راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے لیاقت باغ سے چاندنی چوک تک مری روڈ کو کشادہ کرنے کے منصوبے میں اہم تبدیلیاں کر دی ہیں، جس کے تحت سڑک کی چوڑائی دونوں اطراف 15 فٹ سے بڑھا کر 20 فٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نظرِ ثانی شدہ منصوبے کے بعد اس کی مجموعی لاگت 8 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
آر ڈی اے کے ایک سینئر افسر کے مطابق منصوبے میں ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور رش کم کرنے کے لیے دونوں اطراف سروس لینز بھی شامل کی گئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں ضلعی انتظامیہ کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی ہیں اور منصوبہ پنجاب سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) کے تحت دوبارہ منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔
منصوبے کے لیے مجموعی طور پر 48 کنال اراضی درکار ہوگی، جس میں سے تقریباً 17.7 ارب روپے زمین کے حصول پر خرچ کیے جائیں گے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد مریر چوک سے فیض آباد تک مرکزی شاہراہ کو سگنل فری بنایا جائے گا، جس سے ٹریفک کی گنجائش میں نمایاں اضافہ اور شہری آمد و رفت میں بہتری متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ چاندنی چوک سے فیض آباد تک سروس لینز پہلے ہی موجود ہیں، تاہم نئی لینز کے اضافے سے ٹریفک کا دباؤ مزید کم ہو جائے گا۔ زمین کے سروے کا عمل جاری ہے اور صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی منظوری کے بعد تعمیراتی کام کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔
دریں اثنا، پنجاب ADP میں دو نئے پارکنگ پلازہ منصوبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اسپتال میں تین منزلہ پارکنگ پلازہ تعمیر کیا جائے گا، جس میں 480 گاڑیوں کی پارکنگ کی سہولت ہوگی، جبکہ کمرشل مارکیٹ میں پانچ منزلہ پارکنگ پلازہ بنایا جائے گا، جس میں 700 گاڑیوں کی پارکنگ کے ساتھ 100 کمرشل دکانیں بھی قائم کی جائیں گی۔
حکام کے مطابق نظرِ ثانی شدہ مری روڈ توسیعی منصوبہ راولپنڈی کی مصروف ترین شاہراہ پر ٹریفک مسائل کم کرنے اور شہری انفراسٹرکچر کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.