یہ آج کوئی تیسری جگہ تھی جہاں سے گل خان کوکام نہیں ہے کا جواب ملا تھا۔ وہ ایک جو ان بہن، دو چھوٹے بہن بھا ئی اور بیمار ماں کا واحد سہارا تھا، والدکا سایہ ایک سال پہلے سر سے اٹھ چکا تھا اور ما ں بھی اپنی بیماری اور جو ان بیٹی کی فکر کی وجہ سے وقت اور عمر سے پہلے لاغر ہو چکی تھی۔وہ محض چار کلاس پاس تھا ا ور کوئی ڈھنگ کا ہنر بھی نہ آنے کی وجہ سے گھر کی دال روٹی چلانے کے لئے مجبورا ا س نے محنت مزدوری شروع کردی تھی مگرآج تین دن ہو گئے تھے سنگلاخ اور خشک پہاڑوں کے درمیان اسے کوئی مزدروی بھی نہیں ملی تھی۔
گل خان آج بھی کئی جگہوں پر کام لینے کے لئے گیا تھا مگر ہر طرف سے مایوس لوٹا تھا۔آخر ی جگہ وہ توتا خان سے ملا تھا اس نے اسے اپنی مجبوری اور گھرمیں جاری کئی روز کے فاقو ں کے بارے میں بھی بتایامگر توتا خان نے اسے نہایت حقارت سے دھتکاردیاتھا تمہارے گھر میں فاقے ہیں تو جاؤ چوری کرو ڈاکے ڈالو مگر میراٹیم ضائع مت کرو۔
توتا خان کی باتیں گل خان کے دل ودماغ پر ہتھوڑے بر سار رہی تھیں، وہ غصے سے بھرا ہوا تھا اسے اپنی چھوٹی بہن نادی یاد آنے لگی۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ہر روز کی طرح آج بھی اس نے گڑیالانے کی فرمائش کی تھی، اس کے چھو ٹے بھائی یاسر نے کھلونا نما ٹرک لانے کو کہا تھا۔ بڑی بہن شازی بھائی کی مجبوری سمجھتی تھی اس لئے خاموش ر ہتی تھی مگر گل خان جا نتا تھا کہ اب بہن کی خامو شی میں خوشی کے گیتوں کا رس گھولنے کی ضرورت تھی اب اسے لال جوڑا پہنانے کے دن تھے، بیمار ماں نے کبھی دوائی کے لئے اصرار نہیں کیا تھا مگر اس کے کمزور جسم اور ویر ان آنکھوں میں چھپا جو ان بیٹی کا غم ہر روز گل خان کو کوئی اچھی خبر لانے کا پیغام دتیا تھا
گل خان گھر کے حالات اور کا م نہ ملنے کی وجہ سے پر یشان تو پہلے سے ہی تھا اوپر سے توتا خان کی باتوں نے اسے سخت اشتعال دلا دیا تھا۔ راستے میں اسے رفیق افغانی ملا وہ کالے رنگ کی پجیرو میں بہت خوش لگ رہاتھا، گل خان کبھی اسکے ساتھ مزدوری کرتا رہا تھا اور ان کا ایک دوسرے کے گھر آناجانا بھی تھا اس نے پجیرو گل خان کے پاس روکی اوراس کے اتر ے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا، گل خان! میری با ت ما ن لو بھائی۔۔۔ میں تمہارا دوست
ہو ں دشمن نہیں۔خدا قسم، لالی استاد تمھارے سارے مسئلے حل کر دے گا، ماں کا علاج بھی ہو جا ئے گا اور شازی کی شادی بھی ہو جائے گی۔
شازی کے خیال نے گل خان کو جیسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اسے اپنی ماں کی غمناک آنکھیں یاد آنے لگیں جو بیٹی کو شادی کے لباس میں دیکھنے کی ہر وقت آروزکرتی تھیں اسے نادی کا خیال ستانے لگا جو روز اس سے گڑیالانے کی فرمائش کرتی تھی پھر یاسرکا ٹرک نما کھلونا ور شازی کی خو اہشوں پر چھائے ناامیدی کے سائے اسکی آنکھوں کے سامنے تیرنے لگے۔ اسے حاجی لالہ دکاندار کا خیال آیاجو ایک مہینے تک پیسے نہ ملنے کی صورت میں گھر کا سامان نیلام کرکے پیسے وصول کرنے کی دھمکی دے گیا تھا، پھرتوتا خان کی جلی کٹی باتیں اس کے ذہین میں گونجنے لگیں۔گل خان انہی خیالوں میں گم تھاکہ رفیق نے اسے جھنجھوڑا کیوں بھئی کیاخیال ہے؟
