
ضلع اٹک، تحصیل پنڈیگھیب کی یونین کونسل چکی میں واقع قدیمی گاؤں امن پور آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ گاؤں میں کم از کم 600 گھر آباد ہیں جبکہ ووٹرز کی تعداد 2500 سے تجاوز کر چکی ہے، مگر اس کے باوجود گاؤں آج تک پختہ سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔گاؤں کے رہائشی اور سماجی شخصیت ملک ممریز خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گاؤں میں نہ تو کوئی سرکاری ڈسپنسری موجود ہے اور نہ ہی بچوں اور بچیوں کے لیے سرکاری اسکول فعال ہیں۔ ان کے مطابق جو سرکاری اسکول پہلے موجود تھے، انہیں بھی پختہ سڑک نہ ہونے کے باعث نجی تحویل میں دے دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ گاؤں کو ملانے والا واحد راستہ کچا ہے جو بارش کے دوران مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے، جس کے باعث امن پور کا دیگر جڑواں شہروں سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔

ملک ممریز خان کے مطابق اگر کسی مریض کو ایمرجنسی میں تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال لے جانا ہو تو خراب راستے کے باعث مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔گاؤں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ہر الیکشن میں حلقے کے ایم این اے اور ایم پی اے ووٹ لینے آتے ہیں، عوام کو وعدوں اور تسلیوں کے سوا کچھ نہیں ملتا اور مسائل آج تک حل نہیں ہو سکے۔امن پور کی عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف،عزت مآب ایم این اے ملک سہیل خان کمڑیالاور عزت مآب ایم پی اے نوابزادہ چوہدری شیر علی خان سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گاؤں کی پختہ سڑک کا دیرینہ مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اپنے دورِ حکومت میں عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور خصوصاً سڑکوں کے انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دے رہی ہیں۔ مختلف اضلاع میں سڑکوں، رابطہ سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی بہتری کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ امن پور کی عوام کو امید ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب اس گاؤں کے مسئلے پر بھی خصوصی توجہ دیتے ہوئے فوری عملی اقدام کریں گی۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر سڑک پختہ ہو جائے تو نہ صرف تعلیمی اور طبی سہولیات تک رسائی ممکن ہو گی بلکہ گاؤں کی مجموعی ترقی بھی ممکن ہو سکے گی۔امن پور کے مکینوں نے حکومت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین انسانی مسئلے کا فوری نوٹس لے کر عملی اقدامات کرے۔