زمین اب بہت تیزی سے ماحولیاتی تبدیلی کے دور سے گزررہی ہے اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔جس کی وجہ سے زراعت متاثرہورہی ہے۔فصلوں کی پیداوار میں ہر سال واضح کمی ہورہی ہے۔ زمین سیم وتھورکا شکار ہورہی ہے اورزمین کا کٹاؤ بڑھ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کاشت کے اوقات اور نشوونما کے مراحل کے حساب سے مختلف فصلوں پر مختلف ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پوری دنیا کو سیلاب اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کہیں بارشیں ز یادہ ہوں گی۔گلیشر پگھلنے کی وجہ سے دریاوں میں سیلاب آئے گااور خطے خشک سالی کا شکا ر ہوں گے۔ پاکستان میں بارشیں اور سیلا ب جبکہ افریقا اور لا طینی امریکا کے بعض خطے خشک سالی کا شکا ر ہیں۔ درجہ حرارت میں تیز رفتار تبد یلی بتا رہی ہے کہ اب سے آٹھ برس بعد دنیا کے کئی خطوں میں زندگی نا قابل برداشت ہو جائے گی۔ آج کا مو سم بتا رہا ہے کہ کو ئی سائنسدان یا خطرے کا بگل بجانے والا مدبر نہیں بلکہ ہم بجا ئے خود خوش فہم اور نا اندیش ہیں اور مس منجمنٹ کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی سے جہاں ساری دنیا متاثر ہو رہی ہے اس میں سطح مرتفع پوٹھوہار کا خطہ بھی بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ہمارے خطہ بارانی ہے۔ اب تیزی سے پانی کی سطح گہرائی میں جارہی ہے۔ایک وقت تھا پانی کی سطح 35 سے 40 فٹ تھی آج 300 تک پہنچ چکی ہے۔دوسرا ہماری فصلیں اس سے متاثر ہورہی ہیں وقت پر بارش نہیں ہوتی۔جس کی وجہ سے فی کنال پیداوار میں کمی آرہی ہے۔انسانوں اور جانوروں میں مختلف قسم کی بیماریاں رونما ہوئی ہیں۔ہمارا علاقہ پہلے ہی بارانی تھا۔فصلوں کا دارومدار بارش پر تھا۔اب بے موسمی بارشوں سے فصل اگانا مشکل ہو گا ہے۔کسان پریشان ہیں۔کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ ملکی زرعی پیدارو کی کمی کو کیسے پورا کریں گے۔اس ماحولیاتی تبدیلی سے اجناس کے بیج کے ساتھ ساتھ جانوروں اور پرنددوں کی نسل میں کمی رونما ہوتی جارہی ہے۔
خطہ سطحِ مرتفع پوٹھوہار اپنے جغرافیائی محلِ وقوع، موسمی ساخت اور زرعی روایات کی وجہ سے پاکستان کا ایک اہم زرعی خطہ ہے۔ یہاں کی معیشت اور مقامی آبادی کا بیشتر انحصار گندم، مکئی اور دیگر فصلوں کی پیداوار پر ہے۔ تاہم حالیہ دہائیوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ماحول میں غیر مستحکم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جس کے باعث بارشوں کے موسم اور انداز میں بڑے پیمانے پر فرق آیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی میں وہ دیرپا تبدیلیاں بھی شامل ہیں جو درجہ حرارت، بارش، ہوا اور دیگر موسمی عوامل میں طویل مدت تک قائم رہتی ہیں۔ عالمی سطح پر صنعتی اقدار، حیاتیاتی وسائل کا استعمال، اور انسانی سرگرمیوں نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور موسمی پیٹرن طویل مدت میں تبدیل ہو رہا ہے جس کے اثرات ہمارے خطہ پوٹھوہار پر نمایاں نظر آ رہے ہیں۔
پوٹھوہار میں گندم عموماً نذرِ غربانی (Rabi) فصل کے طور پر ستمبر سے نومبر کے دوران بوئی جاتی ہے، اور مارچ سے اپریل تک پیداوار کے لیے نشوونما پاتی ہے۔ اس دوران معتدل سردی اور مناسب بارش ہی گندم کی بہتر پیداوار کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ مئی سے اگست تک یہاں گرمی اور بارشوں کا موسم ہوتا ہے، جس میں مون سون بارشیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پوٹھوہار میں روایتاً متوقع بارشوں کے موسم میں بے قاعدگی آئی ہے جس کے سبب فصل کی پیداوار پر خاطر خواہ اثرات مرتب کیے ہیں ۔ماضی میں جون تا ستمبر کے دوران ہونے والی بارشیں اب تاخیر سے یا غیرمقرر وقت پر ہو رہی ہیں ۔بارشوں کی شدت میں غیر متوازن اضافہ یا کمی بعض برسوں میں اچانک شدید طوفانی بارشیں جبکہ دیگر برسوں میں خشک سالی کا سامنا کرنا پڑرہا ہےان غیر متوقع بارشوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ گندم کی بیج بونے، اگنے اور نشوونما کے مناسب مرحلوں میں زمین کو مطلوب نمی فراہم نہیں ہو پاتی جس سے پیدوار متاثر ہو رہی ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت میں اضافے نے بھی زراعت کو متاثر کیا ہے۔بڑھتا ہوا درجہ حرارت گندم کی نشوونما والےاہم ادوار (خصوصاً گلنے اور دانے بننے کے مرحلے) میں پودے پر دباؤ ڈالتا ہے۔شام و صبح کے درجہ حرارت میں غیر متوقع اتار چڑھاؤ گندم کے معیار (Grain Quality) اور وزن پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔بارشوں کے عدم استحکام کے باعث زمینی نمی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔مٹی میں نمی نہ ہونے سے پودے جڑ مضبوط نہیں بنا پاتے۔دیر سے یا ناکافی بارشیں فصل کو مطلوب غذائی اجزاء جذب کرنے سے روکتی ہیں۔گندم کے بیج بونے کا سب سے موزوں وقت ستمبر تا اکتوبرکے دوران ہوتا ہے۔ اگر بارشیں تاخیر سے ہوں یا نہ ہوں ۔بیجوں کو مناسب نمی نہیں ملتی ۔بیجوں کی جراثیمیت (Germination) کم ہو جاتی ہے۔گندم کے نشوونما کے مرحلے میں مناسب نمی اور درجہ حرارت دونوں ضروری ہیں۔ بارشوں کے غیر متوقع شیڈول سےپودے دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔دانوں کی تعداد اور وزن کم ہو جاتا ہے۔ان موسمی مسائل کے مشترکہ اثرات سے فصل کی کل (مجموعی پیداوار) کم ہوتی ہے۔معیار (Grain Quality) متاثر ہوتا ہے، جس سے مارکیٹ قیمت بھی گر سکتی ہے۔یہ تبدیلیاں نہ صرف فصل متاثر کرتی ہیں بلکہ کسانوں کی معاشی حالت پر بھی منفی اثر ڈالتی ہیں۔
خطہ پوٹھوہار میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے گندم کی پیداوار کو کئی چیلنجز سے دوچار کیا ہے۔ بارشوں کے غیر متوقع شیڈول، درجہ حرارت میں اتار چڑھاؤ، اور نمی کا فقدان گندم کی پیداوار، معیار اور کسانوں کی معاشی صورتِ حال پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ تاہم جدید ٹیکنالوجی، بہتر زرعی مشقیں اور پیشگی پلاننگ کے ذریعے ان چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہے۔
عبدالبصیر ملک

