پروفیسر محمد حسین
جو نقشہ اس وقت مشر ق وسطی میں بنتانظر آرہا ہے وہ اگردرست ثابت ہو گیا تو یہ صرف ایک جنگ نہیں ہو گی بلکہ پورے خطے کی تقدیر بدل دینے والا مرحلہ ہو سکتا ہے. پچھلے چند دنوں میں جو خبریں سامنے آرہی ہیں اُن سے پتہ چلتاہے کہ جنگ اب صرف میزائلوں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب تیل کے ذخائر، ریفائنریاں اور پانی کے پلانٹس نشانہ بن رہے ہیں
یعنی وہ بنیادی وسائل جن پر پوری قوموں کی زندگی کے قائم ہو نے کا دارومدار ہے ایک طرف امریکہ اور اسرائیل، ایران کے اندر توانائی کے مراکز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دوسری طرف ردعمل میں ایران، اسرائیل اور خلیج کے علاقوں میں حملوں کی خبریں آرہی ہیں جن میں بحرین کے آئل ٹینکرزاور پانی کے پلانٹس تک کا ذکر ہو رہا ہے.
سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا فائدہ آخر کسِ کو ہو گا؟اگر ہم پورا منظر نامہ دیکھیں تو ایک خطرناک حقیقت سامنے آتی ہے جنگ کا رخ آہستہ آہستہ بدل رہا ہے ابھی تک یہ ایران مقابلہ اسرائیل جنگ دکھائی دے رہی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سب سے بڑی سیاسی چال نظر آتی ہے جب مسلمان آپس میں لڑتے ہیں تو دشمن کو کچھ کر نے کی ضرورت نہیں رہتی
ادھر نیتن یا ہو اپنی سیا سی بساط بچھا رہا ہے اور ا دھر ڈونلڈٹرمپ اور دیگر مغربی حلقے عرب دنیا کو مزید ہلہ شیری دے رہا ہے اب ذرا پورے کھیل کے ممکنہ مر احل پر غور کیجئے یعنی خطے میں کشیدگی بڑھاتے جا ؤ اور چھوٹے چھوٹے حملوں کے ذریعے جنگ کو پھیلاتے جا ؤ
ایران اور عرب ممالک کو براہ راست یا بالواسطہ جنگ میں الجھاتے جا ؤ تاکہ توجہ اسرائیل سے ہٹ جا ئے جب پورا خطہ عدم استحکا م کا شکا ر ہو جائے تو امریکہ سمیت مغربی طاقتیں واسرائیل اس کے محافظ بن کر میدان میں آجا ئیں یہ کو ئی نئی حکمت عملی نہیں ہے یہی ماڈل آپکے عراق لیبیا اور افغانستان میں استعمال ہو چکا ہے.
اس لئے سوال یہ اٹھا یا جا رہا ہے کہ کیا اس تمام کھیل کا آخری مقصد وہی پرانا خواب ہے جسے گر یٹر اسرائیل کہا جا تا ہے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کھیل میں صر ف بیرونی طا قیتں ہی نہیں بلکہ خو د مسلما ن قیا دت بھی بعض اوقات غیر دانشمندانہ فیصلو ں سے اس منصوبے کو آکسان بنا دیتی ہے ایران اگر عر ب ممالک کے شہروں یا تنصیبات کو نشانہ بنا تا ہے تو وہ دراصل اسی بیا نیے کو مضبو ط کر تا ہے جس کی اسرائیل کو ضرورت ہے اور اگر عر ب ممالک بھی جذبات میں آکر اسی راستے پر چل پڑتے ہیں تو وہ بھی اس جا ل میں قدم رکھ دیتے ہیں یعنی نتیجہ ایک ہی ہو گا مسلمان کا خون۔۔۔۔ مسلمان کے ہا تھ
پھر جب خطہ کمزور ہو جا ئے گا معیشت تباہ ہو جا ئے گی اور ریاستیں اندرونی بحران میں پھنس جا ئینگی تو پھر عالمی طاقتیں امن کے نا م پر مداخلت کریں گی اور تاریخ بتائی ہے کہ ایسی مداخلتیں کبھی صرف امن کے لئے نہیں ہو تیں یہی وجہ ہے کہ آج سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان تاریخ کچھ سبق سیکھیں گے؟