ٍلالی استاد سرحد پار ملک د شمن تخریب کار عناصرکاآلہ کار تھا۔اس نے گل خان کو اپنے گینگ میں آنے پر خوش آمدید کہااور رفیق سے کہا لڑکا سمجھدار ہے اس کو کام پر رکھ لو۔پھراس نے گل خان کو بیس ہزار روپے دیئے اورکہا:یہ رکھ لو ضرورت پڑنے پر اور لے لینااور پھر اس نے رفیق سے کہااسے سمجھادینااس کام سے واپسی کاکوئی راستہ نہیں ہوتا۔تخریب کاری کا ناسور گل خان کواندرہی اندر کچو کے لگارہاتھامگر پھر اس نے سوچا اس ظالم اور بے حس دنیاکو بم دھماکوں سے ہی اڑادینا چاہئے۔
آج گل خان بہت خوش تھا کیونکہ وہ گھر والوں کے لیے ڈھیر سارا راشن لے کرآیاتھانادی اپنی گڑیا کو پاکر خو شی سے پھو لے نہ سمارہی تھی یا سر اپنا کھلونا لے کر بہت مسرورتھا، ماں کی آنکھوں میں خوشیوں کی چمک واپس لوٹ آئی تھی تمام قرض خواہوں کا قرض اترچکاتھا اور شازی کو خواب پورے ہو نے کی امیدبھی پیداہوگئی تھی۔ گل خان نے باقی کے روپے ماں کو دے دیئے اور کہنے لگاانہیں سنبھا ل کر رکھ لو مزید پیسے اکٹھے کرکے شازی کا جہیزبنائیں گے۔ اتنے سارے روپے گل خان یہ تو کہاں سے لایاہے کہیں۔۔۔؟ نہیں ماں چوری نہیں کئے، گل خان نے ما ں کے منہ کی بات اچک لی۔ تو پھر کہاں سے لئے ہیں؟ ماں نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ما ں!مجھے
ایک فیکٹری میں نوکر ی مل گئی ہے اور یہ پیسے لالہ نے ایڈ وانس دیے ہیں۔
نوکر ی ملنے کے بعد ا ب گل خان کے حالات بہترہوگئے تھے،چھ ماہ بعد ہی وہ اس قابل ہو گیاتھاکہ اپنی بہن کو بیاہ سکے آج ماں نے گل خان سے کہابیٹاآج بہن کے جہیزکی خریداری کے لئے تمہیں میرے ساتھ بازار چلناہے۔ مگرمجھے تو آج فیکٹری میں بہت ضروری کام ہے۔ ماں تم ایسے کرنا شازی کو ساتھ لیتی جانا اپنی پسندکی چیزیں خود لے لے گی اور ہاں نادی اور یاسر کو بھی لیتی جانا وہ بھی بازار گھوم پھر آئیں گے۔ گل خان نے جواب دیا۔
کام ختم کرکے گل خان جلدہی سے گھر واپس آگیا، دروازے پر دیکھاتو تالاپڑاہو ا تھا، پڑوسیوں سے پوچھنے پر پتہ چلاکہ گھر والے بازار گئے ہوئے ہیں۔ بازار کا نام سنتے ہی گل خان کے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین نکل گئی، آج بازار میں تو وہ اپنا کام کر کے آیا تھا، وہ کا نپ کررہ گیا اور اندھا دھندبازار کی طرف دوڑنا شروع کر دیا، زمین نے جیسے اس کے پاؤں پکڑلئے، اس کا دل کس انجانے خو ف سے دھک دھک کرنے لگا، اسے اپنے قدم ایک ایک من محسوس ہو نے لگے اس نے بھاری قدمو ں سے ہی دوڑ جاری رکھی۔ ابھی وہ بازار کے ایک کارنر پر ہی پہنچا تھا کہ اسے
ایک زرودار دھما کے کی آواز سنائی دی، وہ بے اختیار اس دکان کی طرف بھاگا جس کے نیچے اس نے بم رکھا تھا دور سے ہی اسے چیخ وپکار اور آہ بکا کی آوازیں آنے لگیں اس کی چھٹی حس اسے کسی انہونی سے آگاہ کر ر ہی تھی اس کے دل کا چوراسے کسی خطرے کا احساس دلا رہا تھا وہ دھماکے کی جگہ پہنچا تو دیکھا ہر طرف لاشوں کے ڈھیر لگے ہو ئے تھے، اس کا دل زور زور سے دھڑ کنے لگا اور پھر اس کا ا و پر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا جلی ہو ئی دکان کے ایک سائیڈ پر ایک ادھ جلی لا ش اس کی ما ں کی پڑی تھی،پیادیس کے خواب دیکھنے والی شازی، گڑیاسے کھیلنے والی معصوم نادی اور یاسر کئی کئی حصوں میں دور دور تک بکھر ے پڑے تھے۔گل خان یہ منظردیکھ کر آپے سے باہر ہو گیا وہ پاگلوں کی طرح اپنا سردیواروں سے ٹکرانے لگا وہ دیوانہ دار چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا میں تمہارا قا تل ہو ں۔۔ہا ں ہاں میں نے ہی تم سب کو قتل کیا ہے۔ اس کے سامنے سرخ خون سے لال ہو نے والے جلے سڑے جوڑے میں بے جان شازی کی لا ش پڑی تھی جو اس سے کہہ رہی تھی بھیا میں نے تو تم سے سرخ جوڑے میں پیادیس جانے کی خواہش کی تھی۔