یہ کالم اُن مردوں کے طرزِ فکر پر ایک کڑا سوال ہے جو خود کو حاکم سمجھتے ہیں اور اپنی بیوی کو غلام بلکہ اس سے بھی کمتر تصور کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار عورتیں ایسی ہیں جو نہ صرف گھر کے کام کاج کرتی ہیں بلکہ مزدوری، نوکری، یوٹیوب، گھریلو بیوٹی پارلر اور دیگر ذرائع سے کمائی بھی کرتی ہیں، بچوں کو پالتی، سنوارتی اور مستقبل دیتی ہیں، گھر کا نظام چلاتی ہیں، کبھی گھر کا فرش ڈلواتی ہیں، کبھی کھڑکیاں لگواتی ہیں، کبھی شوہر کے گھر کی تعمیر کے لیے اپنے باپ کے گھر سے آدھی زمین کے پیسے لاتی ہیں، کبھی لوگوں سے مانگ کر شوہر کا گھر بنواتی ہیں، اور یہی نہیں بلکہ یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنی جیب سے پیسہ لگا کر اپنے شوہر کا نام بناتی ہیں، اس کی عزت بڑھاتی ہیں، اس کے لیے کاروبار کھڑا کرتی ہیں، اس کے شوروم، دکان یا کام پر سرمایہ لگاتی ہیں اور فخر سے کہتی ہیں کہ یہ میرے شوہر کی عزت ہے، یہ اس کا نام ہے، مگر افسوس کہ وہی شوہر ان قربانیوں کی قدر نہیں کرتا، اس محنت کو احسان سمجھنے کے بجائے اپنی مردانگی کا حق قرار دیتا ہے، اور جب عورت ذرا سا سوال کرے تو اسے طعنے، گالیاں اور بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہی عورت شوہر کے بہن بھائیوں اور ان کے بچوں کے لیے جوتے کپڑے لیتی ہے، ساس سسر کی خدمت کرتی ہے، شوہر کی بہن، اس کے شوہر اور داماد تک کے کام آتی ہے، مگر جب خود بیمار ہوتی ہے تو اپنا علاج بھی اپنے پیسوں سے کرواتی ہے، کیونکہ شوہر یا تو کماتا نہیں یا کمائے تو اپنی کمائی بہن بھائیوں پر لٹا دیتا ہے، بیوی بچوں کی پرواہ نہیں کرتا، اسے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کی گاڑی اس کی بیوی ہی کھینچ لے گی، سوال یہ ہے کہ یہ رویہ کب تک چلے گا، عورت کو غلام سمجھنے کی سوچ کب بدلے گی، اسلام نے تو شوہر کو نگہبان اور کفیل بنایا ہے، نان نفقہ اس کی ذمہ داری ہے نہ کہ بیوی کی، پھر اگر کوئی مرد یہ ذمہ داری پوری نہیں کر سکتا تو شادی کیوں کرتا ہے، بچے کیوں پیدا کرتا ہے، یہ کالم کسی ایک عورت یا ایک گھر کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کا اجتماعی المیہ ہے، اور یہ اُن عورتوں کو خراجِ تحسین ہے جو کماتی بھی ہیں، گھر بھی سنبھالتی ہیں، شوہروں کی عزت بھی خود بناتی ہیں اور پھر بھی انہی شوہروں کی بےحسی، ناشکری، ظلم اور تشدد سہتی ہیں، میں سمجھتا ہوں ایسی عورتیں ترس کی نہیں بلکہ سلام کی مستحق ہیں، کیونکہ وہ دریا کی مانند ہیں جو خاموشی سے سب کو سیراب کرتا ہے، مگر جب اس دریا نے بولنا سیکھ لیا تو بہت سے جھوٹے حاکم بہہ جائیں گے۔