موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور چند کلکس نے نشہ کےکاروبار کو مزید محفوظ اور خطرناک بنا دیا

انجینئر بخت سید یوسفزئی
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ ہمیں اس کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہو رہا۔ یہ وہ زہر ہے جو شور نہیں مچاتا، خون نہیں بہاتا، مگر آہستہ آہستہ انسان کی زندگی، صحت اور خاندان سب کچھ کھا جاتا ہے۔ آئس اور ہیروئن جیسے نشے اب صرف گلی محلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل دنیا کے ذریعے خاموشی سے ہر دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔

آج کے دور میں نشہ حاصل کرنا اتنا آسان ہو چکا ہے کہ ایک موبائل فون، سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور چند کلکس ہی کافی ہیں۔ آن لائن آرڈر، خفیہ گروپس، انکرپٹڈ چیٹس اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے ادائیگی نے اس کاروبار کو مزید محفوظ اور خطرناک بنا دیا ہے۔ نہ دکاندار سامنے آتا ہے، نہ خریدار، اور نہ ہی کوئی واضح سراغ باقی رہتا ہے۔

سپلائی کرنے والوں کے پاس اب ایسی جدید اور چالاک تکنیکیں موجود ہیں کہ عام آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ وہ نہ صرف خریدار کی شناخت چھپاتے ہیں بلکہ ترسیل کے طریقے بھی ایسے ہوتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔ کبھی فوڈ ڈیلیوری کے نام پر، کبھی کورئیر سروس کے ذریعے اور کبھی عام سواریاں استعمال کر کے یہ زہر ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچایا جا رہا ہے۔

کراچی جیسے بڑے شہر میں یہ دھندا باقاعدہ نیٹ ورک کی صورت میں چل رہا ہے۔ حال ہی میں کراچی کے ڈی آئی جی اسد رضا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ آئس اور دیگر نشہ آور اشیاء کی فروخت اب روایتی طریقوں کے بجائے آن لائن پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکی ہے، جہاں نگرانی مزید مشکل ہو گئی ہے اور جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

یہ زہر صرف اندرونِ ملک پیدا نہیں ہو رہا بلکہ افغانستان اور بلوچستان کے راستے بڑی مقدار میں پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کے پرانے راستے اب جدید ٹیکنالوجی سے جڑ چکے ہیں، جہاں ترسیل تیز، خاموش اور نسبتاً محفوظ بنا دی گئی ہے۔

کوئٹہ کا حال بھی مختلف نہیں۔ وہاں کے ڈی آئی جی عمران شوکت کے مطابق تین ہزار سے زائد نشے کے عادی افراد کو بحالی مراکز میں علاج فراہم کیا جا چکا ہے، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئے متاثرہ افراد کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، جو ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔

اسلام آباد میں ہیلتھ سروسز اکیڈمی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شہزاد علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یونیورسٹی میں بعض طلبہ کا رویہ غیر معمولی، چڑچڑا اور جارحانہ ہو چکا تھا، جس پر باقاعدہ تحقیق اور مشاہدے کے بعد ان پر کام شروع کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سختی کرنے کے بجائے طلبہ کو گروپس کی صورت میں بلایا گیا اور ان کے ساتھ ویلنیس، ذہنی صحت اور زندگی کے مسائل پر کھل کر بات کی گئی، تاکہ وہ اپنی پریشانیوں کا اظہار کر سکیں اور نشے کی طرف جانے کے بجائے مثبت راستہ اختیار کریں۔

اسی سلسلے میں ڈاکٹر سعدیہ عظیم، ڈائریکٹر ہیلتھ کیئر، نے نشے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر کیسز میں بنیادی وجہ خاندانی مسائل ہوتے ہیں، جیسے والدین کے جھگڑے، گھریلو دباؤ، عدم توجہی اور مالی مشکلات، جو نوجوانوں کو ذہنی طور پر کمزور بنا دیتے ہیں۔

ان کے مطابق جب نوجوان کو گھر میں سکون، اعتماد اور سپورٹ نہ ملے تو وہ جذباتی خلا کو پُر کرنے کے لیے نشے کا سہارا لیتا ہے، جو ابتدا میں وقتی سکون دیتا ہے مگر بعد میں ایک خطرناک اور مستقل عادت بن جاتا ہے۔