یا ایک با ر پھر وہی غلطی دہرائیں گے؟قرآن ایک اصول دے رہا ہے کہ آپس میں جھگڑا نہ کر و ورنہ تم کمزور ہو جا ؤ گے اور تمہاری طاقت ختم ہو جا ئے گی، آج اگر ایر ان اور عر ب دنیا اس حقیقت کو نہ سمجھ سکئے تو نقصان کسی ایک ملک کا نہیں ہو گا بلکہ پوری امت مسلمہ کا ہو گا اور دشمن یہی چاہتاہے ذرا سوچئیے کہ آج امت مسلمہ کس حال میں ہے اور اس کی کمزوری اور بے بسی کا اصل ذمہ دار کون ہے؟
آج بکھری ہو ئی امت کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ اسی خطے میں ایک ایسا دور بھی تھا جب عرب اور عجم کے اتحاد سے وائٹ ہاؤس اور تل ابیب کے ایو انوں میں زلزلے آجا یا کر تے تھے اور آج حال یہ ہے کہ اگر اسرائیل کی جرات اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ ایران سے ہو تا ہو ا پاکستا ن کی سرحدوں تک نظر یں جمائے ہو ئے ہے تو اس کے پیچھے ایک ہو چی سمجھی اندرونی بربادی کی داستان ہے
آئیے تا ریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ ہم کہاں تھے کیا ہو ا اور آج اسرائیل ہمارے دروازے تک کیسے پہنچ گیا؟ ذرا 1979کے انقلا ب سے پہلے کا منظر نا مہ یا د کیجئے یہ وہ وقت تھا جب عالم اسلام کا رعب دنیا تسلیم کر تی تھی اس وقت عراق عرب دنیا کا سب سے مضبوط فوجی قلعہ تھا شام اور مصر دفاعی اعتبار سے اتنے خود مختار تھے کہ خطے میں طاقت کا توازن ان کے ہا تھ میں تھا اور لیبیا اور لبنان معاشی وثقافتی خو شحالی کے مر اکز تھے
وہ دور بھی یاد کیجیئے جب سعودی عر ب کے شاہ فیصل کا ایک اشارہ عالم اسلام کی قسمت کا فیصلہ کر تا تھا 1973کی جنگ میں جب عربو ں بے اسرائیل کی حمایت کر نے والے ممالک کے لئے تیل کی سپلائی بند کی تو پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر لگیں امر یکہ اور یورپ کی سڑکوں پر گاڑیا ں کھڑی ہو گئیں اور مغرب کو پہلی بار احساس ہو اکہ اسلامی رعب کیا ہو تا ہے یہ وہ دور تھا جب عالم اسلام اپنے وسائل پر خود مختار تھا اور دشمن کو معاشی طور پر مفلوج کر نے کی طاقت رکھتا تھا پھر صدام حسین کے دور کا عراق عرب دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت تھا اسرائیل کو ڈر تھا تو صر ف عراق کے میزائلوں اور اس کے ایٹمی پروگرام سے جسے بعد میں اسرائیل نے تباہ کیا اور شام ومصر یہ وہ ممالک تھے جو فرنٹ لائن سٹیٹس کہلاتے تھے
اسرائیل کی مجال نہ تھی کہ وہ آج کی طرح لبنان و شام میں گھس کر بمباری کرے اسرائیل اس وقت ایک چھوٹے سے؟جزیر ے کی طرح تھا اس کی مجال نہ تھی کہ وہ عرب ممالک کی سرحدوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ بغداد سے دمشق اور قاہرہ سے کر اچی تک پوری امت مسلمہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے اس سلسلے کا سب سے درفشاں باب 1974کا لاہو ر سربراہی اجلاس تھا جس کی میزبانی ذوالفقار علی بھٹو نے کی تھی اس اجلاس کا واجد اور پڑا مقصد مسلم اتحاد اور فلسطین کی آزادی کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل تیا ر کر نا تھا اس تا ریخی مو قع پر لا ہو ر کی سڑکوں نے وہ منظر دیکھا جو پھر کبھی نصیب نہ ہوا
