان کے کاروبار کو ہدف بنایا جاتا ہے افسوس ون ڈش کی سخت پابندی صرف پنجاب میں ہے باقی صوبوں میں ایسا کوئی معاملہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کا مقصد صرف شادی ہال مالکان کو بلیک میل کرنا اور عوام کو پریشان کرنا ہے جبکہ پنجاب میں شادی ہال مالکان پہلے ہی مختلف حکومتی محکموں سے سخت پریشان ہیں اور اب ون ڈش پالیسی کے نفاذ سے شادی ہال انڈسٹری کو شدید مالی نقصان پہنچ رہا ہے انہوں نے کہا کہ شادی ہال انڈسٹری سے براہ راست و بالواسطہ بہت سے شعبے وابستہ ہیں اور سینکڑوں لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے اس طرح کی پابندیوں سے نا صرف مذکورہ شعبہ جات شدید متاثر ہورہے ہیں بلکہ سینکڑوں افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے انہوں نے کہا کہ شادی ہال مالکان حکومت کو کئی قسم کے ٹیکس ادا کرتے ہیں حکومت کی موجودہ پالیسی نہ صرف ان کے کاروبار اور روزگار کو متاثر کر رہی ہے بلکہ حکومتی ٹیکس ریونیو میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے عہدیداروں نے حکومت سے اپیل ہے کہ سخت پابندی کی بجائے شادی ہال کو لچکدار پالیسی دی جائے اور پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ ون ڈش ایکٹ کی خلاف ورزی کی سزائیں فوری طور پر معطل کی جائیں حکومت شادی ہال مالکان اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نئی پالیسی مرتب کرے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہم بات چیت اور تعاون کے لیے تیار ہیں مگر ظالمانہ پالیسی اور یکطرفہ فیصلے کسی صورت قابل قبول نہیں۔