مودی کا دورہ اسرائیل اور فلسطینیوں کی دہائی

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ اسرائیل عالمی سیاست میں ایک ایسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا ہے جس نے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطی کے تعلقات کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ روایتی طور پر بھارت نے ہمیشہ فلسطین کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں ہندوتوا نظریات اور اسرائیلی صیہونیت کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ نے اس توازن کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔اسرائیل پہنچنے پر نریندر مودی کا جس پرتپاک طریقے سے استقبال کیا گیا، وہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اب صرف تجارتی تعلقات نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ تصویر میں دی گئی سرخی اس غم و غصے کا اظہار ہے جو عالمِ اسلام اور انسانی حقوق کے علمبرداروں میں پایا جاتا ہے، کیونکہ ایک طرف فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں اور دوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ملک ان مظالم کو نظر انداز کر کے قابض قوت کے ساتھ بغل گیر ہے۔فلسطین کے مظلوم عوام دہائیوں سے اسرائیلی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ غزہ سے لے کر مغربی کنارے تک، معصوم بچوں اور خواتین کا خون بہایا جانا ایک روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ایسے میں بھارت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی اور اسٹریٹجک معاہدوں پر دستخط کرنا فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ عالمی سیاست میں اب انسانی اقدار کے بجائے صرف مفادات اور طاقت کا راج ہے۔نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران دفاعی تعاون، تجارت اور ٹیکنالوجی کے تبادلے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ بھارت اب اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جو جنگی ٹیکنالوجی اسرائیل فلسطینیوں کو دبانے کے لیے استعمال کرتا ہے، وہی ٹیکنالوجی اب بھارت کو فراہم کی جا رہی ہے، جس کے اثرات مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔بھارت کے اندر اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی جانب بھی ایک اشارہ ہے۔ مودی حکومت کے دور میں جس طرح مذہبی انتہا پسندی کو ہوا ملی ہے، اس نے عالمی سطح پر بھارت کے سیکولر چہرے کو داغدار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مودی اسرائیل جاتے ہیں، تو اسے دو انتہا پسند نظریات کا ملاپ قرار دیا جاتا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور نریندر مودی کے درمیان کیمسٹری محض سیاسی نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ سوچ کارفرما ہے جو تسلط اور جبر پر یقین رکھتی ہے۔ دونوں رہنماں نے اپنے مشترکہ بیانات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام لے کر دراصل آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کا جواز فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس گٹھ جوڑ نے مشرقِ وسطی میں طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔عالمی برادری کی خاموشی بھی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑانے والا اسرائیل جب بھارت جیسے بڑے ملک کی حمایت حاصل کر لیتا ہے، تو اسے اپنے غیر قانونی اقدامات کے لیے ایک اخلاقی سہارا مل جاتا ہے۔ فلسطینی عوام، جو پہلے ہی تنہائی کا شکار تھے، اب بھارت جیسے پرانے دوست کو بھی اپنے مخالف کی صف میں کھڑا دیکھ کر مزید مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جبر اور ظلم کے ذریعے قوموں کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ مودی کا دورہ اسرائیل وقتی طور پر بھارت کو جدید ترین ڈرونز اور میزائل فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس سے وہ اخلاقی برتری چھن گئی ہے جو کبھی گاندھی اور نہرو کے بھارت کا طرہ امتیاز تھی۔ آج کا بھارت فلسطین کے حقِ خودارادیت کی بات کرنے کے بجائے اسرائیلی بربریت کا خاموش تماشائی اور مددگار بن چکا ہے۔مختصر یہ کہ نریندر مودی کا یہ دورہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ عالمی نظام میں انصاف کی جگہ طاقت نے لے لی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری فلسطینیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائے اور ایسے تمام گٹھ جوڑ کو روکے جو انسانیت کے خلاف جرائم میں معاون ثابت ہو رہے ہوں۔ جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملتا، خطے میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