ایک طرف شاہ فیصل کی جارت تھی اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو کی فصا حت ایک طرف مصمی قذافی کا جو ش تھا تو دوسری طرف یا سر عرفات، صدام حسین اور انور سا دات جیسے قد آور لیڈران ایک ہی صف میں کھڑے تھے اُس وقت ان لیڈروں کا پو ری دنیا اور با لخصوص اسرائیل پر ایسا رعب اور دبدبہ تھا کہ وائٹ ہا ؤس سے تل ابیب تک لرزہ طاری تھا دشمن مغرب اور اسرائیل اس اجلاس میں مسلمانو ں کا اتحاد اور ان کے وسائل تیل پر گرفت اور ان کے رعب کو دیکھ کر لرز گیا تھا
لا ہو ر اجلاس کے ایک سال بعد عالم اسلام کے سب سے بڑے لیڈر اور تیل کے ہتھیار کو کا میا بی سے استعمال کرنے والے شاہ فیصل کو اُن کے اپنے ہی بھتیجے کے ہا تھو ں شہید کر وادیا گیا یہ ایک ایسا زخم تھا جس نے مسلم دنیا کو اس کی سب سے توانا آواز سے محروم کر دیا
شاہ فیصل کا شہید ہونا اس اتحاد کی کمر ٹوٹنے کے مترادف تھا اس کے بعد اجلاس کے میزبان اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو اندرونی خلغشار اور بیرونی سازش کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا اور بالآخر 1979میں پھانسی دے دی گئی
امریکہ کے اُس وقت کے وزیر خارجہ بندی کسنجر نے بھٹو کو دھمکی دی تھی کہ ہم تمہیں ایک عبرتناک مثال بنا دیں گے،،اور انہوں نے ایسا ہی کیا اُسی سال 1979میں ایرا ن میں خمینی کا انقلاب آیا اور یہاں سے منظر بدلنا شروع ہوا ایران نے بجائے اس کے کہ شاہ فیصل اور بھٹو کے ادھورے مشن اسلامی اتحاد کو آگے بڑھاتا اپنی صدور انقلاب کی سیا ست کے نام پر پر عرب ممالک اور پڑوسیوں میں مداخلت شروع کر دی جس نے امت مسلمہ کے اتحاد کی جگہ انتشار فرقہ واریت پیداکر دیا
1979کے بعد ایران عراق جنگ چھڑگئی آٹھ سال تک دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف لڑکر برباد ہوئیں ایران نے شام ولبنان میں اپنی پراکسیز کھڑی کیں جس سے ان ریاستوں کا دفاعی نظام مفلوج ہوا شام میں جب بشارالاسد کی کر سی ڈگمگائی ایران نے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہاکر اسے بچالیا مگر شام کو کمزور کر دیا اور آج اسرائیل وہاں روزانہ بمباری کر تا ہے۔ 2003-04میں جب عالمی سطح پر ایراں کے خفیہ ایٹمی پروگرام پر دباؤ بڑھا اور آئی اے ای اے نے سوالات کئے تو ایران نے پاکستان کا نام بلیک مارکیٹ اور غیر قانونی سپلائر کے طور پر پیش کیا جس سے پاکستا ن کے محسن ڈاکٹرعبدالقدیرخان شدید ذہنی اذیت سے گزرے یعنی آج اسرائیل کی جرات اس لئے ہے کہ ایران نے عالم اسلام کے جسم کواند ر سے زخمی کر دیا اور اب بیرونی حملوں کا مقابلہ کر نا مشکل ہو گیا ہے
یہ بحث اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی نسل نوکو حقیقت دکھا سکیں تاکہ فکری طور پر اُن لوگو ں کو اپنا رہنما نہ مان لیں جو در حقیقت اپنے مفاد کے لئے اپنوں کے خون پر مبنی سیاست کر تے ہیں بالکل ویسے جیسے کو فیوں نے تاریخ میں کیا تھا۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.