کلر سیداں (راجہ محمد سعید‘نمائندہ پنڈی پوسٹ) مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق رکن قومی اسمبلی راجہ جاوید اخلاص نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں دو بیانیے ہیں نہ ہی گروپ بندی، مسلم لیگ (ن) پہلے سے بھی زیادہ منظم اور فعال ہے۔پاکستان کا ماضی سب کے سامنے ہیں، غلطیاں دیگر سیاستدانوں کیساتھ ساتھ ہماری لیڈر شپ سے بھی ہوئی ہیں،ہمیں ان غلطیوں سے اصلاح کا پہلو تلاش کرنا ہو گا۔امریکہ نے بھی تسلیم کیا ہے کہ امت مسلمہ میں پاکستان جیسی ایک ایسی قوت بھی ہے جس میں ایٹمی قوت کی صلاحیت موجود ہے اور وہ پوری امت مسلمہ کا دفاع بھی کر سکتی ہے اور اس کا تمام تر کریڈٹ ہمارے قائد میاں محمد نواز شریف کے سر جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلر سیداں میں جشن آزادی کے سلسلہ میں منعقدہ ایک بڑی تقریب سے خطاب کیا تھا۔تقریب کا اہتمام یوسی کنوہا کے وائس چیئرمین چوہدری شاہد اکبر گجر اور صوبیدار غلام ربانی نے کیا تھا جبکہ نظامت کے فرائض مسلم لیگی رہنما شیخ ندیم احمد نے ادا کئے۔سابق ایم این نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے مگر ظلم و جبر کی حکومت زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔میاں نواز شریف نے جماعت کے حق میں نہیں بلکہ ملک و قوم کے حق میں فیصلے کئے مگر اس کے باوجود حکومت کو غیر جمہوری طریقے سے گرایا گیا،اگر ہر ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو ملک میں سیاسی ٹکراؤ کی صورتحال ہی پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا ہے کہ بھارتی وزیر ان کی کال نہیں سنتے اور یہی وہ واضح فرق ہے سلیکٹڈ اور الیکٹڈ حکومتوں میں۔میاں نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی کا خاتمہ کیا، کراچی میں امن کی روشنیاں بحال کیں اور بلوچستان میں اڑھائی سال کی خانہ جنگی کے بعد ملک کے بہتر مفاد میں بلوچیوں کو حکومت بنانے کی دعوت دی حالانکہ وہاں ہماری حکومت بن سکتی تھی۔میاں نواز شریف نے کئی گنااضافی رقم دفاعی بجٹ کی صورت میں مختص کی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بطور وزیر اعظم ملک چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تاریخی منصوبے کو رول بیک کرنے کیلئے ایک سازش کے تحت مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ختم کیا گیا۔نواز شریف کی سی پیک میں دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا تھا کہ تمام کنٹریکٹر کمپنیوں کو ہدایت تھی کہ وہ ہر مہینے کی کارکردگی کی ڈراؤن کیمروں سے ویڈیو بنا کر یوٹیوب پر آپ لوڈ کرنے کی ہدایت تھی تا کہ وزیر اعظم نواز شریف خودکام کی پیش رفت کا جائزہ لے سکیں۔اگر مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم رہتی تو اب تک نہ صرف سی پیک منصوبہ مکمل ہو چکا ہوتا بلکہ ملک میں معاشی ترقی کیساتھ ساتھ بے روزگاری کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ آنے والا دور مسلم لیگ (ن) کا ہے اور انشاء اللہ تعمیر و ترقی کا سفر دوبارہ اسی جگہ سے شروع ہو گا جہاں سے تین برس قبل اسے روک دیا گیا تھا۔سابق ایم پی اے محمود شوکت بھٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشرقی سرحدوں پر گزشتہ کئی دہائیوں سے آزادی کی جنگ لڑی جا رہی ہے مگر ہمارے یہاں آزادی جیسی نعمت کیساتھ نہ صرف کھلواڑ کیا جار ہا ہے۔ملک ایسی ماں ہے جو 22 کروڑ عوام کو پال رہی ہے مگر 22 کروڑ عوام آج اپنی اس ماں دھرتی کوگدھ بن کر نوچ رہی ہے۔اگر ہم اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں تو قائد اعظم کی روح تڑپ رہی ہو گی۔افسوس ہم نے آزاد کی قدر نہیں کی جس کی وجہ سے ہم آج تنزلی کا شکار ہیں۔آزادی کی نعمت کو ہم نے صرف کیک کاٹنے کی ایک رسم تک محدود کر لیا ہے،ہماری محب الوطنی صرف سوشل میڈیا تک رہ گئی ہے۔ہمیں ملک بدلنے کے لئے پہلے اپنی ذات اور سوچ کو بدلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 70برس ضائع کر دہئے ہیں اگر ملک سے وفاداری کرنی ہے تو اپنی آنکھیں کھولنی ہونگی۔تقریب سے ضلعی کوارڈینیٹر جاسم کنول راہی،سٹی صدر چوہدری اخلاق حسین،محمد ظریف راجا اور تحصیل صدر عبدالغفار چوہدری نے بھی خطاب کیا۔چیئرمین چوہدری صداقت حسین، ماسٹر پرویز اختر قادری،راجہ ندیم احمد،چوہدری محمد نوید بھٹی،چوہدری شاہد اکبر گجر،صوبیدار غلام ربانی،تنویر بھٹی ناز،شیخ حسن سرائیکی،چوہدری زین العابدین عباس،راجہ افتخار پکھڑال،شیخ توقیر احمد، راجہ ظفر محمود،تنویر شیرازی،راجہ عاصم صدیق،چوہدری شفیق احمد اور محمد عبداللہ سیٹھی بھی اس موقع پر موجود تھے۔تقریب کے اختتام پر آزادی کیک بھی کاٹا گیا۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.