طارق محمود آفاقی
تتّہ پانی کی لاش — یہ قتل ہے، اور قاتل صرف ایک نہیں
تتّہ پانی کے دریا سے ملنے والی ایک نامعلوم لڑکی کی لاش کوئی عام خبر نہیں۔ یہ ایک ایسا کیس ہے جو چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ یہاں صرف ایک انسان نہیں مارا گیا—یہاں انسانیت کا قتل ہوا ہے، اور اس قتل میں صرف وہ درندہ شامل نہیں جس نے یہ ظلم کیا، بلکہ وہ پورا معاشرہ بھی شریک ہے جو خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔
لاش کی حالت خود ایک چارج شیٹ ہے۔
ٹوٹی ہوئی انگلیاں—کیا یہ تشدد کے دوران مزاحمت کی قیمت تھی؟
ہاتھ پر سیاہی—کیا یہ کسی زبردستی کی نشانی ہے؟
گلے پر رسی کے نشانات—کیا یہ ایک سوچا سمجھا قتل ہے؟
یہ سوال نہیں، ثبوت ہیں۔ اور یہ ثبوت اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند جرم ہے۔
اب اصل سوال:
یہ لڑکی کون ہے؟
کہاں سے آئی؟
اور سب سے بڑھ کر—کس نے اسے یہاں تک پہنچایا؟
حیرت کی بات یہ نہیں کہ ایک لاش ملی ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تک کوئی دعویدار سامنے نہیں آیا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک لڑکی یوں ہی غائب ہو جائے اور کسی کو خبر تک نہ ہو؟ یا پھر یہ بھی ہماری سماجی بے حسی کا ایک اور ثبوت ہے کہ ہم اپنے اردگرد ہونے والی گمشدگیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں؟
یہاں ریاستی اداروں پر بھی سوال اٹھتے ہیں۔
کیا علاقے میں حالیہ گمشدگیوں کا ریکارڈ چیک کیا گیا؟
کیا فرانزک شواہد فوری طور پر محفوظ کیے گئے؟
کیا اس کیس کو محض “نامعلوم لاش” کہہ کر فائل بند کرنے کی تیاری تو نہیں ہو رہی؟
ہمیں ماننا ہوگا کہ ایسے کیسز میں اصل قاتل اکثر بچ نکلتے ہیں—کیونکہ نظام کمزور ہے، تحقیقات سست ہیں، اور دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر اس کیس کو بھی روایتی انداز میں نمٹایا گیا تو یہ لاش بھی صرف ایک نمبر بن کر رہ جائے گی۔
لیکن اصل مسئلہ اس سے بھی بڑا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں، یہ ایک پیٹرن ہے۔
وہی کہانی—عورت، تشدد، خاموشی، اور پھر بھول جانا۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں ایک لڑکی کی زندگی کی قیمت اتنی کم ہو چکی ہے کہ اسے مار کر دریا میں پھینک دینا بھی مجرم کے لیے کوئی بڑا خطرہ نہیں رہا۔ کیونکہ اسے معلوم ہے—چند دن شور ہوگا، پھر سب خاموش۔
یہ خاموشی ہی اصل جرم ہے۔
اگر آج بھی اس کیس کی تہہ تک نہ پہنچا گیا، اگر مجرم کو نشانِ عبرت نہ بنایا گیا، تو یاد رکھیں—کل یہی کہانی کسی اور شہر، کسی اور دریا، اور کسی اور بیٹی کے ساتھ دہرائی جائے گی۔
یہ وقت ہے کہ ریاست جاگے، ادارے حرکت میں آئیں، اور معاشرہ اپنی بے حسی کی چادر اتار پھینکے۔
ورنہ تتّہ پانی کا دریا صرف پانی نہیں بہائے گا—یہ ہمارے ضمیر کی لاشیں بہاتا رہے گا۔
ا
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.