تحصیل کہوٹہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں تدریسی فرائض سرانجام دینے والے اساتذہ،خصوصاً خواتین اساتذہ، شدید سفری مشکلات سے دوچار ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی، ٹرانسپورٹرز کے درمیان روٹ تنازعات، بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستوں کی بندش اور مہنگے کرایوں نے اساتذہ کیلئے ڈیوٹی پر بروقت پہنچنا مشکل بنا دیا ہے۔اساتذہ اور مقامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ ان علاقوں میں اساتذہ بس سروس کا فوری آغاز کیا جائے تاکہ اساتذہ کو محفوظ، باقاعدہ اور کم لاگت سفری سہولت فراہم ہوسکے۔ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی کے باعث نہ صرف اساتذہ ذہنی و جسمانی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ طلبہ کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ تحصیل کہوٹہ کے پہاڑی علاقوں میں متعدد مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستے بند ہوجاتے ہیں،دوسری جانب، مہنگے کرایوں نے خواتین سمیت کم تنخواہ والے اساتذہ پر اضافی مالی بوجھ ڈال رکھا ہے۔