ڈاکٹر سعدیہ عظیم کے مطابق ایسے مریضوں کے لیے صرف دوائی کافی نہیں ہوتی بلکہ باقاعدہ تھراپی، کونسلنگ اور خاندانی شمولیت بھی ضروری ہوتی ہے، تاکہ مریض جڑ سے اس مسئلے سے نکل سکے اور دوبارہ اسی دلدل میں نہ گرے۔

پشاور میں صورتِ حال اور بھی تشویشناک ہے، جہاں کھلے عام نشہ فروخت ہو رہا ہے اور کارخانو مارکیٹ جیسے علاقوں سے یہ مواد آسانی سے مل جاتا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ نشہ فروشوں کو عملی طور پر کوئی خوف باقی نہیں رہا۔

سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ آئس جیسے نشے اب یونیورسٹیوں میں عام ہو چکے ہیں۔ پہلے یہ صرف مخصوص طبقات تک محدود تھے، مگر اب تعلیم یافتہ، متوسط اور بظاہر مہذب گھرانوں کے نوجوان بھی اس کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔

لڑکوں کے ساتھ ساتھ لڑکیاں بھی اس نشے کا شکار ہو رہی ہیں، جو ہمارے معاشرے کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تشویشناک علامت ہے۔ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اقدار، خاندانی نظام اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بھی ہے۔

نشہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ پورے خاندان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ ماں باپ کی امیدیں، بہن بھائیوں کے خواب اور گھر کا سکون سب کچھ ایک شخص کی کمزوری کی وجہ سے آہستہ آہستہ ختم ہو جاتا ہے، اور کئی خاندان مالی طور پر بھی تباہ ہو جاتے ہیں۔

آئس جیسے نشے کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ یہ وقتی خوشی اور ذہنی سکون کا جھوٹا احساس دیتا ہے۔ نوجوان سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا ذہنی دباؤ کم ہو جائے گا، مگر حقیقت میں یہ نشہ یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور فیصلے کرنے کی قوت کو تباہ کر دیتا ہے۔

ڈاکٹرز کے مطابق آئس کا مسلسل استعمال ڈپریشن، بے چینی، ذہنی بیماریوں، دل کے امراض اور خودکشی کے رجحان میں خطرناک حد تک اضافہ کرتا ہے، جبکہ کئی کیسز میں مریض شدید وہم اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جگہ کوشش کر رہے ہیں، چھاپے بھی مارے جاتے ہیں اور گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں، مگر جب تک طلب اور سپلائی دونوں کو ایک ساتھ کنٹرول نہیں کیا جائے گا، صرف چند کارروائیوں سے یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہو سکتا۔

والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں پر صرف اعتماد نہ کریں بلکہ سمجھداری کے ساتھ ان کی دوستیوں، موبائل فون کے استعمال اور رویوں پر نظر رکھیں، کیونکہ اکثر ابتدا میں چھوٹی تبدیلیاں ہی بڑے خطرے کی نشانی ہوتی ہیں۔

تعلیمی اداروں کو بھی محض ڈگریاں دینے کے بجائے طلبہ کی ذہنی صحت، جذباتی مسائل اور سماجی دباؤ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا، اور مستقل کونسلنگ سسٹم قائم کرنا ہوں گے۔

بحالی مراکز کی تعداد بڑھانا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو نشہ چھوڑنا چاہتے ہیں مگر سہولت نہ ہونے کے باعث دوبارہ اسی راستے پر چلے جاتے ہیں، اور معاشرہ بھی انہیں قبول کرنے سے ہچکچاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ نشہ اکثر بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی تنازعات اور سماجی تنہائی کا نتیجہ ہوتا ہے، اس لیے اگر ریاست نوجوانوں کو روزگار اور مثبت مواقع فراہم کرے تو اس مسئلے کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔

اگر آج ہم نے اس خاموش قاتل کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل یہ پورے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دے گا، جہاں تعلیم بے معنی، ترقی ایک خواب اور انسانی رشتے کمزور ہو جائیں گے۔

کیا ہم صرف خبریں پڑھ کر خاموش رہیں گے یا واقعی اپنے گھروں، اداروں اور معاشرے کو بچانے کے لیے عملی قدم بھی اٹھائیں گے؟ کیونکہ یہ جنگ کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل اور بقا کی جنگ ہے۔